تعارف

راحت اندوری جنوری ۱۹۵۰ کو مدھیہ پردیش کے اندور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی اسباق گھر میں پڑھے پھر اعلیٰ تعلیم کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اردو میں ایم اے پاس کیا، خود کوپی ایچ ڈی سے روشناس کیا۔درس و تدریس کو اپنا پیشہ بنایا،آئی کے کالج میں پڑھاتے رہے۔

شاعرانہ عظمت

شاعری کا شوق تو بچپن سے ہی رہا ہے،شعر و ادب کا ذوق رہا۔انہوں نے اختر شیرانی کو دل میں بٹھایا اور ساحر کو اپنے لئے خضر راہ مقرر کیا۔فیض سے بھی متاثر ہوئے۔ انھوں نے اپنا پہلا شعر ۱۹٦۸ میں کہا اور پھر مسلسل شعر کہنے لگے۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے نہ صرف بالی ووڈ فلموں کے لیے نغمہ نگاری کی بلکہ گلوکاری کے کئی شوز میں بطور جج حصہ بھی لیا۔

عام طور پر راحت اندوری کو نئی پوت بطور شاعر ہی پہچانتی ہے، انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ باتیں بتائیں جو اُن کے فنی سفر ، تلفظ اور گلوکاری میں معاون ثابت ہوئیں۔ان کے شعر سنانے کا انداز خطیبانہ بلکہ نہایت درجہ جارحانہ ہوتا ہے۔وہ بڑے سے بڑے مفکر شعر کے حلق سے داد کھینچ نکالتے ہیں۔

راحت اندوری کی کامیابی کا راز ان کی شاعری کی معنویت اور مخصوص تحت اللفظ ادائی شعر، دونوں کا امتراج میں ہے۔وہ پھول کی پتی سے ہیرے کے جگر کو کاٹنے کا فن سے خوب واقف ہیں۔وہ جانتے ہیں مردان نادان پر نرم و نازک کلام بے اثر ہی رہتا ہے۔چنانچہ وہ نرم و نازک شعر کہتے ہیں نہ نزاکت مآبی کے ساتھ اسے پیش کرتے ہیں۔وہ خطرناک حد تک نازک مسائل اپنے شعر میں باندھتے ہیں اور انہیں بڑی بے جگری کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ان کے شعر اور ادائگی شعر میں مکمل یگانگت پائی جاتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں وہ اپنی فکر میں ترقی پسند ہیں لیکن اظہار میں وہ جدید ہیں۔ان کے یہاں نہ ترقی پسندوں کے کلیشیرے ہیں نہ جدیدیوں کی ایہام پرستی اور چیستاں طرازی۔وہ اپنی بات نشتر بنانا خوب جانتے ہیں۔ راحت اندوری کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ جرات مند ہیں۔وہ بڑے بڑے صاحبان اقتدار کی موجودگی میں بھی کسی طرح کے تکلف یا مصلحت سے کام نہیں لیتے۔

راحت اندوری ‘ عصر حاضر کے نہایت مقبول شاعر ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی باڈی لینگویج کے ساتھ شعر سناتے ہیں۔ مشاعرہ کو کس طرح لوٹا جا تا ہے، وہ اس فن سے خوب واقف ہیں۔ سامعین انہیں بار بار سنانے کی فرمائش کرتے رہتے ہیں اور وہ سناتے رہتے ہیں۔ راحت اندوری ‘ اردو مشاعروں کا بہت بڑا نام ہے اس لیے انہوں نے نہ صرف ملک کے مختلف علاقوں میں مشاعرہ پڑھا ہے بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی مشاعرہ پڑھتے آے ہیں۔

مجموعہ کلام

راحت اندوری کے اب تک چار مجموعے کلام شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں دھوپ دھوپ ،رت،میرے بعد،پانچواں درویش اور کن فیکون شامل ہیں۔صرف تین دہائیوں کے شعری سفر میں راحت نے بڑی تیزی سے عالمگیر شہرت اورعروج حاصل کر لیا ہے۔ یہ چراغ اب تک اپنی روشنی بانٹ رہا تھا لیکن آج مورخہ 11 اگست 2020 کو مشہورِ زمانہ بیماری کرونا وائرس کی وجہ سے اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ اللہ پاک ان کی بے حساب مغفرت فرمائے۔

منتخب کلام

ڈاکٹر راحت اندوری کی مشہور زمانہ غزل جو عوام میں مقبول عام ہے۔

Quiz on Rahat Indori

راحت اندوری 1
Advertisements