تعارف

اردو ادب میں نظموں کے اولین ستون درگا سہائے جن کو سرور جہاں آبادی کے نام سے عالم گیر شہرت ملی۔ ان کا تخلص سرور تھا۔ درگا سہائے سرور دسمبر  ۱۸۷۳ کو جہاں آباد ، بھارت میں حکیم پیارے لال کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد سخن فہم ،علم دوست آدمی تھے۔

تعلیم

سرور کی ابتدائی تعلیم ان کے والد کے زیر سایہ گھر پر ہی ہوئی۔ ابتدائی تعلیم جہاں آباد کے تحصیلی اسکول میں ہوئی۔ سید کرامت حسین سے فارسی زبان سیکھی اور انہیں کے اثر سے شعر وشاعری سے شغف پیدا ہوا  اور باقاعدہ شاعری کرنے لگے۔ کچھ عرصے بعد سرور کو انگریزی پڑھنے کا شوق ہوا لہذا ایک پوسٹ ماسٹر سے انگریزی سیکھی اور دو سال بعد انگریزی مڈل امتحان بھی پاس کر لیا۔ درسیات کی تکمیل کے لئے مڈل اسکول میں داخل ہوئے۔ سرور کے استاد کی ناگہانی موت کے بعد ان کا طالب علمی سے ہمیشہ کے لئے رشتہ ٹوٹ گیا۔

ادبی سفر

سرور نے قدیم اور جدید ادب کا غائر اور بالاستعیاب مطالعہ کیا اور ہردور کی خوبیوں اور خرابیوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اعتراضات اور اعترافات پر غور کرنے کے بعد سرور نے جدید اور قدیم کے درمیان مفاہمت کرائی۔ صالح کلاسیکی روایات سے رشتہ توڑ لینا کسی طرح مناسب نہ تھا۔ انھوں نے قدیم ادب کی بہترین اقدار کی مدد سے نئی ادب قدروں کی تخلیق کی۔

سرور کی شخصیت اور شاعری میں غیر معمولی عظمت اور دلکشی پائی جاتی ہے۔ سرور کے کلام کو عوام میں مقبولیت حاصل تھی۔ خواص ان کے فن کی قدر کرتے تھے۔ معاصر شعراء ان کی سخن گوئی اور شیوہ بیانی کےقائل تھے۔ اگر قبول عام کو کسی شاعر کی عظمت کا معیار ٹھہرایا جاسکتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ سرور کو اپنی زندگی میں ایسی مقبولیت حاصل تھی جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوتی ہے۔ ان کے معاصرین نے دل کھول کر داد دی۔

پنڈت درگا سہائے سرور جہاں آبادی اردو کے اولین نظم گو شعراء میں سے ہیں جنھوں نے اردو نظم میں کردار ادا کیا۔ اگر اردو نظم کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ اندازہ لگانا دشوار نہ ہوگا کہ سرور جہاں آبادی سے قبل اردو نظم کی تایخ میں صرف چند نام قابل ذکر ہیں۔ سرور اپنی روایت کے امین تھے۔ فطرت نے ان کو صنف نظم میں اعلیٰ تخلیقی صلاحیت عطا کی تھی۔ ماحول کی برگشتہ مزاجی اور قدیم ڈھانچہ کی شکست وریخت نے ان کو اظہار خیال کا زبردست میدان  عطا کر دیا تھا۔ اسی لیے سرور اپنے عہد کے ایک منفرد آواز بن گئے۔ سرور کی ابتدائی نظموں پردیدہ اور نادیدہ احوال نے خوبصورت تبصرے کیے جو ان کی انفرادیت کی علامت ہیں۔

سرور نے نظم کے موضوع ایسے اچھوتے منتخب کیے جو اس سے قبل اردو شاعری میں متعارف نہیں تھے۔ سرور نے تاریخی شخصیات پر نظمیں لکھیں، معاصر شخصیات کے مرثیے لکھے، فطرت کی تصویر کشی کی ، پہاڑوں ، ندیوں، موسموں ، پھولوں  اور خوشبوؤں پر شاعری کی وطن کی عظمت کے گن گائے، فطرت انسان اور جذبات و احساسات کو گویائی عطا کی۔

تصانیف

سرور جہاں آبادی کی مشہور تصانیف میں

  • خم کدہ سرور،
  • جام سرور ،
  • خمحانۂ سرور،
  • نوائے سرور اور
  • ہیمانہ سرور قابل ذکر اور سنگ میل کی حیثیت سے موجود ہیں۔

آخری ایام

سرور جہاں آبادی ۲۰ دسمبر ۱۹۱۰ کو ۳۷ سال کی عمر میں جہاں فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کو دہلی میں مدفن کیا گیا۔

سرور اکبر آبادی کی نظم کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔

Advertisements