تعارف

ترقی پسند فکر اور نظریے سے اپنی مضبوط وابستگی کی بنا پر اپنی ساری زندگی اور اپنی ساری صلاحیتیں اس کی تشہیر و تبلیغ کی لئے وقف کردی تھیں ایسے بلند قدآور شاعر کا نام وامق جونپوری ہے۔ وامق جونپوری ۲۳ اکتوبر ۱۹۰۹ کو جونپور اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام احمد مجتبیٰ ہے۔ وامق جونپوری مقبول عام ان کا قلمی نام ہے۔

حالاتِ زندگی

پڑھے لکھے ادبی خاندان میں پیدا ہونے کا ان کو یہ فائدہ ہوا کہ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہی ہوئی جس میں اردو فارسی انگریزی اور واجبی سی عربی شامل ہے۔ والد صاحب کی سرکاری نوکری کی وجہ سے وہ بارہ بنکی منتقل ہو گئے جہاں حسین زید پوری ان کے معلم مقرر ہوئے۔ ساتھ ہی ساتھ وہاں پر ہی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمٹ انٹر کالج سے اپنی ڈگری لی، بعد ازیں انھوں نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد وہ وکیل بن گئے اور اپنے وکالت کے پیشے کو باقائدگی سے سنجیدہ لیا۔

شاعرانہ عظمت

وامق کی شاعری نعروں سے مبرا نہیں کہی جا سکتی مگر وہ نعرہ اپنے جس حسن و لطافت کے ساتھ قاری کے کانوں میں رس گھولتا رہتا ہے۔چنانچہ وہ شعر کی تعریف اپنے مخصوص انداز میں کہتے تھے۔وامق غزل اور نظم میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔انکی غزلوں کی جمال اور نظموں کے جلال ان کے سکہ فن کے دو رخ ہیں۔ ان دنوں اصناف سخن میں انھوں نے فن کے جو نمونے پیش کئے ہیں ان کو عصری ادب کبھی نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ان کے کلام کا کلاسیکی انداز بیان اور جدید طرز فکر کا لطیف امتراج و تاثر بیک وقت قدیم اور جدید اذہان کو متوجہ کرتا ہے اور دعوت فکرو نظر دیتا ہے۔

وامق روایت پرست بھی ہیں اور روایت شکن بھی، وہ دو چیزوں کے امتراج کو خوب نبھا لیتے ہیں۔ ان کے یہاں اعراف حسن بھی ہے اور انحراف بھی۔ وہ غم دوراں اور غم جاناں کو ایک دوسرے کا بدرقہ اور علاج بالمثل تصور کرتے ہیں۔غزل کے اشعار میں رمزیت اور اشاریت غزل کی جان ہوا کرتی ہے وامق اسے بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔وامق کا کلام تغزل اور جمالیاتی حسن سے بھی رنگا رنگ ہے۔وہ اپنےمحبوبِ انقلاب سے غزل کے پردوں میں بھی کبھی کبھی باتیں کرتے ہیں۔

حب الوطنی

حب الوطنی اور انسان دوستی انکی شاعری کے غالب عناصر ہیں۔وامق کا کلام ان کے سیاسی و سماجی شعور اور ان کی بالغ نظری کی پوری عکاسی کرتا ہے۔وامق کے کلام میں بڑی رنگا رنگی اور تنوع ہے۔فکری شاعری جو اس دور کی تخلیقات میں کم پائی جاتی ہے ان کے فن پر محیط ہے۔ان کا جمالیاتی حسن اس میں بھی کارفرما رہتا ہے۔وہ سائنسی اور فلسفیانہ حقائق کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جیسے اپنے محبوب کے خدوخال کا ذکر کر رہے ہوں۔

تصانیف

وامق جونپوری کی مشہور تصانیف میں گفتنی ناگفتنی،چیخیں،جرس،سفرناتمام،شب چراغ، قابل ذکر اور مشہور ترین ہیں۔

اعزازات

وامق کی ادبی خدمات کیلئے انہیں بہت سے انعامات سے بھی نوازا گیا جن میں اترپردیش اردو اکادمی ایوارڈ ، سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ، میر اکادمی ایوارڈ شامل ہیں۔ ۲۱ نومبر ۱۹۹۸ کو وامق کا انتقال ہوا۔

منتخب کلام

وامق جونپوری کی بہترین غزل کا انتخاب مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz On Wamiq Jaunpuri

وامقؔ جونپوری 1
Advertisements