تعارف

ریاض خیرابادی کا نام ریاض احمد تھا وہ ۱۸۵۳ء میں اتر پردیش کے مردم خیز قصبہ خیر آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے  والد سید طفیل احمد پولیس انسپکٹر اور با رسوخ آدمی تھے۔ ریاض کا خیر آباد سے اس قدر گہرا تعلق ہے کہ ہم خیر آباد کا تصور بغیر ریاض کے کر ہی نہیں سکتے۔ وہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ریاض نے قدیم شرفا کی طرح اپنی تعلیم کی ابتداء فارسی سے کی۔ ان کے والد خود فارسی اور عربی کے عالم تھے۔ ریاض نے فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ ریاض خیر آبادی کی تعلیم کا فخر گورکھپور اور خیر آباد دونوں کو حاصل ہے لیکن ان کا رجحان تعلیم سے زیادہ شعر و شاعری کی طرف تھا۔

ادبی سفر

ریاض کے کلام کا کچھ حصّہ شراب حقیقی سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ اس زمرے میں وہ حور و فرشتہ، زاہد و ناصح کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کی شراب عرفان کا مقصد مذہبی ریاکاری کے پردے کو فاش کرنا ہے اس وقت ان کی معرفت شرعی حدود میں ہی رہتی ہے اور وہ حافظ کے دوش بدوش کھڑے کئے جا سکتے ہیں اور ان کی شاعری کا موازنہ حافظ شیرازی اصغر گونڈدی، مضطر خیر آبادی سے کیا جا سکتا ہے۔

ریاض کی ایک طرح کی شراب نیچر کے پیمانوں پر بھی پوشیدہ ہے وہ نیچر کی نیرنگیوں میں شراب کی سی مستی محسوس کرتے ہیں ایسے عناصر خیام اور ریاض میں مشترک ہیں۔ ریاض کی عشقیہ شاعری لکھنؤ کے عیاشی و عیش کوشی کے ماحول کی مرہون منت ہے۔ ریاض کی شاعری میں جنسیات کا کافی دخل ہے اور ان کا عشق اور شباب دونوں جنسیات ہی کے جذبے سے متحرک ہیں۔ ان کی شاعری میں جنسی عناصر کی کار فرما ہیں۔
ریاض نے مزاحیہ شاعری کو انتہائی حدوں تک پہنچا دیا ہے لیکن ان کا مزاح طبع سلیم پر گراں نہیں ہے اور ذاتی عناد لئے ہوئے ہے۔ انہوں نے اپنے میں حشر حور فرشتہ وغیرہ کو خوب لپیٹآ ہے ان کی شاعری کا ایک اہم پہلو طنز و ظرافت  بھی ہے۔

تصانیف

ریاض خیر آبادی کی مشہور تصانیف میں ریاض رضواں، انتخاب ریاض خیر آبادی قابل ذکر ہیں۔ ان کا کوئی مجموعہ ان کی زندگی میں شائع نہیں ہوا۔

آخری ایام

آپ ۱۹۱۰ء میں خیرآباد آئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ تب ان گا گزارا راجہ محمود آباد کی طرف سے ملنے  والے وظیفہ پر تھا، مکان کے خاموش ترین گوشہ میں اک آرام دہ کرسی پر لیٹے ڈاک اور اپنی موت کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ آخر ۱۹۳۴ میں ہضم کی شکایت میں ان کا انتقال ہو گیا۔ خیر آباد میں ہی آن کی آخری آرام گاہ ہے۔ ۸۲ سال کی عمر میں آبائی قبرستان میں سپرد خاک ہو گئے۔

ریاض خیر آبادی کی غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisements