سبق نمبر 11: محسن محلہ، خلاصہ ، سوالات و جوابات

0

تعارفِ مصنف:

اشفاق احمد اترپردیش (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے وہ ہجرت کرکے لاہور آئے اور مستقل سکونت اختیار کی۔ یہاں انھوں نے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو ادب میں ایم-اے کیا۔ ان کی اہلیہ بانو قدیسہ اردو کی مشہور ناول نگار ہے گورنمنٹ کالج لاہور میں ان کی ہم جماعت تھیں۔

حصول تعلیم کے بعد وہ ریڈیو آزاد کشمیر سے منسلک ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد وہ یہ ملازمت چھوڑ کر لاہور آگئے اور دیال سنگھ کالج لاہور میں اردو پڑھانے لگے۔ تقریباً دو سال بعد وہ روم چلے گئے اور ریڈیو میں اردو نیوز کاسٹر مقرر ہوئے ساتھ ساتھ روم کی ایک یونیورسٹی میں اردو بھی پڑھاتے رہے۔ مختلف ممالک میں قیامت کے دوران انھوں نے اطالوی اور فرانسیسی زبانوں کے ڈپلومے حاصل کیے جب کہ نیویارک اور ریڈیو براڈکاسٹنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا۔

وطن واپسی پر انھوں نے اپنا ذاتی رسالہ ”داستان گو“ کے نام سے جاری کیا۔ ساتھ ہی وہ ریڈیو کے لیے فیچرز بھی لکھتے رہے۔ اسی دوران ان کا مشہور ریڈیو پروگرام ”تلقین شاہ“ نشر ہونا شروع ہوا۔ ہلکے پھلکے انداز میں معاشرتی خامیوں اور تضادات کی نشان دہی کرانے والا یہ پروگرام سامعین میں بے حد مقبول رہا اور تقریباًبائیس سال تک نشر ہوتا رہا۔ وہ مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ (یہ ادارہ آج کل اردو سائنس بورڈ کہلاتا ہے)۔ اشفاق احمد کچھ عرصے تک وفاقی وزارت تعلیم میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔

اشفاق احمد نے زمانہ طالب علمی سے ہی تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ان کی کہانیاں ”ماہنامہ پھول“ میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ انھوں نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے لیے سینکڑوں ڈرامے لکھے۔ ان کے اہم موضوعات ادب، فلسفہ، نفسیات اور صوفی ازم رہے ہیں۔ انسانی جذبات و احساسات کی ترجمانی اور انسان دوستی کی ترویج کی وجہ سے وہ سامعین اور قارئیں میں بے حد مقبول رہے ہیں۔
تصانیف: زاویہ، ایک محبت سو افسانے، گڈریا، من چلے کا سودا، حیرت کدہ، سفر در سفر، توتا کہانی، ایک محبت سو ڈرامے وغیرہ۔

مشق

سوال نمبر ایک: سوالوں کے جواب لکھیں۔

(الف): محسن محلہ کے لوگ ماسٹر صاحب کے بارے میں کیا جانتے تھے؟

جواب:محسن محلہ کے لوگ ماسٹر الیاس کے بارے میں فقط اتنا ہی جانتے تھے کہ وہ مہاجر ہیں۔ اور انبالے کے کسی علاقے کے رہنے والے ہیں کیونکہ ان کا لہجہ انبالے والوں جیسا تھا۔


(ب): ماسٹر صاحب کس طرح کے آدمی تھے؟

جواب:ماسٹر الیاس سیدھے سادھے بھلے مانس تھے، ان کا کردار دھوکہ بازی، دروغ گوئی ، شیخی خوری سے پاک تھا۔ماسٹر صاحب کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔

(ج): لوگ ماسٹر صاحب سے دوستی کرنا کیوں پسند نہیں کرتے تھے؟

جواب:لوگ ماسٹر صاحب سے دوستی کرنا پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ ان کے لہجے میں گرامر اور ادائیگی کی بہت سی اغلاط ہوتیں، جس سے سامع جلد بیزار ہو جاتا تھا۔ ان کی سادگی اور بھولی بھالی صورت تھی۔ کہ وہ انسان ہی نہیں ہیں۔

(د): مالک مکان نے ماسٹر صاحب سے کیا سلوک کیا؟

جواب: مالک مکان نے ماسٹر صاحب کے مقررہ دن پر کرایہ ادا نہ کرنے پر سامان گھر سے نکال کر گلی میں ڈھیر لگا دیا تھا اور گھر خالی کروا دیا تھا۔

(ہ): ماسٹر صاحب کےمرنے کے بعد لوگوں نے کیا طرز عمل اپنایا؟

جواب:ماسٹر صاحب کے مرجانے کے بعد محسن محلہ کے مکین جمع ہوئے، شیخ کریم نواز نے پانچ سو روپے ماسٹر صاحب کے کفنانے دفنانے کے لیے پیش کیے۔ حلوائی نے دودھ چائے کا بندوبست کیا،اور اہلیان محلہ نے رسم قل کیلئے آٹھ سو گیارہ روپے جمع کیے۔ محسن محلہ کے مکینوں کو ماسٹر صاحب کی موت سے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔

(و): ماسٹر صاحب کا کیا انجام ہوا؟

جواب: مالک مکان نے ماسٹر صاحب کے کرایہ نہ ادا کرنے پر سامان گھر سے باہر رکھوا دیا تھا۔ تو وہ مجبوراً ایک ٹرانسفرمر کے نیچے سوتے تھے۔ سخت سردی میں بغیر چھت کے انھوں نے آٹھ دن بسر کیے۔ شدید سردی کی وجہ سے انھیں نمونیہ ہو گیا اور اسی بیماری میں ان کی موت واقع ہوئی۔

(ز): اس افسانے کا مرکزی خیال لکھیں۔

جواب:افسانہ محسن محلہ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ محسن محلہ کے لوگ اگر ماسٹر الیاس پر جو کرائے کی مد میں واجب الادا رقم تھی جو ایک سو اسی روپے بنتے ہیں اگر ادا کر دیتے تو ماسٹرصآحب کو شدید سردی میں بستر باہر نہ لگانا پڑتا۔ نہ انھیں نمونیہ ہوتا، نہ وہ مرتے۔ مرنے کے بعد ان کے کفن دفن کے لیے سینکڑوں روپے اکٹھے ہو گئے تو ان کی زندگی میں ان کے واجبات ادا کرنےسے ان کی جان بچ سکتی تھی۔

سوال نمبر دو: خالی جگہ پر کریں۔

  • الف: اس کو زمانے کے ساتھ چلنے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا۔
  • ب: خوف کے مارے اس کی گھگی بندھ گئی۔
  • ج: وہ سردی کے موسم میں باہر بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا۔
  • د: شیخی بگھارنا اچھی بات نہیں۔
  • ہ: مالک مکان نے کرایہ دار کو سخت لہجے میں ڈانٹا۔

سوال نمبر تین: سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل عبارتوں کی تشریح کریں:

(ا) وہ اتنے سیدھے اور اس قدر بے پیچ تھے کہ انسان ہی نہیں لگتے تھے۔ سارے محلے پر اور ساری سوسائٹی پر ایک بوجھ سا لگتے تھے اور چونکہ ایسے لوگوں کے ساتھ رسم و راہ پیدا کرنا کوئی بھی پسند نہیں کرتااس لیے کوئی بھی ان کا دوست نہیں تھا۔

تشریح:

ماسٹر الیاس بھولے بھالے اورانتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ وہ بے خطر انسان اور بدھو قسم کے آدمی تھے۔ کہ انھیں انسان نہیں کہا جا سکتا تھا۔ وہ محلے اور سوسائٹی سے ایسے کٹے ہوئے تھے۔کہ ایک اضافی سے کردار معلوم ہوتے تھے۔ لوگ بھی ان میں دلچسپی کم ہی لیتے تھے ۔ ان کا کوئی دوست تھا اور نہ کوئی ہمدرد جو ان کے ساتھ بیٹھتا۔

(ب) مسلسل تین دن تک ماسٹر الیاس اپنی رضائی سر پر اگلو کی طرح اوڑھ کر چارپائی پر بیٹھے رہے جو کوئی وہاں سے گزرتا ”السلام علیکم“ کہہ کر یہ ضرور پوچھتا۔ ”کیوں جی ماسٹر دھوپ سینکی جا رہی ہے۔“اور ماسٹر جی اندر سے بند آواز میں جواب دیتے۔ ”ہاں جی تھوڑی سردی لگ رہی تھی۔“

تشریح:

ماسٹر الیاس کا کرائے ادا نہ ہونے پر ان کا سامان گھر سے باہر نکلا دیا گیا تھا۔ آٹھ راتیں انھوں نے کھلے آسمان کے نیچے بسر کی تھیں۔ جس کی وجہ سے انھیں نمونیہ ہو گیا تھا، اسی بیماری میں وہ لاغر ہو گئے کہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو گئے تھے۔ باہر سڑک پر بیٹھے انھوں نے رضائی سے اپنا سر چھپا دیا تھا۔ آتے جاتے لوگ ان سے سلام کرتے اور ان سے دھوپ سینکنے کا پوچھتے تھے۔ ماسٹر الیاس محلے والوں کے لیے مذاق بن کر رہ گئے تھے۔ مگر وہ پھر بھی سب کو شائستگی سے جواب دیتے تھے کہ ہاں زرا سردی لگ رہی تھی تو دھوپ سینک رہا ہوں۔

سوال نمبر چار: روزمرہ کے مطابق خالی جگہ پر کریں۔

  • الف: وہ غصے سے دانت پیستا ہوا آگے بڑھا۔
  • ب: جب اس نے پاکستان کی جیت کی خبر سنی تو خوشی سے پاگل ہوگیا۔
  • ج: تمہارے منہ میں خاک، کیسی منحوس باتیں کر رہے ہو۔
  • د: تم تو پنجے جھاڑ کر میرے بچے کے پیچھے پڑ گئےہو۔
  • ہ: میں یہ خوفناک منظر نہ دیکھ سکا اور ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

سوال نمبر پانچ: جملے درست کریں:

  • الف: ہمارا وطن روز بروز ترقی کر رہا ہے۔
  • ب: وہ حیرانی سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔
  • ج: میرا بڑا دل کرتا ہے کہ حج کو جاؤں۔
  • د: میں آپ کو ایک ضروری بات بتانے آیا ہوں۔
  • ہ: اس کی چیخ و پکار سن ک ر لوگ مدد کو دوڑے۔

سوال نمبر چھ: درج ذیل جملوں میں مناسب مقامات پر رموز اوقاف لگائیں۔

  • الف: اسے جب دیکھو! ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔
  • ب: اس مضمون کے اہم نکات یہ ہیں:۔
  • ج: رسول اللہؐ نے فرمایا ”سب انسان برابر ہیں“۔
  • د: لڑکے! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
  • ہ: ”دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا“ احمد فراز کا یہ مصرعہ حقیقت پر مبنی ہے۔

سوال نمبر سات: اردو میں درج ذیل افعال بطور معاون افعال استعمال کیے جاتے ہیں۔آپ ان کی مدد سے دو دو جملے بنائیں۔ جن میں یہ بطور امدادی یا معاون فعل استعمال ہوں۔

  • دینا: اس نے وقت سے پہلے کام سرانجام دے دیا۔
  • دینا: معلم نے غیر سنجیدہ بچوں کو جماعت سے نکال دیا۔
  • لینا: اس نے میرا وقت بچا لیا۔
  • لینا: اس نے میری کتاب اٹھا لی۔
  • آنا: مشکل میں اسے میرے کام آنا چاہیے تھا۔
  • آنا:آج کل کے دور میں سب کو گاڑی چلانا آنا چاہیے۔
  • ڈالنا: سرکس والے نے ای آدمی کو بیوقوف بنا ڈالا۔
  • ڈالنا:شریر بچوں کو محلے کے بزرگ نے ڈانٹ ڈالا۔
  • جانا: آٹھ آم کھا جانا میرے لیے تعجب کی بات تھی۔
  • جانا: ہمیں سویرے جلدی اٹھ جانا چاہیے۔
  • پڑنا :ایک ضروری کام سے مجھے لاہور جانا پڑا۔
  • پڑنا: باپ کی موت کی خبر سن کر اسے بیرونی ملک سے آنا پڑا۔
  • اٹھنا:وہ مارے کرب کے چلا اٹھا۔
  • اٹھنا: کمرے میں آگ جل اٹھی۔