Advertisement

میر غلام رسول نازکی جموں کے مشہور شاعروں میں سے ایک ایسی عظیم ہستی ہیں جن کا نام بڑے پیمانے میں آج بھی لیا جاتا ہے۔  میر غلام جموں کے بنیادی شاعروں میں سے ہی ایک مانے جاتے ہیں- انکی پیدائش 1910ء میں اور وفات 1998ء کو ہوئی-

Advertisement

بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہای میں انہوں نے اپنے ذوق و شوق سے کمال کے جوہر دکھائے ہیں- اگر اردو شاعری کی  بات کریں تو اردو شاعری کی دنیا میں ان کا رتبہ ایک چمکتے ستارے کی مانند ہے۔ نازکی صاحب کی مثال کی تعریف کسی دوسرے شاعر سے نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ خود کے لئے ہی ایک مثال ہیں۔

Advertisement

اردو شاعری میں میر غلام رسول نازکی نے اپنی زندگی میں جتنی بھی شہرت و مقبولیت اور نام کمایا ہے وہ کسی دوسرے شاعر کو بہت کم حاصل ہوا۔ ان کے مقابلے میں کوئی بھی شاعر ان کے برابر میں نہیں کھڑا ہو پایا۔ نازکی صاحب نے آغازِ شاعری میں کلاسیکی انداز کو اپنایا۔ انہوں نے نہ صرف زبان وبیان کی صفائی وچستی پر زور دیا بلکہ اس کے مقابل نئے تجربات اور اپنے قریبی ماحول اورقریبی زندگی کے حقیقی تجربات وموضوعات کی عکاسی پر بھی توجہ دی۔

جموں کشمیر  سے ہی ان کی ابتدائی شاعری کا دور شروع ہوا۔ شروعات میں تو ان کی شاعری میں جذباتوں کا سمندر اور ہم آہنگی دیکھنے کو ملتی رہی لیکن دھیرے دھیرے ان کے کلام میں فکری اور فنی جملوں کا تذکرہ بھی دکھنے لگا- اردو شاعری کے بہترین شاعر حالیؔ جنہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا مقام دیا تھا ان سے متاثر ہوکر میر غلام رسول کہتے ہیں۔

Advertisement

 "اردو کے رجحانات بدلتے گئے اور بعد میں مسلسل مطالعہ کے ذریعے اس کے بدلتے ہوئے رجحانات سے متاثر ہوتا گیا اور میرے کلام میں اسی طرح تبدیلیاں آتی گئیں۔” 

میر غلام رسول کے کلام میں تہذیب اور شائستگی ملتی ہے جس کی وجہ سے ان کے کلام میں جذبات کی شدّت کے ساتھ ہی احساس کی پختگی میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔میر غلام رسول نازکی نے 1948ء میں اپنا پہلا باضابطہ مجموعہ’’دیدۂ تر‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔یہ مجموعہ صرف 136 صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 106 رباعیاں ، 22 غزلیں اور 20 نظمیں درج ہیں ۔اس مجموعے کا مطالعہ کرنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نازکی کی تمام شاعری صرف انتخاب کی شاعری نہیں ہے اور یہ شاعری محض ریاضت کی شاعری بھی نہیں ہے۔ان اشعار میں کلاسیکیت کے ساتھ ساتھ زبردست انفرادیت بھی ہے۔ لیکن یہ انفرادیت بغاوت کے مترادف نہیں ہے۔ ان میں نئے رموز وعلائم بھی ہیں، ایک نیا طرز احساس بھی ہے ۔ بدلے ہوئے طرز احساس کی وجہ سے طرز اظہار میں خود بخود ایک تبدیلی کے آثار بھی واضح طورپر ملتے ہیں ۔ یہ اشعار کسی حدتک روایتی غزل سے منقطع کرتے اور جدید غزل سے اپنا ناطہ جوڑتے نظر آتے ہیں۔

Advertisement

نازکی صاحب کے اس مجموعۂ کلام سے متاثر ہوکر ریاست اور بیرون ریاست کے ادیبوں اور دانشوروں نے ان کی شاعرانہ اورفنکارانہ حیثیت کو سراہا۔ یہاں تک کہ نازکی صاحب کو وادیِ کشمیر میں  ایک استاد کی حیثیت سے پہچانا جانے لگا۔ حامدی کاشمیری ، غلام نبی خیال ، فاروق نازکی، ایاز رسول نازکی جیسے کشمیر کے بڑے اوراعلیٰ شاعروں نے نازکی صاحب سے کسب فیض کیا۔

سر کو جنبش کیا ہوئی چہرے سے زلفیں ہٹ گئیں
شام نے ایک جھرجھری سی لی اور سویرا  ہوگیا

Advertisement

نازکی کا ایک نعتیہ کلام کا مجموعہ "چراغ راہ” بھی ہے جو لوگوں کے بیچ بہت زیادہ مشہور اور کامیاب ہوا۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی کامیابی کا چراغ اسی مجموعہ سے ہی روشن ہوا۔ جس کا موضوع عشقِ رسول اور محترم ہے اور ان کے نعتیہ کلام میں منقبت اور مرثیہ بھی پائے جاتے ہیں- انکے کلام میں ان کی عاشقی کا رنگ صاف صاف دیکھنے کو ملتا ہے۔ نازکی اپنی ساری خوشی اور ساری خواہشوں کو قربان کرنا چاہتے تھے صرف ایک خواہش کے لئے جو کہ دیدارِ رسول ہاشمی ہے۔

دین میرا شوق پابوس رسولِ ہاشمی
عشق میرا رقص طاؤس رسولِ ہاشمی

Advertisement

انکے کلام میں ان کی رسول سے محبت کا جذبہ ابھر کر سامنے آتا ہے-  ان کے کلام میں عاجزی بھی ہے- ان کی شاعری میں نزاکت کی خوبصورتی بھی دکھائی دیتی ہے۔ نازکی صاحب نے اپنے کلام میں بڑی ہی سنجیدگی کے ساتھ عربی و فارسی کا استعمال کیا ہے- انکے کلام میں لفظوں کی خوبصورتی ہے، یہی وجہ ہے کہ  اردو شاعری میں نازکی کشمیر کے چمکتے ستارے کا مرتبہ  رکھتے ہیں۔ اردو شاعری کی بنیاد ڈالنے والوں میں نازکی صاحب کا نام بلند درجے میں منقبت ہے-

جس پے پڑتی ہے رسول ہاشمی کی اک نظر،
خاک سے بنتا ہے سونا اور سونے سے گہر

Advertisement

نازکی صاحب نے اپنے وطن کی آزادی کے بارے میں بڑی ہی دلچسپی سے لکھا ہے اور شہدائے  کشمیر کے ان سپاہیوں کے لئے خون کے آنسو بہائے اور انکے لئے افسوس ظاہر کیا ہے- نازکی صاحب کہتے ہیں کہ اپنی قوم کی آزادی شان و شوکت، عزت و عظمت کے لئے انہوں نے بغاوت کا نعرہ لگایا اور شہادت کا جام بھی پی گئے- ان سپاہیوں کی شہادت کا تذکرہ انہوں نے بہت ہی سنجیدہ انداز  سے اپنی شاعری میں کیا ہے-

آج بھی کلیوں سے کرتی ہیں ہوائیں چھیڑچھاڑ
آج بھی سیماب ان کے چشمے اگلتے ہیں پہاڑ

Advertisement

چاند کرتا ہے فلک پر آج  بھی ضوباریان
آسماں پر حلقہ زن  ہے کہکشاں کی دھاریاں

 بے خبر ہے تو مکر گنج لحد میں محو خواب
دیدہ عبرت میں رقصاں ہے جہاں کا انقلاب

آج پھر اے دوست تیری قبر پر آیا ہوں میں
موتیوں کا ہار تیری نظر کو لایا ہوں میں

نازکی کی شاعری میں لفظوں کا بڑا وزن ہے جس کی وجہ سے ان کے شعر پڑھنے میں دلوں میں ایک وطنی جذبہ پیدا ہو جاتا ہے- نازکی صاحب کی ایک پرانی بیاض ہے جس میں 1926 سے 1938 تک کا ابتدائی کلام شامل ہے۔ اس بیاض میں  انکا اس دور کا کلام ہے جب وہ شعری ریاضت کے  عمل سے گزر رہے تھے- اردو شاعری میں ایک عظیم بنیاد رکھنے والوں میں میر غلام رسول نازکی اپنی کلام میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے محبوب کی تعریف بیان کرتے ہیں- انکے کلام پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ تصویر واضح ہو گئی ہو-

Advertisement

Quiz On Mir Ghulam Rasool Nazki

میر غلام رسول نازکی 1

written by

Zarnain Nisar

Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement