تعارف

اردو ادب کے ابتدائی دنوں میں جب عروج پزید ہوتی زبان میں غالب ، میر تھے اسی عہد میں محمد نصیر الدین کا نام بھی قابلِ ذکر ہے۔ محمد نصیر الدین ان کا اصلی نام تھا۔ ان کا قلمی نام شاہ نصیر تھا۔ ان کا قلمی نام شاہ جو کہ ان کا نسب سادات سے جا ملتا تھا اس وجہ سے لگا اور نصیر نام کافی مقبول ہوا۔ اپنے والد کی بےوقت موت پر ان کو گدی نشین کر دیا گیا۔ ان کے والد کا نام شاہ غریب تھا جو عوام الناس میں برگزیدہ تصور کیے جاتے تھے۔ شاہ نصیر کی ولادت  ۱۷۵٦ء کو دہلی میں ہوئی۔ تاریخ اور مہینے میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔

تعلیم

شاہ نصیر نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد کی موجودگی میں شہر دہلی سے ہی حاصل کی۔ مگر چند لوگوں کے حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ علم میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اس عہد کے تذکرہ نگاروں نے والد کی موت کو یا کم فہمی میں ذمہ داری ملنے کو ان کی تعلیم سے بےزاری کا جواز بنا کر پیش کیا ہے اور شاعری کو انھوں نے اپنی تفریح کا ذریعہ بنا لیا تھا۔

خطاب

اپنے منفردیت سے اور تخیل کی بلند پروازی سے شاہ نصیر نے ادب میں اپنا لوہا منوا لیا تھا۔ ان کے کلام کی خصوصیات کی وجہ سے ان کو "ملک الشعرا” کا خطاب دیا گیا جس سے ان کی مقبولیت میں بےپناہ وسعت آئی۔

تصانیف

ان کی مشہور تصانیف میں چمنستان سخن اور کلیات شاہ نصیر
شامل ہیں مگر اب بہت نایاب ہو چکی ہیں ، شاید کسی ادب شناس کی پرانی الماری کی دوڑ سے اٹھی لہر کے نیچے دبی پڑی ہوگی۔

آخری ایام

مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد ۲۳ نومبر ۱۸۳۸ کو ۸۲ سال کی عمر میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔ انھوں نے حیدر آباد دکن میں ہی وفات پائی اور ان کی آخری آرام گاہ وہیں دکن میں ہے۔ ان کی وفات کے بعد ۱۸۷۸ میں اعلیٰ پریس میرٹھ سے حافظ محمد اکبر کی بے پناہ کاوشوں اور انتھک محنتوں کے نتیجے میں ان کا انتخاب کلیات شاہ نصیر شائع ہوا۔

منتخب کلام

شاہ نصیر دہلوی کی غزل ملاحظہ کریں۔

Quiz On Shah Naseer

شاہ نصیر 1
Advertisements