تعارف

ممتاز شاعر اور گیت نگار ندا فاضلی 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی بھارت میں پیدا ہوئے، انہیں برصغیر کے شاعروں میں ممتاز مقام حاصل تھا۔ندا فاضلی ان کا قلمی نام تھا اور ان کا اصل نام مقتدیٰ حسن ندا فاضلی تھا۔ والد شاعر تھے لہٰذا بڑے بھائی کے قافیہ سے ملا کر ان کا نام رکھا گیا مقتدیٰ حسن۔ ان کا بچپن اور لڑکپن مدھیہ پردیش کے گوالیار میں گزرا اور انہوں نے تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ ان کے والد بھی شاعر تھے جو 1960 میں مذہبی فسادات کے دوران مارے گئے۔ آزادی کے بعد ان کے اہل و عیال سب پاکستان آگئے مگر وہ خود ہندوستان میں رہے۔ ندا فاضلی انسان دوست شاعر تھے اور اس سلسلے میں وہ سماج کی جانب سے عائد پابندیوں، خاص طور پر مذہبی قید و بند پر تنقید کرتے ہیں۔

ادبی زندگی

ندا کے معنی ہیں آواز اور فاضلی کشمیر کے علاقہ فاضلہ سے آیا ہے جہاں سے ان کے آباؤ اجداد دہلی آئے تھے۔ ندا فاضلی کے اردو- ہندی ادب میں مکمل طور آنے کا سبب ایک حادثہ مانا جاتا ہے۔کالج میں ان کو ایک لڑکی پسند آگئی انہوں نے یکطرفہ، انجانا اور ان کہا رشتہ قائم کر لیا تھا۔ اس عہد کے تقاضے تھے جس وجہ سے شرم و حیا ان کے آڑے آگئی مگر ایک روز نوٹس بورڈ سے معلوم پڑا وہ لڑکی راہِ ملک عدم ہو گئی تو اس کرب میں وہ بہت باریک پس گئے جس کے نتیجے میں انھوں نے اپنے الفاظ کو صحیح استعمال کیا اور وہ شاعری کی جانب راغب ہو گئے۔

کسی قسم کی نظریاتی شدت پسندی کے بغیر ندا کی شاعری انسانی فطرت، اس کے مثبت و منفی پہلو، فرد کی تنہائی، ارباب سیاست کی عیاری، مذہب کے نام پر تجارت، فرقہ واریت اور فسادات کی تباہ کاری اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کا نوحہ ہے۔ ان موضوعات کو بیان کرتے ہوئے وہ اپنے لئے ایک حساس فنکار کی امیج کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کی یہ امیج کسی فلسفیانہ گہرائی یا فکری عمق کی نہ تو متقاضی تھی اور نہ ہی متحمل۔ یہ تو لے کر ہاتھ میں اک تارا، گاتا جائے بنجارا، والی امیج ہے۔ جس کا راست رشتہ کبیر کے پنتھ سے ملتا ہے۔ ندا بھی کبیر پنتھی تھے۔ اسی لئے ان کے دوہوں سے ہٹ کر بھی ان کے گیتوں، نظموں، غزلوں حتیٰ کہ ان کی نثر پر بھی اس کی چھاپ نمایاں ہے۔

تصانیف

آپ کی مشہور تصانیف میں

  • آنکھ اور خواب کے درمیان،
  • دنیا میرے آگے،
  • دیواروں کے بیچ،
  • دیواروں کے باہر،
  • کھویا ہوا سا کچھ،
  • لفظوں کا پل،
  • شہر میں گاؤں،
  • شہر میرے ساتھ چل تو،
  • ملاقاتیں،
  • چہرے،
  • مور ناچ،
  • زندگی کی طرف اور
  • سب کا ہے مہتاب قابل ذکر ہیں۔

اعزازات

ندا کو ان  کی کتاب "کھویا ہوا سا کچھ” پر 1998 میں ساہتیہ اکیڈمی اوارڈ دیا گیا۔ 2013 میں حکومت ہندوستان نے انھیں "پدم شری” کے اعزاز سے نوازا فلم "سُر” کے لئے۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستی اردو اکیڈمیوں نے انھیں انعامات دئیے۔ ان کی شاعری کے تراجم مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں کئے جا چکے ہیں۔

آخری ایام

8 فروری 2016 کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد ان کا  انتقال ہوا۔ ندا فاضلی نے ۷۸ برس ہم سب میں گزارے اور پھرا راہِ ملک عدم ہو گئے۔

منتخب کلام

ندا فاضلی کی مشہور غزل مندرجہ زیل ہے۔

ندا فاضلی کی مختصر نظم ۔۔۔

مسجد کا گنبد سونا ہے
مندر کی گھنٹی خاموش
جزدانوں میں لپٹے آدرشوں کو
دیمک کب کی چاٹ چکی ہے
رنگ گلابی نیلے پیلے
کہیں نہیں ہیں
تم اس جانب میں اس جانب
بیچ میں میلوں گہرا غار
لفظوں کا پل ٹوٹ چکا ہے
تم بھی تنہا میں بھی تنہا
(ندا فاضلی)

Quiz on Nida Fazli

ندا فاضلی 1
Advertisements