Advertisement

تعارف

شکیل بدایونی کا اصلی نام غفار احمد اور تخلص شکیل بدایون ہے۔ انکے والد کا نام جمیل احمد قادری ہے۔ شکیل بدایونی تین اگست ۱۹۱۶ کو بدایون میں پیدا ہوئے۔ شکیل بدایونی نے اپنی شاعری کی ابتدا ۱۹۳۰ سے کی جب یہ صرف چودہ سال کے تھے۔ شکیل بدایونی کی ابتدائی شاعری تصوف اور تغزل کا حسین امتزاج ہے۔ شکیل ١٩٣١ اور ١٩٣٢ میں بمبئی میں انگریزی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے سے پہلے بدایون میں قرآن کریم پڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف اساتذہ سے اردو اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کر چکے تھے اور عربی کے ابتدائی اسباق بھی پڑھ چکے تھے۔

Advertisement

ادبی زندگی

١٩٤٦ میں شکیل بدایون سرکاری ملازمت کو خیرآباد کہہ کر فلمی دنیا میں شامل ہو گئے۔ شکیل بدایونی نے اپنے آپ کو کبھی کاروباری نہیں ہونے دیا کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے تخلیقی صلاحیت میں فرق آجاتا ہے۔ شکیل بدایونی کے نغموں نے فوراً مقبول عام ہونے کی سند حاصل کی جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔ جتنے مقبول گیت شکیل نے لکھے ہیں شاید ہی کسی اور شاعر نے لکھے ہوں۔ شکیل بدایونی اپنی پسند کی معیاری فلموں کے گیت لکھنے کی ذمیداری لیتے تھے اور صرف ان لوگوں کے ساتھ کام کرتے تھے جو انہیں پوری آزادی کے ساتھ کام کرنے دیں۔

Advertisement

اعزازات

شکیل بدایونی نے ۱۰۰ سے زائد فلموں کے گیت لکھے۔ شکیل بدایونی نے اپنا پہلا فلم فیئر ایوارڈ ١٩٦١ میں حاصل کیا۔ اس کے اگلے مسلسل دو سال انہیں دو اور فلم فیئر ایوارڈ ملے۔

Advertisement

تصانیف

شکیل بدایوانی کی مشہور و مقبول تصانیف میں دھرتی کو آکاش پکارے، دور کوئی گائے، نغمئہ فردوس، رعنائیاں، رنگیناں، صنم و حرم، شبستان، زیبائیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کلیات بھی ان کی حیات میں شائع ہو چکی تھی۔ مگر ان کی لکھی آپ بیتی تادیر ۲۰۱۴ کو شائع ہوئی۔

آخری ایام

۱۰ اپریل ۱۹۷۱ کو ۵۵ برس کی عمر میں شکیل بدایونی ممبئی سے دائمی سفر کو نکل پڑے۔ کہا جاتا ہے ان کی آخری آرام گاہ کو انتظامیہ نے ۲۰۱۰ میں مٹا دیا اور اب ان کی قبر لاپتہ ہے۔ شکیل بدایونی اپنے وقت کے بہترین نغمہ نگار اور غزل گو شاعر تھے۔ ان کا نام آج بھی شعری دنیا میں نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔

Advertisement

منتخب کلام

شکیل بدایوانی کا  خوبصورت کلام مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz On Shakeel Badayuni

شکیل بدایونی 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement