تعارف

جون ۱۸۹۷ء کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور شہر کے كھیرنی باغ محلے میں پنڈت مرلیدھر کی بیوی مولمتی کے بطن سے پیدا ہوئے بسمل اپنے ماں باپ کی دوسری اولاد تھے۔ ان سے پہلے ایک بیٹا پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا۔ بچے کا زائچہ اور دونوں ہاتھ کی دسوں انگلیوں کی گولائی دیکھ کر ایک نجومی نے پیش گوئی کی تھی۔ "اگر اس بچے کی زندگی کسی طرح کی نظریاتی بندش سے بچی رہے، جس کا امکان بہت کم ہے، تو اسے عنان حکومت سنبھالنے سے دنیا کی کوئی بھی طاقت روک نہیں پائے گی۔

ماں باپ دونوں ہی زائچہ کے ستارے "اسد” کے حامل تھے اور بچہ بھی یہی صفت رکھتا تھا۔ لہذا نجومی نے بہت سوچ بچار کرکے زائچہ کے اعتبار سے میزان کے حرف نام "ر” ہی پر نام رکھنے کا مشورہ دیا۔ ماں باپ دونوں ہی رام کے پرستار تھے، لہذا بچے کا نام رام پرساد رکھا گیا۔ ماں مول متی تو ہمیشہ یہی کہتی تھیں کہ انہیں رام جیسا بیٹا چاہیے تھا سو رام نے ان کی عبادت سے خوش ہو کر پرساد کے طور پر یہ بیٹا دیا، ایسا یہ لوگ مانتے تھے۔ بچے کو گھر میں تمام لوگ محبت سے رام کہ کر ہی پکارتے تھے۔

رام پرساد کی پیدائش سے قبل ان کی ماں ایک بیٹے کو کھو چکی تھیں لہذا جادو ٹونے کا سہارا بھی لیا گیا۔ ایک خرگوش لایا گیا اور نوزائیدہ بچے کے اوپر سے اتار کر آنگن میں چھوڑ دیا گیا۔ خرگوش نے آنگن کے دو چار چکر لگائے اور فورًا مر گیا۔ یہ واقعہ عجیب ضرور لگتا ہے لیکن حقیقی واقعہ ہے اور تحقیق کا موضوع ہے۔ اس کا ذکر رام پرساد بسمل نے خود اپنی آپ بیتی میں کیا ہے۔ مرلیدھر کی کل نو اولادیں ہوئیں جن میں پانچ بیٹیاں اور چار بیٹے تھے۔ رام پرساد ان کی دوسری اولاد تھے۔ آگے چل کر دو بیٹیوں اور دو بیٹوں کا بھی انتقال ہو گیا۔

بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔ بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن ۱۹۱۶ء میں ۱۹ سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور ۳۰ سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔

تعلیم

عالم طفلی ہی سے رام پرساد کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جانے لگی۔ جہاں کہیں وہ غلط حروف لکھتا، اس کی خوب پٹائی کی جاتی لیکن اس میں شوخی اور شرارت بھی کم نہ تھی۔ موقع پاتے ہی پاس کے باغ میں گھس کر پھل وغیرہ توڑ لاتا تھا۔ شکایت آنے پر اس کی پٹائی بھی ہوا کرتی لیکن وہ شیطانی سے باز نہیں آتا تھا۔ اس کا دل کھیلنے میں زیادہ لیکن پڑھنے میں کم لگتا تھا۔ اس کے والد نے پہلے ہندی حروف شناسی کرائی لیکن ہندی حرف उ (اُ) سے الو نہ تو اس نے پڑھنا سیکھا اور نہ ہی لکھ کر دکھایا۔ ان دنوں ہندی کے حروف تہجی میں ” उ (اُ) سے الو ” ہی پڑھایا جاتا تھا۔ اس بات کی وہ مخالفت کرتا تھا اور بدلے میں والد کی مار بھی کھاتا تھا، ہار کر اسے اردو کے اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ شاید یہی فطرتی خصوصیات رام پرساد کو ایک انقلابی بنا پائیں۔ یعنی وہ اپنے خیالات میں پیدائش سے ہی بڑا پکا تھا۔

رام پرساد نے اردو مِڈِل کے امتحان میں پاس نہ ہونے پر انگریزی پڑھنا شروع کیا۔ ساتھ ہی پڑوس کے ایک پجاری نے رام پرساد کو پوجا کا طریقہ کار کا علم کروا دیا۔ پجاری ایک سلجھی ہوئی علمی شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی شخصیت کا اثر رام پرساد کی زندگی پر بھی پڑا۔ پجاری کی تعلیمات کی وجہ سے رام پرساد پوجا کے ساتھ تجرد پر عمل کرنے لگا۔ پجاری کی دیکھا دیکھی رام پرساد نے ورزش کرنا بھی شروع کر دیا۔  رام پرساد میں غیر متوقع تبدیلی ہو چکی تھی۔ جسم خوبصورت اور طاقتور ہو گیا تھا۔ وہ باقاعدہ پوجا میں وقت گزارنے لگا تھا۔ اسی دوران مندر میں آنے والے نمائندے اندرجیت سے اس کا رابطہ ہوا۔ منشی اندرجیت نے رام پرساد کو آریہ سماج کے بارے میں بتایا اور سوامی دیانند سرسوتی کی لکھی کتاب ستیارتھ پرکاش پڑھنے کو دی۔ ستیارتھ پرکاش کے سنجیدہ مطالعے سے رام پرساد کی زندگی پر حیرت انگیز اثر پڑا۔

بسمل کا انقلابی فلسفہ

ہندوستان کو برطانوی سلطنت سے آزاد کرانے میں یوں تو ہزا رہا بہادروں نے اپنی انمول قربانی دی لیکن رام پرساد بسمل ایک ایسے حیرت انگیز انقلابی تھے جنہوں نے انتہائی غریب خاندان میں پیدائش لے کر عام تعلیم کے باوجود غیر معمولی حوصلہ اور غیر متزلزل عزم کے زور پر ہندوستان پرجاتنتر یونین کے نام سے ملک گیر تنظیم قائم کی جس میں ایک سے بڑھ کر ایک شاندار اور عظیم الفطرت نوجوان شامل تھے۔

بسمل کی پہلی کتاب سن ۱۹۱۷ء میں شائع ہوئی تھی جس کا نام تھا "امریکا کی آزادی کی تاریخ”۔ بسمل کے پیدائش کے سو سال کے موقع پر ۱۹۹۶ء-۱۹۹۷ء میں یہ کتاب آزاد بھارت میں پھر سے شائع ہوئی جس کی رسم رونمائی بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کی۔ اس پروگرام میں آر ایس ایس کے اس وقت کے سرسنگھچالك پروفیسر راجندر سنگھ (رجو بھیا ) بھی موجود تھے۔ اس مکمل گرنتھاولی (مجموعہ کلام) میں بسمل کی تقریبًا دو سو سے زائد نظموں کے علاوہ پانچ کتابیں بھی شامل کی گئی تھیں۔ لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے بسمل کے انقلابی فلسفہ کو سمجھنے اور اس پر تحقیق کروانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔

تصانیف

دماغ کی لہر آزاد ہند میں طبع ہونے والا بسمل کا پہلا نظمی مجموعہ ہے جو سن ۲۰۰۶ء میں شائع ہوا۔ ۱۱ سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں ۱۱ کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔

آخری ایام

رام پرساد کو ۳۰ سال کی عمر میں ۱۹ دسمبر ۱۹۲۷ء کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی اور ایک بہترین شاعر اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔

منتخب کلام

بسمل کی ایک اردو غزل  زندگی کا راز

بسمل کی ایک اور غزل بسمل کی تڑپ

Quiz on Ram Prasad Bismil

رام پرساد بسمل 1
Advertisements