تعارف

محمد نصرتی کا نام محمد نصرت لکھا گیا ہے۔تخلص کی مناسبت سے محمد نصرت نام ہونا قرین قیاس تو ہے مگر یقینی نہیں۔ مثنوی "گلشن عشق” میں نصرتی نے اپنی تعلیم و تربیت کا ذکر کیا ہے جس کے لیے وہ اپنے والد کی شفقت و تربیت کے ممنون ہیں۔ انھوں نے محمد عادل شاہ کے زمانہ میں شہزادہ علی کے ساتھ تعلیم و تربیت حاصل کی اور جب علی تخت نشیں ہو گئے تو نصرتی نہ صرف شاہی مصاحب بنے بلکہ ملک الشعراء کا منصب بھی انہیں عطا کیا گیا۔

ادبی تعارف

نصرتی قدیم اردو یا دکن کے شعراء میں سب سے زیادہ مشہور اور بلند مرتبہ شاعر گزرے ہیں۔وہ غزل ، قصیدہ، مثنوی، ہر صنف سخن میں یکساں قدرت رکھتے تھے۔ نصرتی نے غزلیں بھی لکھی ہیں۔ ان کے تخیل کی بلندی اور جدت طرازی تک کوئی دوسرا شاعر نہیں پہنچا۔ نصرتی کو بجا طور پر اردو کے بزرگ ترین شعراء میں شمار کیا جاتا ہے۔

مثنویاں

ان کی دو مثویاں گلشن عشق اور علی نامہ خاص طور پر بہت مشہور اور مقبول ہیں۔ اگرچہ اردو کے کئی قدیم تذکروں میں ان کا ذکر ملتا ہے لیکن اس عہد کے اکثر شاعروں کی طرح ان کے حالات بھی بہت کچھ تاریکی میں ہیں۔ خود نصرتی نے بھی اپنی تصانیف میں اپنے بارے میں  کچھ زیادہ تفصیلات نہیں دی ہیں۔

ان کی مثنویوں میں ایسی خصوصیات ہیں جو اس سے قبل کی مثنویوں میں کم پائی جاتی ہیں۔ مثلاً وہ ہر عنوان کے شروع میں ایک شعر لکھتے ہیں جس میں اس باب کے مطلب کا خلاصہ آجاتا ہے۔ تمام عنوانات کے شروع کے اشعار ایک ہی بحر اور قافیے میں ہیں۔ اگر ان تمام اشعار کو ایک جا کر لیا جائے تو ایک قصیدہ ہو جاتا ہے جس میں سارے قصے کا خلاصہ آجاتا ہے۔

نصرتی کا  دعائیہ استدلال حد درجہ انفرادی ہونے  کے  علاوہ اپنے  سابق اور معاصر شعراء کے  مقابلہ میں  انتہائی جدید ہے۔ اس کے  علاوہ نصرتی نے  قلم سے  تلوار کا کام انجام دینے  کا ذکر کرتے  ہوئے  مثنوی  میں  پہلی مرتبہ شعر کے  ذریعہ زبان، حروف، معانی، خیالات، فکر اور فن کے  علاوہ ادب کی پرورش کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس نے ان کے یہاں  خدا سے  بے  مثل تمنائیں  وابستہ کی ہیں۔ اس اعتبار سے  نصرتی کی مناجات میں  جہاں  انفرادیت ہے  وہیں  انسان کی بے  بسی و بے  چارگی کے  علاوہ ایسی خواہشات کا اظہار بھی ملتا ہے  جو خودی کا خصوصی وصف ہے۔ چنانچہ نصرتی اپنی عاجزی کو نمایاں  کرتے  ہوئے  یہ لکھتا ہے  کہ خدا اسے  لالچ سے  دور رکھے  اور قناعت کا خزانہ عطا کرے  اور ایسی شراب پلائے  کہ وہ دنیاداری سے  بے  نیاز ہو جائے۔

تصانیف

محمد نصرتیؔ کی اہم تصنیفات  میں 

  • مثنوی گلشن عشق ،
  • مثنوی علی نامہ ،
  • مثنوی تاریخ اسکندری ،
  • قصائد و غزلیات اور
  • رباعیات قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

سکندر عادل شاہ کے عہد میں وہ صرف دو سال زندہ رہے۔ ۱۶۷۴ء میں ان کو کسی بنا پر قتل کر دیا گیا۔

محمد نصرتی  کا کلام مندرجہ ذیل ہے۔

محمد نصرتی پر ایک کوئز

محمد نصرتی 1
Advertisements