Advertisement

تعارف

تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو کچھ ایسے نایاب لوگ ہم میں رہ کر چلے گئے جن کا نعم البدل نہیں، ان کی کمی تاقیامت پوری نہیں ہوسکتی۔ ان میں نمایاں نام منیر نیازی کا ہے۔ اردو ادب میں اور پنجابی ادب میں ایک منفرد نام جن کی نظمیں اور غزلیات آج بھی لوگوں کے لبوں پر باقی ہیں۔ حقیقی رومانویت کے علمبردار ،جو شاعری میں داخلی واردات کو یوں سموتے ہیں کہ وہ چلتی پھرتی تصویر بن جاتی ہے اور یہ تصویر پُراسراریت کی فضا میں لپٹی ہوتی ہے، خوف کا منظر پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ منیر نیازی ۹ اپریل ۱۹۲۸ کو  پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ نام محمد منیر خاں اور تخلص منیر ہے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔

Advertisement

ادبی زندگی

منیر نیازی مختلف اخبارات اور جرائد سے وابستہ رہے۔ غزل ان کی بنیادی شناخت ہے۔ پابند اور آزاد نظمیں بھی کافی تعداد میں لکھی ہیں۔ نثری نظمیں بھی لکھتے تھے۔ منیر پنجابی کے بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ وہ اردو اور پنجابی کی ۳۰؍ سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ منیر نیازی کے عہد کے اکثر شعراء نظریات سے وابستہ شعراء ہیں لیکن منیر نیازی ایک ایسے شاعر ہیں جو کسی تحریک ، گروہ یا نظریے سے وابستہ نہیں ہیں۔ وہ صرف اور صرف شاعر ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔  چاند ،ستارے ، فلک ، صحرا ،میدان سورج اور خلا ایسے الفاظ ان کی شاعری کو نئی معنویت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سوچ اور تفکر کی وسعت کے آئینہ دار بھی ہیں۔

Advertisement

منیر نیازی کی شاعری کے ابتداء میں ہندی دیو مالا جب کہ بعد میں اسلامی اساطیر سے انھوں نے بھر پور استفادہ کیا ہے۔ ہندی اساطیر کے حوالے سے ان کے ہاں پانچ کرداروں کا ذکر نمایاں ہے، رادھا، شیام ، پاروتی ، شِوّ اور کام دیو۔

Advertisement

تصانیف

ان کی مشہور تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔

  • آغاز زمستاں میں دوبارہ،
  • چھ رنگیں دروازے،
  • دشمنوں کے درمیان شام،
  • ایک لمحہ تیز سفر کا،
  • جنگل میں دھنگ،
  • ماہ منیر،
  • پہلی بات ہی آخری تھی اور
  • سیہ شب کا سمندر ان کی قابلِ ذکر کتابیں ہیں۔

اعزازات

ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارۂ امتیاز سےنوازا گیا۔

Advertisement

آخری ایام

منیر نیازی جیسے بے مثال شاعر ۲۶ دسمبر ۲۰۰۶ کو جہاں فانی سے تو کوچ کرگئے لیکن ان کا چلبلا مزاج اور دل موہ لینی والی شاعری آج بھی اہلیان ادب کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ پیش خدمت ہے منیر نیازی کی ہر دل میں گھر کر دینے والی غزل۔

منیر نیازی کی لازوال نظم جو آج تک مدعاؤں کے لبوں پر سجی ہے۔

Advertisement

A Quiz On Muneer Niyazi

منیر نیازی 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement