تعارف

اردو کے معروف و ممتاز شاعر شہرت عام شکیب جلالی کا اصل نام سید حسن رضوی ہے۔ سید حسن یکم اکتوبر ۱۹۳۴ کو اترپردیش (انڈیا) علی گڑھ کے ایک قصبے سیدانہ جلال میں پیدا ہوئے۔ابتدائی زندگی میں انھوں نے بدایوں کے علاقے میں ہوش سمبھالا۔ ان کے والد محترم بدایوں میں ملازمت سرانجام دے رہے تھے۔ ان کی والدہ کی موت کا ان پر بہت گہرا اثر ہوا۔ اس کے بعد وہ سید حسن رضوی سے شکیب جلالی بن گئے۔ انھوں نے کم سنی میں ہی شاعری لکھنا شروع کر دی۔ بلوغت کی عمر میں ہی ابتداء شعروشاعری کرلی۔ ان کے اشعار غیر معمولی اثر رکھتے تھے۔

تعلیم

۱۹۵۰ء میں شکیب جلالی نے بدایوں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر پاکستان چلے آئے۔ پاکستان میں انہوں نے سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا اور پھر لاہور سے بی اے آنرز کی ڈگری لی۔ ایم اے کرنے کے آرزو مند تھے لیکن معاشی تنگدستی آڑے آ گئی۔

ادبی آغاز

شکیب جلالی نے راولپنڈی سے ایک ادبی جریدے ’’گونج‘‘ کا اجرا کیا۔ ان کا ایک دوست بھی ان کا ساجھے دار تھا، بدقسمتی سے یہ جریدہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکا۔ وہ لاہور واپس آئے اور کچھ اور ادبی جرائد کے لیے کام کیا جن میں ’’شاہکار‘‘ ،’’وحدت‘‘ اور’’جاوید‘‘ شامل ہیں۔ اس کے بعد وہ صحافت میں آ گئے اور روزنامہ ’’مغربی پاکستان اور مشرق‘‘ کے لیے کام کیا۔

تاریخ کی ورق گردانی سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شکیب جلالی ان کم عمر رساں شعراء میں شامل ہیں جنھوں نے اپنے کام کو منوا لیا اور ان کی شاعری کی عظمت کا سکہ آج بھی قائم ہے۔ شکیب جلالی کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ انہوں نے غزل کو نیا لہجہ دیا۔ وہ منفرد اسلوب کے شاعر تھے۔

تصانیف

ان کی غزلیات کا مجموعہ ’’روشنی اے روشنی‘‘ ان کی وفات کے چھ سال بعد ۱۹۷۲ء میں لاہور سے شائع ہوا۔ اس مجموعہ کلام کا شمار اردو کے چند اہم ترین شعری مجموعوں میں ہوتا ہے۔ جہاں بھی شعری طرز احساس اور جدید طرز احساس کے خوبصورت ترین امتزاج کی بات ہوتی ہے تو شکیب جلالی کا نام سرفہرست دکھائی دیتا ہے۔

آخری ایام

۱۲ نومبر ۱۹۶۶ء میں ادبی حلقوں پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین تلے آ کر خودکشی کرلی۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۳۲ برس تھی۔ ان کا اپنا ایک شعر ان کی پوری زندگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہوا نظر آتا ہے؀

آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

نمونہ کلام (نظم)

سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے
کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے
میں نے پتھر سے جن کو بنایا صنم
وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے
حشر ہے وحشتِ دل کی آوارگی
ہم سے پوچھو محبت کی دیوانگی
جو پتہ پوچھتے تھے کسی کا کبھی
لاپتہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے
ہم سے یہ سوچ کر کوئی وعدہ کرو
ایک وعدہ پہ عمریں گزر جائیں گی
یہ ہے دنیا یہاں کتنے اہلِ وفا
بے وفا ہو گئے دیکھتے دیکھتے
غیر کی بات تسلیم کیا کیجیے
اب تو خود پر بھی ہم کو بھروسہ نہیں
اپنا سایہ سمجھتے تھے جن کو کبھی
وہ جُدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے
(شکیب جلالی)

غزل

سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے

ابھر کے ڈوب گئی کشتیِ خیال کہیں
یہ چاند ایک بھنور، چاندنی سمندر ہے

جو داستاں نہ بنے دردِ بیکراں ہے وہی
جو آنکھ ہی میں رہے وہ نمی سمندر ہے

نہ سوچیے تو بہت مختصر ہے سیلِ حیات
جو سوچئے تو یہی زندگی سمندر ہے

تو اس میں ڈوب کے شاید ابھر سکے نہ کبھی
مرے حبیب مری خامشی سمندر ہے
(شکیب جلالی)

A Quiz On Shakeeb Jalali

شکیب جلالی 1