تعارف

جرأت کا معروف نام قلندر بخش ، لیکن ان کا اصل نام یحییٰ امان تھا۔ ان کے والد حافظ امان کہلاتے تھے۔ غالباً امان کا لاحقہ ان کے بزرگوں کے نام کے ساتھ، بطور خطاب عہد اکبری سے چلا آتا تھا۔ ان کے دادا کے نام پر کوچہ رائے امان دہلی کے چاندنی چوک علاقہ میں ابھی تک موجود ہے۔ وہ عہد محمد شاہی میں سرکاری عہدیدار تھے۔ جنہوں نے نادر شاہ کے لشکریوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر بہادری سے جان دی تھی۔ جرأت کی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہیں لیکن اغلب قیاس ہے کہ وہ ۱۷۴۸ء میں پیدا ہوئے۔

جرأت کا خاندان فیض آباد چلا گیا  اور ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت وہیں ہوئی۔ لیکن ان کی تعلیم بس واجبی رہی۔ اپنے وقت کے معیار کے لحاظ سے وہ اسے مکمل نہیں کر سکے پھر بھی ان کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ فارسی زبان اور، علم طب، عروض و قواعد اور فنِ شعر سے بخوبی واقف تھے۔ انھیں فیض آباد میں ہی شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ وہ جعفر علی حسرت کے شاگرد ہو گئے اور  اس قدر مشق اور پختگی بہم پہنچائی کہ استاد سے آگے نکل گئے۔ میر حسن کے بقول ان کو شاعری کا اتنا شوق تھا کہ وہ ہر وقت اسی میں گم رہتے تھے۔ ان کے تین بیٹوں اور ایک بیٹی کا تذکرہ ملتا ہے۔

ناقدین کی رائے

جرأت کی شاعری کو میر تقی میر نے چوما چاٹی اور مصحفی نے  "چھنالے کی شاعری” کہا تھا لیکن یہ تحقیری اور اہانت آمیز کلمات اگر ایک طرف ان دو بڑے شاعروں کی جھنجلاہٹ کا پتہ دیتے ہیں تو دوسری طرف جرأت کی شاعری کے انداز کی طرف بھی لطیف اشارہ کرتے ہیں۔ جرأت ، میر اور مصحفی کے ہوتے ہوئے، مشاعروں میں ان دونوں سے زیادہ داد حاصل کرتے تھے۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان کا دیوان ہر وقت  نواب آصف الدولہ کے سرہانے رکھا رہتا تھا۔

شاعرانہ عظمت

جرأت کا کلام زبان کے اعتبار سے صاف و شستہ ہے، بندش چست ہے اور محاورے کو کہیں ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ مسلسل غزلیں کہنا اور غزل در غزل کہنا ان کی اک اور خوبی ہے جس نے ان کو استاد کا درجہ دے دیا، وہ اپنی کم علمی اور فن کے اصول و قواعد سے مبیّنہ لاعلمی کے باوجود انشاء اور مصحفی جیسے استادوں سے کبھی نہیں دبے۔

تصانیف

جرأت نے ایک ضخیم کلیات اور دو مثنویاں چھوڑی ہیں۔ کلیات میں غزلیں، رباعیات، فردیات، مخمسات، مسدسات، ہفت بند، ترجیع بند، واسوخت، گیت، ہجویات، مرثیے، سلام، فالنامے وغیرہ سب موجود ہیں۔ ایک مثنوی برسات کی ہجو میں ہے اور دوسری حسن وعشق ہے جس میں خواجہ حسن اور بخشی طوائف کا قصّہ بیان ہوا ہے۔

شاگرد

آپ کے لاتعداد شاگردوں میں شاہ رؤف احمد سرہندی، مرزا قاسم علی مشہدی، غضنفرعلی لکھنوی، چاہ حسین حقیقت اور تصدق حسین شوکت صاحب دیوان تھے۔

آخری ایام

جرأت نے ۱۸۰۹ء میں وفات پائی۔

منتخب کلام

Quiz On Jurat

قلندر بخش جرأت 1
Advertisements