سبق نمبر 32: غزل: مل کے بیٹھے نہیں، کوابوں میں شراکت نہیں کی، تشریح، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر: ۳۲
  • غزل: مل کے بیٹھے نہیں، کوابوں میں شراکت نہیں کی
  • شاعر: ظفرؔ اقبال
  • ماخوذ:

شاعر کا تعارف:

اوکاڑہ میں پیدا ہونے والے ظفر اقبال کی شاعری کا سفر نصف صدی سے زیادہ ہے ۔ ابتدا میں وہ غزل کی روایات کے کبھی قریب اور کبھی دور ہوئے۔ آخر کار غزل کی روایات کے سحر سے آزاد ہو گئے لیکن اس سفر میں انھیں کڑے مراحل سے گزرنا پڑا ، اُردو ادب کا عام قاری اور تخلیق نگار اُردو غزل کی روایات کا ایسا اسیر ہے کہ وہ اس طلسمی فضا سے باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ گزشتہ صدیوں میں حالی اور انشاء نے غزل کی روایات کو توڑنے کی کوشش ضرور کی لیکن اس کوششوں کی بنا پر غزل میں کیا تبدیلی آتی، اُردو غزل میں حالی اور انشا اپنے مقام سے محروم ہو گئے۔

ظفر اقبال کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے غزل کی صدیوں پرانی روائتی فضا اور غزل کی موروثی جمالیات کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اس لیے ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے اُنھیں بجا طور پر بیسویں صدی کا ادبی مرتد اور روایتی غزل کی غلامی سے آزاد ہونے والا پہلا شاعر کہا ہے۔
مجموعہ ہائے کلام:تمجید، تقویم، تشکیل، تجاوز، توارد، تساہل، آب رواں، گلافتاب، ہٹے ہنومان، رطب و یاس، اب تک (کلیات)۔

مل کے بیٹھے نہیں، خوابوں میں شراکت نہیں کی
اور کیا رشتہ ہو تجھ سے جو محبت نہیں کی

تشریح:

درج بالا شعر ظفر ؔاقبال کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ظفر ؔاقبال اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب تجھے میری زرا فکر اور پروا نہیں ہے، میں کس طرح زندگی کے روز و شب گزارتا ہوں کبھی تو نے میرا حال أحوال دریافت نہیں کیا۔ کبھی تمہیں اتنی فرصت میسر نہیں ہوئی کہ تو میرے پاس آکر بیٹھے اور مجھ سے اپنے خوابوں کاتذکرہ کرے۔تم میرے ساتھ رسمی طور پر بھی کوئی تعلق نہیں نبھاتے نہیں محبت تو بہت دور کی بات ہے۔

یہیں پھرتے ہیں شریف آدمیوں کی صورت
دشت میں خاک اڑائی نہیں، وحشت نہیں کی

تشریح:

درج بالا شعر ظفر ؔاقبال کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ظفر ؔاقبال کہتے ہیں کہ اے میرے بے پروا محبوب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تو مجھ سے خوف زدہ ہے۔ تو مجھ سے رسمی طور پر بھی تعلق نہیں نبھاتے کیوں کہ تمہیں ڈر ہے کہ میں تمہاری محبت میں سرشار ہوکر مجنوں کی طرح دشت میں خاک اڑاتا نہ پھروں کہ جس سے تمہاری توقیر پر حرف آئے۔ بلکہ میں تو شریف آدمی ہوں محفل محافل میں نشست کرنے والا ہوں مجھ سے ایسی دیوانگی اور وحشت کا خوف مت کھاؤ۔

خاص ہم سے تو کوئی تھا ہی نہیں تیرا سلوک
اور، ہم نے بھی تیرے ساتھ رعایت نہیں کی

تشریح:

درج بالا شعر ظفر ؔاقبال کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ظفر ؔاقبال کہتے ہیں کہ اے محبوب! تم نے ہر کسی کو مجھ سے زیادہ اہمیت دی ہے، ہمیشہ مجھے نظر انداز کیا جس سے مجھے دکھ ہوا تھا، میں نے بے رخی کے سلوک کو محسوس کیا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے بھی جیسا سلوک روا رکھا گیا تھا ویسا ہی رویہ میں نے اپنا لیا۔

پوچھ لیتے کبھی تیرا بھی ارادہ تجھ سے
ہم نے چاہا تو کئی بار تھا، ہمت نہیں کی

تشریح:

درج بالا شعر ظفر ؔاقبال کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ظفر ؔاقبال کہتے ہیں کہ میں نے بہت بار ہمت جمع کر کے ارادہ کیا کہ تم سے الفت و وفا کے متعلق سوال کروں مگر میں نے ہر بار ہی اپنا ارادہ ترک دیا تھا۔ میں نے چاہا کہ تمہاری رائے اور خیالات دریافت کروں مگر ہر بار مجھے کسی بے کسی انجانے سے خوف نے مجھے روک دیا۔ گویا ہر بار بات لبوں پر آئی مگر ادا نہیں ہوئی۔

بہت اچھا بھی لگا تو، ہمیں اس محفل میں
ہم نے دانستہ وہاں تیری حمایت نہیں کی

تشریح:

درج بالا شعر ظفر ؔاقبال کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ظفر ؔاقبال کہتے ہیں کہ ہم جس محفل میں شریک تھے مجھے اس محفل میں بہت راحت ملی ۔ تم اس محفل میں بہت منفرد اور حسین لگتے تھے میں تو تمام لوگوں میں تمہاری جانب ہی تکتا رہا تھا۔ مگر وہاں میں نے محبوب کی حمایت اس لیے نہیں کہ اسے شاید یک طرفہ إقرار نہ سمجھ لیا جائے اور دونوں ہو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔

ظرف اتنا بھی کشادہ نہیں اپنا، لیکن
ہم نے، پیدا بھی ہوئی ہے تو شکایت نہیں کی

تشریح:

درج بالا شعر ظفر ؔاقبال کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ظفر ؔاقبال کہتے ہیں کہ میں بہت ہی سادہ اور عام سا انسان ہوں میں اپنے آپ کو وسیع القلب ظاہر نہیں کرتا کہ جس کے ظرف کی مثالیں زمانہ دے ۔ البتہ میں ایک عام انسان ہوں اور مجھے تمہارے عمل سے عموماً شکایت بھی ہوتی ہے۔ جسے میں بڑی مہارت سے چھپا دیتا ہوں کبھی سامنے سے تمہاری شکایت یا گلہ نہیں کرتا بلکہ خندہ پیشانی سے اسے برداشت کرتا ہوں۔

ہو رہا ہے جو، اسی طرح سے ہونا تھا یہاں
اس لیے ہم نے کسی بات پہ حیرت نہیں کی

تشریح:

درج بالا شعر ظفر ؔاقبال کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ظفر ؔاقبال کہتے ہیں کہ اے محبوب تمہاری بے رخی مجھے البتہ گراں گزرتی ہے مگر میں اس پر زیادہ آہ و فغاں نہیں بھرتا۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ عشق کے میدان میں ہمیشہ عاشق رسواہوتا رہا ہے۔ یہی میرے ساتھ بھی ہو رہا ہے جو کہ کوئی نئی بات نہیں تو میں اس کا زیادہ چرچا نہیں کرتا۔

جو میسر ہوا، تھا وہ بھی زیادہ کہ ظفر ؔ
جو ملا ہی نہیں، اس کی کبھی حسرت نہیں کی

تشریح:

درج بالا شعر ظفر ؔاقبال کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ظفر ؔاقبال کہتے ہیں کہ اے محبوب! جو کچھ تم نے مجھے عطا کیا ہے، یعنی اپنی موجودگی کو میرے لیے میسر رکھا بھلے اس میں تمہارا رویہ مجھ سے اچھا نہیں تھا تم نے مجھ سے برا سلوک روا رکھا پھر بھی میں تم سے یہی کہوں گا کہ تم نے مجھے یہ سب دے کر بھی بہت کچھ دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر میں کسی چیز کا تقاضا کروں گا نہ گلہ بس جتنا میری قسمت میں تھا وہ ملا جو نہیں تھا اس کا ملال بھی نہیں۔

مشق

سوال نمبر ۱: اس غزل کا مطلع اور مقطع کی تشریح کریں:

جواب: ایضاً

سوال نمبر ۲: اس غزل کے کس شعر میں صنعت مراعاۃ النظیر کا استعمال کیا گیا ہے؟

یہی پھرتے ہیں شریف آدمیوں کی صورت
دشت میں خاک اڑائی نہیں وحشت نہیں کی

سوال۳:۔ درج ذیل پر اعراب لگائیں۔

شَرَاکَتۡ دَشۡت سَلُوکۡ مُیَسَّرۡ

سوال نمبر ۴: درج ذیل اشعار کی تشریح کریں:

ظرف اتنا بھی کشادہ نہیں اپنا، لیکن
ہم نے پیدا بھی ہوئی ہے تو شکایت نہیں کی
ہو رہا ہے جو، اسی طرح سے ہونا تھا یہاں
اس لیے ہم نے کسی بات پہ حیرت نہیں کی

جواب:۔ ایضاً

سوال نمبر ۵: دی گئی غزل کے مطابق درست جملے کے سامنے (✓) کا نشان اور غلط کے سامنے(✖) کا نشان لگائیں۔

  • ا۔ شاعر محبوب کے خوابوں میں حصے دار نہیں ہوتا۔ (✓)
  • ب۔ محبوب کی جفاؤں سے شاعر وحشت زدہ ہو گیا۔ (✖)
  • ج۔ شاعر نے بے وفائی کا بدلہ لیا۔ (✓)
  • د۔ شاعر نے جان بوجھ کر محبوب کا ساتھ نہیں دیا۔ (✓)
  • ہ۔ سوال کرنا شاعر کو اچھا نہیں لگتا۔ (✓)
  • و۔ شاعر کو محبوب کے رویت پر بے حد حیرت ہے۔ (✖)
  • ز۔ شاعر کا ظرف بے پناہ وسیع ہے۔ (✖)
  • ح۔ شاعر اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے سوال نہیں کرتا۔ (✓)
  • ط۔ ”وصال یار“ شاعر کی حسرت ہے۔ (✖)
  • ی۔ چاہت کے باوجود شاعر ہمت نہ کر سکا۔ (✓)