تعارف

اردو ادب میں شعر و سخن کے گل دستے میں  بہت سے پھول ہیں۔ کسی کا رنگ لال گلاب کی مانند شوخ، کسی کا چمبیلی کی خوبشو کے جیسے رومانوی ایسے ہی ایک منفرد پھول اور خوشبو کی ذات کے انسان کا نام سید محمدمحسن کاکوری ہے۔ ان کا تخلص محسن تھا۔ وہ نعتیہ ادب کے اولین ستون ہیں۔ محسن کاکوروی انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں مولوی حسن بخش کے گھر  قصبہ کاکوری میں پیدا ہوئے۔ اپنے دادا کے دامن تربیت میں پرورش پائی۔ ان کے انتقال کے بعد اپنے والد اور مولوی عبدالرحیم سے تحصیل علم حاصل کی۔ مولوی ہادی علی اشک جنھیں شاعری پر عبور حاصل تھا ، انہی سے محسن کاکوروی نے مشق سخن کی۔ محسن کاکوروی نے چند روز عہدہ نظامت پر کام کیا اور وہیں سے وکالت ہائی کورٹ کا امتحان پاس کیا۔ چونکہ نعتیہ کلام سے شہرت و عزت یا شاعرانہ وقعت ودنیاوی صلے کی خواہش نہیں تھی اسلئے انکی نظم سے خلوص عقیدت کا رنگ ٹپکتا ہے۔

شاعرانہ عظمت

محسن نے اپنی زندگی نعت کے لئے وقف کر دی۔ قصیدے کی صنف کو بام عروج پر پہنچانے والے شعراء میں محسن کا نام سر فہرست ہے۔ ان کے تصنیف کردہ چند قصائد ہیں لیکن فنی محاسن کے بہترین نمونے ہیں۔ان کے قصائد مسدس ، مخمس اور مثنویاں نعتیہ ادب کے ایسے شہپارے ہیں کہ جن کا جواب اب تک نہ ہوسکا۔

محسن کاکوروی کے کلام کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نعت کی وسیع فضا میں انہوں نے خوب پرواز کی ہے اور بڑے مشکل مقامات بھی انہوں نے خوبصورتی کے ساتھ طے کئے ہیں۔ مضمون میں موضوع کے اعتبار سے جدت، اسلام اور ہندی تصورات کا امتزاج ، حدیث اور عقائد کی صحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مذاقِ شاعرانہ کے ساتھ ساتھ نکتہ آفرینی ، خلوص و محبت کے اظہار میں تہذیب و متانت کا پاس ان کے کلام کی عام خوبیاں ہیں۔ تمام کلام ہموار اور شگفتہ ، مضمون بلند ، زبان کوثر ، و تسنیم کی دھلی ہوئی، بندش چست ، مثنویوں میں قصیدوں کی سی شان و شوکت ، تشبیب و گریز کے کمالات ، ایسی خصوصیات ہیں جو شائد ہی ان کے کسی دوسرے ہم عصر کو نصیب ہوئی ہوں۔

تصانیف

  • ان کی مشہور تصانیف میں 
  • فغال محسن،
  • نگارشان الفت،
  • اسرار معنی در عشق،
  • ابیات نعت،
  • گلدستہ کلام رحمت قابل ذکر ہیں۔

آخری تلاش

ان کی وفات ۱۹۰۵ مین پوری میں ہوئی تب ان کی عمر ۷۷ برس تھی۔

محسن کاکوروی کا کلام مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz on Mohsin Kakorvi

محسن کاکوروی 1
Advertisements