تعارف

زبان اردو کے معروف شاعر اور باکمال شخصیت سید محسن رضا زیدی اترپردیش کے علاقے بہرائچ میں ۱۰ جولائی ۱۹۳۵ کو سید علی رضا زیدی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا قلمی نام محسن تھا جس سے وہ بہت مقبول ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم پرتاب گڑھ کے عام سے سکول میں حاصل کی۔ آپ نے پہلے بی اے اور پھر معاشیات میں ایم اے کیا۔ الہ آباد یونی ورسٹی سے ماہر معاشیات کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے معاشیات میں ہی سرکاری عہدہ سنبھالا اور پھر جی توڑ محنت کرتے رہے۔ وقتاًفوقتاً آپ مختلف حکومتی عہدوں پر تعینات رہے۔ حکومتی کام کے سلسلے میں آپ جاپان ، ہانگ کانگ اور مختلف ممالک کے دورے کرتے رہے۔

شاعرانہ عظمت

آپ کو شاعری کا شوق کم سنی میں ہی اجاگر ہو گیا۔ جب آپ فقط ۱۵ برس کے تھے آپ نے شاعری شروع کر دی تھی۔ وقت کے بڑے اہم ناموں نے ان کو اپنا گرویدہ بنا دیا جن میں میر تقی میر ،داغ دہلوی، اقبال، جگر مراد آبادی جیسی شخصیت سر فہرست ہیں۔ محسن زیدی شاعروں کی اس پیڑھی سے تعلق رکھتے ہیں جو آزادی کے بعد سامنے آئی۔ ۱۹۴۷ کے ہنگامہ کشت و خون کے کچھ مناظر خون ان کے بقول انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس کے بعد ان کے گرد و پیش کی دنیا بھی وہی رہی ہے جس سے ان کے ہم عصر دوسرے شاعروں کا واسطہ پڑا، لیکن محسن زیدی کے کلام کے مطالعے سے ہم بہ آسانی یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ عصری صورتِ حال کی المناکیوں ، دہشت انگیزیوں اور ہلاکت آفرینیوں سے براہ راست باخبری اور انسانی فکر و عمل کے ہر شعبے پر ان کی بھرپور گرفت کے حوصلہ شکن احساس کے  باوجود وہ ان کے سامنے سیر انداز ہونے کو تیار نہیں ہیں اور انھیں آثار زلزلوں میں بھی ان کے داخلی وجود کو اس طرح ٹوٹنت بکھرنے نہ دیا کہ منتشر اجزاء کو سمیٹ سکنا ممکن نہ رہے۔

ناقدین کی آراء

بقول پروفیسر شارب ردولوی :
"محسن زیدی اردو کے جدید شاعروں میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی ساری توجہ غزل پر صرف کی اور بڑے خلوص کے ساتھ اس میں اظہار کے نئے زاویے  تلاش کرتے رہے۔ محسن زیدی نے تمام عمر ایک خاص سلیقے سے گذاری۔ وہ اپنی کم گوئی کے باوجود بےحد ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے۔ زندگی اور شعر و ادب کے بارے میں ان کا ایک نظریہ تھا جس پر وہ گذشتہ نصف صدی کے نشیب و فراز کے باوجود قائم رہے لیکن انھوں نے نہ اس پر کسی سے اصرار کیا اور نہ کبھی کسی بحث میں الجھے اور نہ اسے خود اپنے لیے اشتہار بنایا۔ وہ شاعر تھے اور صرف شاعر۔ وہ ساری زندگی بڑے خلوص اور سچائی کے ساتھ جو دل پر گذرتی ہے اسے رقم کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ان کے محسوسات کی بہترین تصویر ہے۔”

تصانیف

محسن زیدی کی مشہور تصانیف میں بابِ سخن، جنبش نوک قلم، متاع آخر شب، رشتہ ءکلام، شہر دل قابل ذکر ہیں۔ ان کی کلیات محسن زیدی بھی شائع ہوئی جو عقیدت مندوں کے لئے بیش قیمتی ہے۔

آخری ایام

آپ کی زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ دہلی میں گزرا مگر رٹائر منٹ کے بعد آپ لکھنؤ منتقل ہو گئے۔ وہیں آپ نے آخری ایام تلک وقت گزارا اور بلآخر ۳ ستمبر ۲۰۰۳ کو وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

منتخب کلام

محسن زیدی کی مشہور و مقبول غزل مندرجہ ذیل ہے؀

Quiz on Mohsin Zaidi

محسن زیدی 1
Advertisements