Advertisement

تعارف

قائم چاند پوری اٹھارویں صدی کے اوائل کے شاعروں میں سے ایک ہیں۔ وہ میری تقی میر، محمد رفیع سودا اور خواجہ میر درد کے ہم عصر تھے۔ قائم کا پورا نام محمد قیام الدین اور قائم تخلص تھا۔ قائم کی ولادت قصبہ چاند پور، ضلع بجنور کے قریب محدود نام کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی۔ محدود گاؤں  اور اس کے آس پاس کی زمینیں قائم کے بزرگوں کو شاہی دربار سے جاگیر کے طور پر ملی تھیں۔ قائم ذات کے سید تھے بعد میں شیخ کہلانے لگے۔ قائم کی بیوی کا نام چاند بی بی تھا۔

Advertisement

ادبی سفر

غزل ، قصیدہ، مثنوی اور دیگر اصناف سخن میں قائم نے خوب طبع آزمائی کی ہے اور بالخصوص قطعات اور رباعیات کے میدان میں تو قائم نے اپنے ہم عصروں میں ایک نمایاں نقش چھوڑا ہے۔ قائم جو قابل رشک شعری صلاحیت کے مالک تھے، بہت جلد فراموش کر دیے گئے لیکن اس حقیقت کا اعادہ ضرور کرنا چاہیے کہ موجودہ صدی میں جب اسلامی شعری روایات کی چھان بین کا سلسلسہ پھر شروع ہوا تو قائم کو شایان شان مقام ملا، ادھر ان کے کلام کی کئی انتخابات شائع ہوئے اور ان کی فکر و فن پر ایک سے زیادہ تحقیقی مقالات سپرد قلم کیے گئے۔ ہر چند ایک شاعر کی حیثیت سے قائم کو بہت کم یاد رکھا گیا ہے لیکن ایک تذکرہ نگار کی حیثیت سے ان کی اہمیت کا اقرار ہمیشہ کیا گیا ہے۔

Advertisement

پختگی کلام اور غزل کے مصرعوں کی چستی اور قصیدہ و مثنوی وغیرہ کی طرز میں رداح زمانہ کے موافق استاد کی راہ پر چلتے تھے اور ان سے آگے بھی نکل جاتے تھے۔ انھوں نے ایک مختصر سے دیوان میں شاعری کی تمام لفظی اور معنوی خوبیوں کو جمع کر دیا ہے۔ان کے یہاں غالب کا سا رنگ اور میر کا سا استفہام تو نہیں ہے لیکن ایک تحیر اور تجسس ضرور ہے جو کائناتی موضوعات میں قائم کا لہجہ بالکل نیا اور منفرد کر دیتا ہے۔ یہ انفرادیت اور نیا پن دیوان قائم کے چند اشعار پڑھنے کے بعد ہی محسوس ہونے لگتا ہے۔ نئی نئی زمینوں ،خوش آہنگ اور بامعنی ترکیبوں، زبان کی صفائی اور روانی، سلاست اور بے ساختگی نے قائم کو یقینی طور سے اپنے معاصرین میں سب سے نیا اور منفرد کر دیا ہے۔

Advertisement

تصانیف

ان کی مشہور تصانیف میں مخزن نکات، کلیات قائم اور ایک دیوان موجود ہے۔

قائم ادبی مورخین کے بے اعتنائیوں کے مارے ہوئے ہیں۔ وہ اردو کے ممتاز ترین شعراء مثلاً میر اور سودا سے کسی طرح کم نہیں تھے لیکن وہ اس مقبولیت سے محروم رہے جو ان سب کے حصے میں آتی تھی۔ قائم کی شاعری بہت جامع اور ہمہ گیر ہے۔ آج بھی ان کی شاعری ہمارے دلوں کو چھوتی ہے۔

Advertisement

آخری ایام

قائم کا انتقال ۱۷۹۳ میں  ہوا۔ کہا جاتا ہے اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی۔

منتخب کلام

قائم چاند پوری کی ایک غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisement

Quiz On Qayem Chandpuri

قائم چاند پوری 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement