تعارف

اردو ادب کے ایک مایا ناز شاعر سید محمد حسین ۱۸۸۷ کو علی گڑھ کے قریب ایک قصبے جلالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا قلمی نام قمر تھا۔ ان کا قمر جلالوی نام مشہور عام ہوا۔ بہت ہی کم سن عمر میں شاعری سے لگاؤ ہو گیا تھا اور انھوں نے سنجیدگی سے اس کی مشق کرنا شروع کردی تھی۔ ان کی تعلیم کسی مستند ادارے کی حاصل کردہ ڈگری سے ثابت نہیں مگر ان کو قادر الکلام شاعر مانا جاتا ہے۔ ان کے گھریلو حالات یکسر بدحال تھے اسی سلسلے میں انھوں نے بچپن میں ہی مختلف جگہوں پر کام کیا۔

ادبی تعارف

استاد قمر جلالوی اپنے ہم عصر شعراء میں استاد کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ نے بہت کم سنی میں اشعار کہنے کی ابتداء کی اور یکتائے روز گار ہو کر ممتاز مقام پر فائز ہوئے ۔آپ نے اپنے سے معمر شعراء کی استادی کا شرف حاصل کیا۔ آپ جتنے بڑے شاعر تھے اتنے ہی بے نیاز و بلند صفت انسان تھے۔ آپ کی حیات میں آپ کا کوئی بھی مجموعہ شائع نہ ہوا۔ نوحے ، سلام ، مراثی، عہد قدیم سے شاعروں نے اس پر اپنے منطق و فکر کے دریا بہا دیئے ہیں اور درحقیقت یہ ہے کہ ہر شاعر نے اس کا حق ادا کیا ہے لیکن قمر جلالوی ان منزلوں میں پوری انفرادیت و تخصص کے ساتھ جولہ گر ہوئے ہیں اور اپنے اسلوب خاص طرز و منفرد کو ہر جگہ برقرار رکھا ہے۔

استاد قمر جب شعر کہتے شہر کا بچہ بچہ استاد کے مخصوص ترنم میں ان کے شعر پڑھنے لگتے۔ استاد قمر کے کلام میں جو خوبیاں بعد میں پائی گئیں انہیں ان کے کلام کا جوہر کہنا چاہئے وہ سب ان کے اشعار میں موجود ہے۔ بیان کی برجستگی , اسلوب کی سلاست ایک چبھتی ہوئی بات کہنے کا انداز اور اس کے ساتھ ایک مخصوص قسم کی ڈرامائیت۔

شاعری

استاد قمر کے کلام کی ایک خصوصیت جو ان کے اشعار میں تاثیر کی بحالیاں بھردیتی ہے۔ زمانہ اب بہت بدل گیا ہے۔ شعر و ادب کی دنیا تبدیل ہو کر کچھ سے کچھ ہو گئی ہے۔ مزاق سخن میں کچھ ایسی تبدیلیاں ہوئیں ہیں کہ لوگ آتش و مصحفی کو بھی شاعر نہیں مانتے تو بچارے قمر کس گنتی میں ہیں۔ لیکن یہ بات پوری دیانت اور خلوص سے کہی جاسکتی ہے کہ قمر جلالوی ایک بڑی روایت کے آخری مقبول شاعر تھے۔ ان کے کلام میں وہ مزہ تھا جو ان کے ساتھ اس بڑی روایت کے خاتمے کے ساتھ شاعری سے رخصت ہو گیا۔

تصانیف

استاد کی مشہور تصانیف میں
مجموعے غمِ جاوداں،
اوجِ قمر،
اشکِ قمر اور
عقیدتِ جاوداں شائع ہوئے۔

آخری ایام

۲۴ اکتوبر ۱۹۶۹ کو ۹۱ سال کی عمر میں آپ کراچی میں ملک عدم سدھار گئے۔

منتخب کلام

قمر جلالوی کی غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisements