Advertisement

تعارف

اردو ادب کی تاریخ میں لکھنؤ کے بے شمار ستاروں کے نام ہم جانتے ہیں اسی کہکشاں کے ایک اور نام مرزا ذاکر حسین قزلباش بھی ہیں۔ان کا تخلص ثاقب ہے۔ مرزا ذاکر حسین قزلباش ثاقب لکھنوی ۱۹ رمضان المبارک ۱۲۸۵ ہجری مطابق 1869ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ اس وقت آپ کے والد ماجد مولوی آغا عسکری قزلباش المعروف مرزا محمد حسین سرکاری برطانیہ کے ملازم تھے اور آپ کا قیام آگرہ میں تھا۔ والد کی لکھنؤ منتقلی کے ساتھ ثاقب بھی لکھنو چلے گئے تھے۔

Advertisement

ابتدائی تعلیم

مرزا ثاقب کے گھر کا ماحول مذہنی تھا۔ثاقب کی ابتدائی تعلیم قدیم اسلوب پر ہوئی۔ ان کی والدہ عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں سے بخوبی واقف تھیں۔ ثاقب نے ان تینوں زبانوں کو اپنی ماں سے حاصل کیا اور اس کے بعد انگریزی کی اعلیٰ تعلیم دلوانے کی غرض سے ان کو آگرہ بھیجا گیا۔ انھوں نے سینٹ جانس کالج میں انٹر میڈیٹ تک انگریزی تعلیم حاصل کی۔ ثاقب لکھنوی ایران کے سفارت خانے میں ملازم بھی رہے۔

Advertisement

شاعرانہ عظمت

ثاقب لکھنوی کی شاعری میں پائے جانے والے گداز اور سلاست کی وجہ سے ان کے کئی اشعار ان کے نام سے بہت آگے نکل گئے اور آج ضرب المثل کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں۔ ثاقب لکھنوی صاحب فطرت سے مذاق شاعری لے کر آئے تھے۔ انھوں نے دس گیارہ برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا لیکن بہ سبب حجاب پدری کافی عرصہ تک بحیثیت شاعر مشاعروں میں شریک نہ ہوسکے۔

دراصل ایک کامیاب اور باکمال شاعر کے لئے دو باتیں اشد ضروری ہیں۔ اول یہ کہ وہ فطری طور پر شاعر ہو اور دوسرا یہ کہ اس نے باکمال شعراء اکرام کے کلام کا مطالعہ کیا ہو۔ یہ دونوں صفتیں مرزا ثاقب کی ذات سے وابستہ تھیں۔

Advertisement

مرزا ثاقب کے یہاں ایسے اشعار کی بڑی کثرت ہے جن میں نزع , موت , جنازہ , تدفین , قبر اور چراغ , لحد جیسے مضامین کی تکرار پائی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جذبات سوگواری میں ڈوبا ہوا رنگ تغزل لکھنویت کی دین ہو۔ بہرحال اس میں شک ہے کہ ثاقب نے اپنے کلام میں کرفانی آب درنگ عطا کیا ہے۔

مرزا ثاقب کے کلام میں ایسے بھی اشعار کم نہیں جو ان کی حکیمانہ بصیرت پر دلالت کرتے ہیں۔ غم مفکرین کے لئے ہمیشہ غور و فکر کا موضوع بنا رہا ہے۔ یہ غم انسان کا مقدر ہے۔ مصائب میں صبر بہت آسان ہو سکتا ہے بشرطیکہ انسان یہ نکتہ سمجھ لے کہ جیتے جی مصائب سے نجات ملنا ممکن تو ہے مگر دستور نہیں۔ ثاقب لکھنوی صاحب دیوان شاعر ہیں ان کے کام کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔

Advertisement

آخری ایام

لگ بگ چھ دہائیوں تک اردو شاعری کی بڑی خاموشی سے بے لوث خدمت انجام دینے کے بعد 1946ء کو یہ داستان حیات ۷۷ سال کی عمر میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔

منتخب کلام

ثاقب لکھنوی کی غزل سے چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں :

Advertisement

Quiz On Saqib Lakhnavi

ثاقب لکھنوی 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement