تعارف

ضیاء فتح آبادی کا اصل نام مہر لال سونی تھا۔ وہ کپور تھلہ پنجاب میں اپنے ماموں شنکر داس پوری کے گھر ۹ فروری ۱۹۱۳ کو پیدا ہوئے۔ وہ ایک اردو نظم نگار و غزل گو شاعر تھے۔ انکے والد منشی رام سونی فتح آباد ضلع ترن تارن پنجاب کے رہنے والے تھے اور پیشے کے اعتبار سے ایک مدنی مہندس تھے۔ ضیاء نے اپنی ابتدائی تعلیم جے پور راجستان کے مہاراجہ ہائی سکول میں حاصل کی۔

ادبی زندگی

ضیاء کی اردو شاعری کا سفر انکی والدہ کی نگرانی میں مولوی اصغر علی حیاء جےپوری کی مدد سے ۱۹۲۵ میں شروع ہو گیا تھا اور انکا نام ۱۹۲۹ میں ہی ابھرنے لگا تھا۔ انکو ضیاء تخلص غلام قادر امرتسری نے عطا کیا تھا۔ ۱۹۳۰  میں ضیاء سیماب اکبرآبادی کے شاگرد ہوگئے تھے۔ اسکے بعد ۱۹۳۱ سے لیکر ۱۹۳۵ تک لاہور کے فورمین کرسچن کالج میں پڑھتے ہوئے بی اے (آنرز) (فارسی) اور ایم اے (انگریزی) کی اسناد حاصل کیں۔

اسی دوران انکی ملاقات کرشن چندر ، ساغر نظامی ، جوش ملیح آبادی ، میراجی اور ساحر ہوشیار پوری سے ہوئی۔ ان احباب میں آپس میں ایک ایسا رشتہ قائم ہوا جو تمام عمر بخوبی نبھایا گیا۔ انہی دنوں انکے کالج میں میرا نام کی ایک بنگالی لڑکی بھی پڑھتی تھی۔ کہتے ہیں کہ اسکے حسن کا بہت چرچا تھا۔ اسی کے نام پر ضیاء کے دوست محمد ثناءاللہ ڈار "ساحری” نے اپنا تخلص میرا جی رکھا تھا۔ اسی میرا نے ضیاء پر بھی اپنا اثر چھوڑا۔

کلام

ضیاء کا اولین مجموعہ کلام” طلوع ” کے نام سے ساغر نظامی نے ۱۹۳۳ میں میرٹھ شہر سے شائع کیا تھا۔ اسکے بعد انکے مزید مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ضیاء نے افسانے بھی لکھے اور تنقیدی مضامین بھی۔ ضیاء کے نشری کارناموں میں سیماب اکبرآبادی پر لکھے گئے ” ذکرِ سیماب ” اور ” سیماب بنام ضیاء” اہم ہیں۔ ۱۹۵۱ میں ضیاء نے سیماب نام سے ایک ماہانہ رسالہ بھی شروع کیا تھا جو انکی ملازمت کی بندشوں نے سال بھر ہی چلنے دیا اور پھر بند کر دینا پڑا تھا۔ ضیاء نے ریزرو بینک آف انڈیا میں ۱۹۳۶ سے کام کرنا شروع کیا تھا جہاں سے ۱۹۷۱ میں ریٹائر ہونے کے بعد دہلی میں رہنے لگے تھے۔

شاعری

ضیاء نظریاتی شاعری کے قائل نہیں تھے اور جمالیاتی کیف کو ضروری سمجھتے تھے۔ آپکا کہنا تھا کہ آپ بھی اوروں کی طرح حسین چہروں سے مسرور ہوتے رہے کہ آپکا رومانی تخیّل کا پیکر آپ کے ساتھ کالج میں پڑھنے والی میرا تھی۔ ضیاء نے غزل، نظم ،قطعہ اور رباعی کے علاوہ گیت اور سانیٹ بھی لکھے جو مقبول عام ہوئے۔

ضیاء فتح آبادی دُنیائے اردو ادب کی ایک معروف ادبی شخصیت اور مشہور شاعر ہیں۔ جن کی ادبی خدمات بہت وقیع و وسیع ہیں۔ اُنھوں نے متعدد اصناف ادب میں طبع آزمائی کی ہے جس میں غزل، نظم، مسدس، مخمس، ثلاثیات، سانیٹ، قطعات، رباعیات ،نعت و مراثی شامل ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ نثر کے میدان میں بھی اُنھوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

تصانیف

اُنھوں نے ۱۰ شعری مجموعے اپنی یادگار چھوڑے ہیں جن کے نام یوں ہیں:
’’طوع‘‘، ’’طلوع مشرق‘‘، ’’ضیاء کے ۱۰۰ شعر‘‘، ’’نئی صبح‘‘، ’’گردراہ‘‘، ’’حسن غزل‘‘، ’’دھوپ اور چاندنی‘‘، ’’رنگ ونور‘‘، ’’سوچ کا سفر‘‘ اور’’نرم گرم ہوائیں۔‘‘

نثری تصانیف میں’’شعر وشاعر‘‘، ’’سیماب بنام ضیاء‘‘(مجموعہ مکاتیب)، ’’زاویہ ہائے نگاہ‘‘، ’’ذکر سیماب‘‘ اور ایک افسانوی مجموعہ ’’سورج ڈوب گیا‘‘ شامل ہیں۔

ضیاء فتح آبادی اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں، اُنھوں نے اردو ادب کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی ، اُنھوں نے نئی غزل اور نئی نظم کو بھی طلوع ہوتے ہوئے دیکھا اور حلقہ اربابِ ذوق کی گہما گہمی بھی دیکھی اور جدیدیت کی ابتدا بھی ہوتے ہوئے دیکھی ہے۔ اُن کی مادری زبان پنجابی ہے لیکن اردو سے اُنھیں محبت اور فطری لگاؤ  اس قدر تھا کہ اُنھوں نے اردو زبان کو ہی اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔اُن کی شاعری میں حقیقت پسندی بھی ہے اور رومانیت کا احساس بھی ہے۔

اُن کے یہاں گنگا جمنی تہذیب کی مشترکہ روایت کے پہلو بھی نظر آتے ہیں اور گیت کی صورت میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت بھی جھلکتی نظر آتی ہے۔اگر ضیاء کی شاعرانہ عظمت اور اُن کی شاعری کی انفرادی خصوصیات سے محظوظ ہونا ہے تو ہمیں چاہئیے کہ اُن کی شعری تخلیقات کا بہ نظر غائز مطالعہ کریں یعنی اُنھیں اُن کی شاعری کی کسوٹی پر رکھنا ہوگا۔ تب جا کے ممکن ہے کہ ہم ضیاء جیسے قابل قدر شاعر کی شاعرانہ خصوصیات تک رسائی پا سکتے ہیں۔

ضیا قومی یکجہتی اور آپسی بھائی چارے کے قائل تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہندو اور مسلمان دونوں کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ضیاء کی تخلیقات میں ہندوستانی تہذیبی رنگ صاف جھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اُن کی فکر میں ترقی پسندی بھی ہے اور عصری حسیت کے اثرات بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ اُنھوں نے اپنی شاعری میں رنگ و نسل، مذہب و ملت اور ذات پات سے پرے ہو کر دردمندی، اخلاص اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

لاہور ،پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ نے ’’ضیا ء فتح آبادی ادب کا روشن مینارہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا ہے۔ جس میں اُنھوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جس طرح پاکستان میں کرشن چندر، حالی، شبلی، منٹو اور فیض صدیاں منائی گئیں، اُسی طرح ہندوستان میں ایک عظیم رتبہ رکھنے والے شاعر ضیاء کی صدی بھی منانا چاہیے۔ کیوں کہ ایسے شاعر اپنے دور کے لیجنڈس ہوتے ہیں جن کی حفاظت کرنے سے ہی ہم تاریخ کے اوراق میں زندہ جاوید ہوسکتے ہیں۔

ضیاء کی شاعری میں انسانی اقدار اور مقصد زندگی کے تعین میں فکر مندی کا درس ملتا ہے۔وہ’’ انسانیت ‘‘میں ہی ایک انسان کی سربلندی اور کامیابی کو دیکھتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کے نزدیک یہ خالق کائنات کا ایک انسان پر احسان ہے کہ اُسے انسان بنا دیا۔ کیوں کہ ایک انسان جب انسانیت کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ اپنے مقصد کو پہنچ پاتا ہے؛ یعنی ایک انسان میں انسانیت موجود ہونے سے ہی اس بات کی ضمانت مل جاتی ہے کہ وہ مذہب اور مقصد حیات کو پہچان سکے گا۔

ضیاء کی فکری صلاحیتوں اور ذوق شعر و ادب اور اُن کے فکری رجحانات سے واقفیت اُن کی شاعری کے مطالعے سے ہوتی ہے۔ اُنھوں نے ’’عروس سخن‘‘ کے نہ صرف گیسو سنوارنے کا کام کیا بلکہ اُنھوں نے اپنے ذوق نظر اور ذوق جمال سے غزل کی زیب و زینت اور آرائش میں بھی نمایاں کام انجام دیئے ہیں۔

شاکر حسین کے مطابق "ضیاء شاعری کے فنی رموز پر اس قدر دسترس رکھتے ہیں کہ وہ غزل کی زبان اور اس کے لہجے کے رمز شناس معلوم ہوتے ہیں۔ اس طرح اُن کے کلام میں نغمگی و شیرینی، دلکشی و رعنائی، سلاست و حلاوت اور ایک متوازن آہنگ اور مترنم کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔”

حضرت محمدﷺ سے محبت

ایک ہندو ہونے کے باوجود بھی ضیاء کے دل میں حضرت محمد ﷺ کی عقیدت و محبت کی موجیں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اُنھوں نے حضور ﷺ کی شان اور عظمت کے تئیں اپنی محبت کا اظہار اپنی شاعری میں کیا ہے۔چند اشعار پیشِ نظر ہیں:

اخلاق کی تعلیم ہے فرمان محمد توحید کا دریا، مئے عرفان محمدﷺ
ملتی ہے یہاں روح کو برنائی و تسکین ہے سایۂ حق،سایۂ دامان محمدﷺ
ہر نقش قدم ان کا نشان رہ منزل سب قافلے والے ہیں ثنا خوان محمدﷺ

بہر کیف ضیاء فتح آبادی دبستان سیماب کے ایک اہم اور قابل قدر شاعر ہیں۔ جنھوں نے متنوع ادبی اصناف میں اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اُن کی شاعری فکریاتی و نظریاتی اعتبار سے اُس معیار کو چھوتی ہیں جہاں پر وہ دنیائے ادب کا ایک درخشندہ ستارہ کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ناقدین ادب نے ضیاء کی شاعرانہ عظمت کو بالائے طاق رکھا جس کی وجہ سے اردو شعر و ادب ایک عظیم شاعر کے شعری جہاں سے محروم ہوئی۔

ضیاء کی شاعری کے بارے میں شارب ردولوی نے کہا ہے :
"ضیاء نے زبان کی سادگی کو اپنی شاعری کا زیور بنایا، اپنے جذبات و تصّور اور تجربات کو پُراسر انداز میں الفاظ کا جامع بخشا۔”
زرینہ سانی کا کہنا ہے :
"ضیاء کی شاعری میں وہ تمام رحجانات اور میلانات جو ملک میں جاری اور ساری رہے پائے جاتے ہیں۔ انکی نظموں میں جدید لہریں کروٹ بدلتی ہیں مگر روایت کے احترام کے ساتھ۔ ان کے کلام میں بغاوت کی چنگاریاں ہیں مگر تخریبی روش سے ہٹ کر اور جدّت اور تازگی لیے ہوئے۔” خواجہ احمد فاروقی لکھتے ہیں :
"ضیاء نے اپنی شاعری کے ذریعے اچھی قدروں کی اشاعت کی ہے، اس میں اظہارِ قوت بھی ہے اور لطافت بھی، ان کے یہاں بیان شوق کی بےباکی کے ساتھ انسانیت کی حنابندی کا نرم نرم احساس بھی ہے، ان کے یہاں جذبات کی گھنگرج نہیں ہے نفاست اور نزاکت ہے اسی لیے ان کے لب و لہجے میں دل آسائی اور مٹھاس ہے اور انکی شاعری میں پرکاری اور سرشاری ہے۔”

اور جوش ملیح آبادی نے ضیاء کی شاعری کے بارے میں یوں لکھا :
"انکی شاعری میں سنجیدگی ہے، ان کے طرزِ بیاں میں رس اور گھلاوٹ پائی جاتی ہے یہ عام شعرا کی مانند، ردیف اور قافیے کے حدود میں رہ کر روایتی شاعری سے دامن بچاتے اور عروس کے شعر کو اپنے تخیُول کے زیوروں سے سجاتے ہیں۔”

اپنی کتاب ” ضیاء فتح آبادی ۔ شخص اور شاعر” میں مالک رام نے لکھا ہے کہ "میراجی کو ضیاء کی آزاد نظمیں اور غزلیں بہت پسند تھیں اور ضیاء کی پابند نظموں کو پڑھ کر ماہرالقادری کے ذہن میں چکبست کی یاد تازہ ہو گئی تھی۔”

ساغر نظامی نے ضیاء کو ایک عندلیب خوش نوا جانا جس کا دل اچھوتے نغموں کی ایک لازوال دنیا ہے اور جس کی خاموشی ایک عظیم گویائی کا مقدمہ معلوم ہوتی ہے ابر احسنی کے مطابق ضیاء معمولی شاعر نہیں ہیں وہ ہر بات بلندی سے کہتے ہیں انکی زبان شستہ و پاکیزہ اور خیالات لطیف ہیں دل میں جذبہ ہمدردی انساں بپایاں ہے اور ایسا ہی شاعر ملک و قوم کے لیے باعثِ فخر ہوا کرتا ہے۔

آخری ایام

ضیاء فتح آبادی کا انتقال ۱۹ اگست ۱۹۸۶ کو ایک طویل علالت سہنے کے بعد دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال میں ہوا۔

Advertisements