تعارف

امام المسلمین ، معمور من الرسول حضرت قبلہ عالم سیدنا پیر مہر علی شاہ ؒ یکم رمضان المبارک ۱۸۵۹ء مطابق ۱۲۷۵ ہجری بروز سوموار قصبہ گولڑہ شریف کی مردم خیز دھرتی پرپیدا ہوئے۔ آپ کے والد پیر سید نذردین شاہ ایک جلیل القدر بزرگ تھے۔ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل صوفی بزرگ پیر سید فضل دین نے چراغ روشن کی بشارت دی اور آپ زندگی بھر اپنی ضیا پاشیوں سے ماحول کو منور فرماتے رہے۔

حضرت قبلہ عالم کو چار سال کی عمر میں مکتب میں بٹھا دیا گیا۔ آپ نے عربی فارسی اور صرف ونحو کی تعلیم ہزارہ کے عالم مولانا غلام محی الدین سے حاصل کی۔ علم نحو کی مشہور کتاب ‘کافیہ’ بھی ان ہی سے پڑھی۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا جو پارہ ایک بار پڑھ لیتے تھے وہ ان کو ازبر ہو جاتا تھا۔ عربی اور فارسی بڑی روانی سے پڑھ لیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے استاد نے انہیں ایک کتاب (قطر الندیٰ) دی اور کہا کہ اس کے جو کرم خوردہ حصے ہیں ان کو بھی مکمل کرو۔ وہ عبارت درخت کے پتوں پر ظاہر ہوئی اور آپ نے یاد کر کے دوسرے روز سنا دی۔ آپ کی طبیعت میں فطری روانی اور عربی عبارات کی تفہیم کا فطری اور الہامی ملکہ موجود تھا۔

عاجزی ، انکساری، تواضع اور دشمن سے حسن سلوک آپ کے مزاج کا خاصہ تھا۔ دشمن کے گناہ سے نفرت تھی، اس کے وجود سے نہیں۔ آپ اپنے بدترین دشمن کا نام بھی انتہائی عزت اور احترام سے لیتے تھے اور اسے لفظ مذامت، یا صیغہ واحد غائب سے نہیں پکارتے تھے۔

خصوصیات کلام

حضرت پیر مہر علی شاہؒ پنجابی اور فارسی زبان میں منظوم کلام کے منفرد سخنور تھے۔ آپؒ کا جو کلام نعت مناجات اور تصوف پر مشتمل ہے اپنی ندرت اور سلاست کی وجہ سے غلبہ حال کا مرقع معلوم ہوتا ہے۔ واردات غیبی کی تاثیر سے ایک مرتبہ قافیہ وردیف سے بے نیاز ہو کر بھی آپ نے کلام ارشاد فرمایا۔ آپ کی بعض پنجابی نظمیں مقبول عام کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔

آپ کی شہرہ آفاق نعت کے پہلے شعر سے آخری شعر تک ایک روحانی کیفیت اور سرور کی سی کیفیت نظر آتی ہے۔ یہ نعت کوئی عام بندہ نہیں عرض کر رہا بلکہ ایک ایسا منتخب بندہ جو بذات خود ولی کامل، باشرع اور شرعی احکام کا جاننے اور عمل کرنے والا ہے اور یہی جو ہے کہ ان پر گزرنے والی کیفیات کو انہوں نے اس قدر عمدگی سے اشعار کے قالب میں ڈھالا، ورنہ یہ کیفیات ناقابل بیان ہوتی ہیں۔

آپ کا کلام جو نعت ، مناجات اور تصوف پر مشتمل ہے ، اپنی سلاست اور انوکھے انداز کی وجہ سے غلبہ حال کا مرقع معلوم ہوتا ہے۔ کئی طویل نظمیں فی البدیہہ لکھتے یا لکھوا دیتے۔

تصانیف

پیر مہر علی شاہ  کی مشہور تصانیف میں؛

  • سیف چشتیائی ،
  • شمس الھدایۃ ،
  • تحقیقُ الحق ،
  • الفتوحاتُ الصمدیۃ ،
  • فتاویٰ مہریہ ہیں۔

آخری ایام

۱۱ مئی ۱۹۳۷ کو ۷۸ سال کی عمر میں آپ اس دنیا فانی سے پردہ فرماگئے۔ آپؒ کو آپؒ کے آستانہ گولڑہ میں ہمیشہ کے لئے مجو استراحت کر دیا گیا۔ آپؒ کے سالانہ عرس مبارک کی تقریبات ۲۵ صفر سے گولڑاشریف میں جاری ہیں۔ جن میں دنیا بھر سے عقیدت مندان شرکت کرتے ہیں۔

منتخب کلام

پیر مہر علی شاہ کی نعت جو نصرت فتح علی خان نے پڑھ کر چار چاند لگا دیئے آج کل نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔

Quiz On Peer Mehr Ali Shah

پیر مہر علی شاہ 1

Advertisements