تعارف

آپ کا پورا نام محمد مصطفٰی خان ہے۔ شیفتہ اور حسرتی تخلص ہیں۔ نواب مصطفٰی خاں شیفتہ  ۲۷ دسمبر ۱۸۰۹ کو دہلی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک اردو فارسی دونوں زبانوں کے مقبول شاعر اور نقاد  تھے۔ شیفتہ کے دور کی آمد کا معمول تھا کہ ان کے مکان پر بچوں کی تعلیم کے لیے استاد  آتے تھے اور محلے کے دوسرے بچے بھی پڑھتے تھے۔ ان کی تعلیم بھی اسی انداز میں ہوئی۔ یعنی ان کے عہد میں کسی مکتب یا مدرسے میں جا کر تعلیم حاصل نہیں کی جاتی تھی۔ بس استاد کی توجہ جو گھر پر ہی مل جاتی تھی اس سے پروان چڑھے۔

ادبی سفر

جب آپ حرمین شریفین کی زیارت کو گئے تو مکہ معظمہ کے فاضل حضرت شیخ عبداللہ سراج حنفی سے آپ نے صحاح کے ابتدائی حصے تبرکا پڑھا۔ جب تک مکہ میں قیام رہا آپ برابر فیض حاصل کرتے رہے۔ ان کے علاوہ مولوی کرم اللہ نے آپ کو کچھ علوم پڑھائے تھے۔ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ اپنی بے نظیر علمی قابلیت اور ادب نوازی کی بدولت برضغیر پاک و ہند کے علمی حلقوّں میں قریباً ایک صدی سے مشہور و معروف رہتے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ آپ قلمی استعدار اور باطنی خوبیوں کے اعتبار سے اپنے ہم عصروں میں جن میں مومن ، غالب اور ذوق  جیسے شاعر تھے، شامل تھے۔

شیفتہ نہ صرف مسند آرائے علم و ادب رہے بلکہ انھوں نے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جس کی پاداش میں سات سال تک قید فرنگ کی تکالیف برداشت کیں اور ان کے وظائف سرکاری اور نصف حصہ جائداد ضبط ہوا۔ شیفتہ نے غزل کے علاوہ دیگر اصناف سخن پر توجہ نہیں کی،ان کی غزل میں شگفتگی لہجہ میں شیریں انداز میں روانی آہنگ کی کھٹک اور درد آمیزی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ لفظوں کا انتخاب ایسی احتیاط ،سلیقے اور خوبی سے کیا جائے کہ الفاظ اپنے استعمال کے موقع پر اثر و تاثیر میں غیر معمولی اضافے کر سکیں۔ کہنے کا طریقہ اور انداز  بیاں بوجھل بھاری بھرکم ، عرئبت وفارسیت سے دبا ہوا نہ ہو ، متانت اسلوب عبارت کا ایک ناگزیر جزو ہے۔ اگر اسلوب عبارت میں سوقیانہ اور بازاری انداز آگیا تو اس سے خواہ کیسے ہی معنی نکلتے ہوں شعرپستی کی طرف چلا جائے گا۔ شیفتہ اردو کے بہت بڑے محسن ہیں اردو اور فارسی کے دو ادوین کے علاوہ انہوں نے اردو شعراء کا ایک تذکرہ ،گلشن بے خار اپنی یادگار چھوڑا ہے۔

تصانیف

نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کی مشہور تصانیف میں گلشن بے خار اور دیوان شیفتہ شامل ہیں۔

آخری ایام

نواب مصطفی خان شیفتہ کی وفات ۱۱ جولائی ۱۹٦۷ میں ٦۰ برس کی عمر میں ہوئی۔ ان کو اپنے شہر دہلی میں مدفن کیا گیا۔

مصطفٰی خان شیفتہ کا منتخب کلام درج ذیل ہے۔

Advertisements