سبق نمبر 4:پھر وطنیت کی طرف، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر :4
  • سبق : پھر وطنیت کی طرف
  • مصنف : مولانا صلاح الدین احمد
  • ماخوذ : تصوراتِ اقبال

تعارفِ مصنف :

مولانا صلاح الدین احمد لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولوی احمد بخش تھا۔ انھوں نے پنجاب نیشنل کالج لاہور سے بی۔ اے کیا۔ وہ ابتدا سے ہی اُردو زبان و ادب کے شیدائی تھے۔ اُنھوں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی ایک رسالہ “خیالستان” کے نام سے جاری کیا۔ ۱۹۳۴ سے اُنھوں نے ادبی دنیا کی ادارت سنبھالی اور آخری دم تک اسے مرتب اور شائع کرتے رہے۔

اُن کا ایک اہم کارنامہ اکادمی پنجاب کا قیام ہے۔ اس انجمن کے تحت اُنھوں نے اردو کی قدیم اور نادر کتابوں کو از سر نو شائع کیا۔ وہ اُردو پڑھو، اُردو بولو تحریک کے سرخیل تھے، جس کی وجہ سے انھیں پنجاب کا بابائے اُردو بھی کہا جاتا ہے۔ وہ ایک اعلیٰ درجے کے مقالہ نگار تھے۔ انھوں نے ادبی اور قومی موضوعات پر سینکڑوں مقالے لکھے ہیں۔ وہ صحت زبان اور آرائش زبان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ بہت سے ادبیوں نے ادب و تنقید کا فن اُن کے زیر نگرانی سیکھا۔ رسالہ ادبی دنیا نے بہت سے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی رہنمائی کی۔
تصانیف: تصورات اقبال، افسانوی ادب، محمد حسین آزاد وغیره

مشق

سوال نمبر ایک: درج ذیل کے مختصر جوابات دیں:

الف: پاکستان کے قیام سے پہلے اسلامیان ہند کے دل کس جذبے سے سرشار تھے؟

جواب: پاکستان کے قیام سے پہلے اسلامیان ہند کے دل جس جذبے سے سرشار تھے وہ وحدت ملت کا جذبہ تھا۔

ب: ہمارا قومی نصب العین کیا ہے؟

جواب: ہمارا قومی نصب العین وطن پروری اور وطن دوستی ہے۔

ج: قومی نصب العین کے حصول کا سیدھا راستہ کون سا ہے؟

جواب: قومی نصب العین کے حصول کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ اقلیت و اکثریت ایک ساتھ ملکی ترقی کے لیے کام کریں۔ اس ملک سے وفادار رہیں۔ اس کی سلامتی کے لیے کوشش کریں۔

د: ہمیں پاکستان کا تصور کس نے دیا؟

جواب: ہمیں پاکستان کا تصور علامہ اقبال نے دیا۔

ہ: اقبال نے مسلمانان ہند کی عملی سیاسیات کی طرف اپنی توجہ کیوں مبذول کی؟

جواب: اقبال نے مسلمانان ہند کی عملی سیاسیات کی طرف اپنی توجہ اس لیے مبذول کروائی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہندو اپنی اکثریت سے ملک پر قابض ہوجائیں گے اور مسلمان پھر سے ان کے غلام بن کر رہ جائیں گے لہذا یہ ضروری تھا کہ مسلمانان ہند کی عملی سیاسیات کی جانب توجہ مبذول کی جائے۔

و: اقبال کا تصور پاکستان اس کے آفاق گیر تصور ملت سے کیوں نسبت نہیں رکھتا تھا؟

جواب: اقبال ہمیشہ سے آفاق گیر تصور ملت کے حامی تھے۔ اس لیے برصغیر میں الگ ملک پاکستان کا تصور ان کے تصور سے نسبت نہیں رکھتا ہے۔

ز: جب ہم نے آزاد وطن پاکستان حاصل کر لیا تو بقول مصنف اب منطقی طور پر ہمارے لیے کیا لازم ہے؟

جواب: جب ہم نے آزاد وطن پاکستان حاصل کر لیا تو بقول مصنف اب منطقی طور پر ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اس کے فروغ کو تمام دیگر فرائض پر ترجیح دیں۔

ح: ٹیپو سلطان، سلطان عبدالحمید ثانی، سید جمال الدین افغانی اور علامہ اقبال کسی مشترک تصور کے مبلغ تھے؟

جواب: ٹیپو سلطان، سلطان عبدالحمید ثانی، سید جمال الدین افغانی اور علامہ اقبال تصور ملت کے مبلغ تھے۔

سوال نمبر دو: درج ذیل سوالات کے مفصل جوابات تحریر کریں:

الف: مضمون میں مصنف نے کن اہم نکات پر روشنی ڈالی ہے؟

جواب: مضمون میں مصنف نے اس اہم نکتے کو اجاگر کیا ہے کہ اسلام کا عالمگیر اور آفاق گیر تصور ملت وطن اور وطنیت کا مخالف نہیں۔ اقبال نے عالمگیر تصور ملت کا مبلغ ہوتے ہوئے بھی ہندوستان میں ایک آزاد اور خود مختار وطن کی ضرورت کو محسوس کیا۔ کیونکہ زمین کے ایک محدود ٹکڑے پر متصرف ہو کر ہی اپنے خیالات اور نظریات کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔

ب: پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کے لیے کیوں ضروری تھا؟

جواب: پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کے لیے اس لیے ضروری تھا کیونکہ انگریزوں کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد وہاں ہندوؤں کی حکمرانی ہوتی اور مسلمان وہاں محکوم بن کر ہی زندگی گزارتے۔

ج: ملت اسلامیہ کے اتحاد کے ضمن میں پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

جواب: ملت اسلامیہ کے اتحاد کے ضمن میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ پاکستان کا محل وقوع ایسا ہے جس سے وہ دنیا کے تمام اسلامی ممالک کے ساتھ خشکی کے راستے جڑا ہوا ہے۔ وسط ایشیا کے مسلمان ملکوں اور عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ مسلمان ممالک کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو کس طرح استعمال میں لایا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان اسلامی ممالک کی مدد کر سکتا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ اگر اسلامی ممالک پاکستان کے قائدانہ کردار کو تسلیم کر لیں تو اسلامی دنیا میں دنیا کی تیسری بڑی طاقت بن سکتی ہے۔

د: بقول مصنف ہم کیوں کر اعلائے کلمتہ اللہ کرسکیں گے؟

جواب: بقول مصنف اگر ہمارا ملک قائم رہے گا تو ہم اعلائے کلمتہ اللہ کرسکیں گے۔

ہ: ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر

یہ شعر کس شاعر کا ہے ؟ اس مضمون کے تناظر میں شعر کا مفہوم واضح کریں۔

جواب: یہ شعر علامہ اقبال کا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے حرم کی حفاظت کے لیے تمام مسلمان ایک ہوجائیں۔ ایک دوسرے کے درد کو محسوس کریں اور ایک دوسرے پر فضیلت کے دعوی نہ کریں۔

سوال نمبر تین: درج ذیل جملوں میں امدادی افعال کی نشاندہی کریں:

  • الف: میں نے سلیم کو زمین پر پٹخ دیا۔
  • امدادی فعل: دیا
  • ب: اُسے اپنی بات واضح کرنے دو۔
  • امدادی فعل: دو
  • ج: اندھا اچانک گڑھے میں گر پڑا۔
  • امدادی فعل: پڑا
  • ر: جاگ اُٹھا ہے سارا وطن ساتھیو!
  • امدادی فعل: اٹھا
  • ہ: جو میں نے سنا ہے وہ مجھ سے بیان نہیں ہو سکتا۔
  • امدادی فعل: سکتا

سوال نمبر چار: درج ذیل الفاظ پر اعراب لگائیں۔

وَطَنِیَّتْ، مُفْکِرِ اِسْلَام، مُتَصَرِّف، تَصَورِّ مِلَّت، تَحَفُّظُ، بَرِّعَظِیْم

سوال نمبر پانچ: درج بالا رموز اوقاف کو مد نظر رکھتے ہوئے دو دو جملے تحریر کریں

قوسین

  • شادی کا کھانا (بریانی اور قورمہ) بہت مزے کا تھا۔
  • میرا دوست (جو حافظ قرآن ہے) کلاس میں اول پوزیشن پر آیا ہے۔

خط

  • علایہ___ اور اس کے تمام دوست____ کھانا کھانے گئے ہیں۔
  • سلیم____ اور اس کا سارا خاندان_____ باہر ملک چلے گئے۔