Advertisement

تعارف

اپنے نام اور کام سے مشہور و مقبول صوفی شاعر و مصنف و مفکر حضرت واصف علی واصف ؒ ۱۵ جنوی ۱۹۲۹ کو خوشاب میں پیدا ہوئے۔ واصف صاحب کا شمار جدید دور کے ادیبوں شعراء اکرام اور کالم نگارین کی صف میں ہوتا ہے۔ آپ درویش صنف انسان تھے۔ اسی سادہ طبع اور حقیقت پسندی کی وجہ سے آپ کو صوفی کا درجہ دیا جاتا ہے۔

Advertisement

تعلیم

ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول خوشاب سے حاصل کی اس کے بعد نانا کے پاس جھنگ آ گئے۔یہاں آپ نے دل لگا کر تعلیم حاصل کی۔ خود کہتے ہیں طالب علمی کے زمانے میں تعلیم کی دھن اتنی تھی کہ فرسٹ آنا ہم اپنا حق سمجھتے تھے۔ میٹرک ،ایف اے ،بی اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ کالج میں ہاکی کے کھلاڑی تھے۔ تعلیم و کھیل کی بنا پر آپ کو کالج میں 1949 کو ایوارڈ آف آنر دیا گیا۔ 1954 کو ویسٹ پاکستانی پولیس کا ٹریننگ سرٹیفکیٹ دیا گیا۔

Advertisement

اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہورسے ایم اے انگلش ادب میں کیا۔ کوئی نوکری نہ کی کیونکہ طبیعت ایسی نہ تھی۔ آپ نے ریگل چوک لاہور میں ایک پنجابی کالج میں پڑھانا شروع کر دیا۔ 1962 میں آپ نے پرانی انار کلی کے نزدیک اپنا کالج بنایا جس کا نام لاہور انگلش کالج رکھا۔حضرت واصف علی واصف کی شادی 24 اکتوبر 1970 میں ہوئی۔ آپ کا ایک بیٹا اور تین صاحبزادیاں ہیں۔

Advertisement

شاعرانہ عظمت

ان کی تعلیمات میں بڑے احسن انداز میں حقیقت نگاری  ہے۔ بڑے سلیس و سادہ زبان میں بڑے درد دل کے ساتھ اعلیٰ جذبوں کے ساتھ، اعلیٰ جذبوں سے مزین ہو کر عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے والے واصف صاحب کا کام ہے۔ واصف علی واصف نے اپنی زیادہ تر تحریریں رات دو سے چار کے درمیان لکھیں ہیں۔ آپ نے جتنا بھی کلام لکھا اس پر تاریخ اور وقت بھی لکھا۔ عام طور پر جو وقت لکھا گیا وہ رات دو سے چار کا لکھا ہوا ہے۔ آپ ہمیشہ انار کلی کے موڑ پر مسجد میں نماز تہجد ادا کرتے تھے۔

تصانیف

  • آپ کی مشہور تصانیف میں
  • کرن کرن سورج،
  • حرف حرف حقیقت ،
  • دل دریا سمندر ،
  • بات سے بات،
  • قطرہ قطرہ،
  • ذکر حبیبﷺ ،
  • دریچے اور
  • شاعری میں شب چراغ اور
  • بھرے بھڑولے پنجابی کلام شامل ہیں۔

آخری ایام

حضرت واصف علی واصف 15 جنوری 1929 کو دنیا میں تشریف لائے اور 18 جنوری 1993 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ لیکن آپ ہمیشہ اپنے چاہنے والوں، اپنے ماننے والوں، عقیدت والوں اور اپنے مداحوں کے دلوں میں شادو آباد رہیں گے۔

Advertisement

منتخب کلام

واصف علی واصف صاحب کی غزل کے پانچ اشعار؀

واصف علی واصف کا کلام جو عابدہ پروین کی آواز میں لوگوں میں بے حد مقبول ہے۔

Advertisement

میں نعرۂ مستانہ میں شوخئ رندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں پی کر بھی کہاں جانا
میں طائر لاہوتی میں جوہر ملکوتی
ناسوتی نے کب مجھ کو اس حال میں پہچانا
میں سوز محبت ہوں میں ایک قیامت ہوں
میں اشک ندامت ہوں میں گوہر یک دانہ
کس یاد کا صحرا ہوں کس چشم کا دریا ہوں
خود طور کا جلوہ ہوں ہے شکل کلیمانہ
میں شمع فروزاں ہوں میں آتش لرزاں ہوں
میں سوزش ہجراں ہوں میں منزل پروانہ
میں حسن مجسم ہوں میں گیسوئے برہم ہوں
میں پھول ہوں شبنم ہوں میں جلوۂ جانانہ
میں واصفؔ بسمل ہوں میں رونق محفل ہوں
اک ٹوٹا ہوا دل ہوں میں شہر میں ویرانہ

Quiz On Wasif Ali Wasif

واصف علی واصف 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement