تعارف و حالات زندگی

اردو کے قابل قدر شخصیت روش صدیقی ان کا اصل نام شاہد عزیز صدیقی تھا۔روش صدیقی نے اپنے قلمی نام سے ادبی حلقوں میں اپنے نام کو منوایا۔روش صدیقی ۱۰ جولائی ۱۹۱۱ کو جوالا پور میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد مولوی طفیل احمد بھی شاعر تھے۔ روش صدیقی ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﭘﺎﺋﯽ۔ ﻋﺮﺑﯽ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻔﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔

ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﻮﻑ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺪﺍﻧﺖ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﺍﻗﻔﯿﺖ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﯿﮟ۔ ہردوار کی درس گاہ گروکل کانگڑی سے روش صدیقی نے سنسکرت کی تعلیم حاصل کی۔اردو ،فارسی عربی کی تعلیم روش نے اپنے گھر میں اپنے والد طفیل احمد سے حاصل کی اور شاعری بھی ان کی نگرانی میں سیکھی۔

شاعرانہ عظمت

روش صدیقی نثر ونظم میں یکساں قدرت رکھتے تھے۔ روش فطری طور پر شاعر تھے۔ 7 برس کی عمر کھیل کود کی ہوتی ہے مگر روش نے اس کچی عمر میں شاعری کا آغاز کر دیا تھا۔ والد مولوی طفیل احمد شاہد فارسی کے عالم اور اچھے شاعر تھے۔ روش صدیقی کے اسلوب میں حسن و عشق کے بارے میں جو خیالات موجود ہیں وہ رومانیت کے مطہر ہیں۔ اپنی شاعری میں روش صدیقی نے حسن کو دائمی مسرتوں ، پیہم راحتوں ، ابدی خوشیوں اور کامرانیوں کا وسیلہ قرار دیا ہے۔ روش صدیقی کی شاعری میں محبوب سے قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت کو عمدہ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر روشؔ کی غزلوں اور نظموں میں پرفکر و فن، جنون و ہوش اور دل و دماغ کی چاندنی پھیلی ہوئی ہے مگر یہ چاندنی نہ تو مارچ اور اپریل کی صاف و شفاف چاندنی ہے نہ ہی جولائی اور اگست کی بھیگی ہوئی چاندنی، بلکہ دسمبر اور جنوری کی قہر آلود چاندنی ہے۔ جس میں تخیل کے خدو خال بظاہر تو دھندلے دھندلے نظر آتے ہیں مگر ذرا سے تامل اور تفّکر کے بعد ان کے نقوش اجاگر ہوجاتے ہیں۔

ﺭﻭﺵ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﺍٓﻣﯿﺰﮦ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺧﺘﺮ ﺷﯿﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﻃﺮﺯ ﭘﺮ ﺭﻭﻣﺎﻧﯽ ﻧﻈﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ، ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﻣﻠﯽ ، ﻣﻠﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﻢ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺭﻭﺵ ﮐﯽ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﮐﻼﺳﯿﮑﯽ ﺭﭼﺎﻭٔ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ’ ﻣﺤﺮﺍﺏ ﻏﺰﻝ ‘ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺷﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﮩﺖ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﻮﺍ۔
روش صدیقی کی مشہور تصانیف میں افسون تکلم،کارواں،خیاباں خیاباں، محراب غزل قابل ذکر ہیں۔

وصال

23 جنوری 1971 کی وہ شبِ تاریک کہ جس شب شاہجہاں پور کے ایک مشاعرے کے دوران شدید قلبی دورہ میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ پلک جھپکتے ہی دنیا ایک سچے محب وطن اور فدائے اردو سے محروم ہوگئی۔ ان کی عمر ٦۲ سال تھی۔

منتخب کلام

روش صدیقی کی مشہور غزل مندرجہ ذیل ہے۔

روش صدیقی کی مشہور زمانہ نظم جو مہاتما گاندھی کے نام پر ہے۔

مسافر ابدی کی نہیں کوئی منزل
یہاں قیام کیا یا وہاں قیام کیا
تری وفا نے بڑے مرحلے کئے آساں
فروغ صبح کو تو نے فروغ کام کیا
صنم کدوں میں بڑھا اعتبار اہل حرم
حرم نے دیر نشینوں کا احترام کیا
حیات کیا ہے محبت کی آگ میں جلنا
یہ راز بھی ترے سوز وفا نے عام کیا
اٹھا اٹھا کے حجابات چہرۂ منزل
مسافران صداقت کو تیز گام کیا
گزر کے دانش حاضر کے آسمانوں سے
بلند سادگی عشق کا مقام کیا
ملا جو دست‌‌‌ حوادث سے زہر بھی تجھ کو
بڑے خلوص سے تو نے شریک جام کیا
وہ درد تیری خموشی میں تھا نہاں جس نے
سکوت ناز کو آمادۂ کلام کیا
صلہ تھا تیری ریاضت کا صبح آزادی
وہ صبح جس کو غلاموں نے ننگ شام کیا
ابھی تو گوش بر آواز تھی بھری محفل
کہاں یہ تو نے کہانی کا اختتام کیا
خیال دوست کا پرتو تھی کائنات تری
اسی تلاش میں گم ہو گئی حیات تری

Quiz on Ravish Siddiqui

روش صدیقی 1
Advertisements