Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۲۲
- سبق (نام): امید
- شاعر: الطاف حسین حالیؔ
- ماخوز :
تعارف شاعر:
الطاف حسین حالیؔ پانی پت میں پیدا ہوئے۔باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکے، تاہم ذاتی کوشش سے عربی اور فارسی میں مہارت حاصل کی۔ حصول تعلیم کے شوق میں دلی گئے، جہاں غالبؔ اور شیفتہ سے ملاقات ہوئی۔ چند سال شیفتہ کے مصاحب رہے۔ ۱۸۷۴ میں لاہور میں ملازمت مل گئی اور انگریزی سےترجمہ ہونے والی کتابوں پر نظر ثانی کرتے رہے۔ یہاں جدید نظم کے چار مشاعروں میں شریک ہوئے۔ پھر اینگلو عریبک سکول دلی میں مدرس ہو گئے۔ وہاں سرسید اور ان کی تحریک سے رابطہ ہوا۔ سر سید کے ایما پر مسدس ”مدو جزرِ اسلام“ لکھی۔ اس کے بعد بہت سی نظمیں لکھیں اور کئی جدید نظم نگار شعراء کو متاثر کیا۔
مولانا حالی اور آزاد دونوں کی مشترک کوششوں سے اردو شاعری بہت حد تک تبدیل ہو گئی اور اس میں پہلی بار مشرقی خیالات کے ساتھ ساتھ مغربی خیالات میں سامنے آئے۔ حالیؔ نے غزل کو بھی جدید رنگ میں ڈھالا اور روایت کی بے جا تقلید کے بجائے تازگی بیان پر توجہ دی۔ حالیؔ کی غزل میں میرؔ و غالبؔ کا سا تغزل ملتا ہے۔ جب کہ ان کی نظمیں جذبہ حب الوطنی اور اصلاح ملت کا ثبوت ہیں۔ اردو شاعری میں پہلی مرتبہ حالیؔ نے قومی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر طبع آزمائی کی۔ حب الوطنی، چپ کی داد، نشاط امید اور مناظرہ رحم انصاف جیسی نظمیں اس کی درخشندہ مثالیں ہیں۔ حالیؔ نے ۱۹۱۴ میں پانی پت میں وفات پائی۔
تصانیف:۔ مقدمہ شعر و شاعری، حیات جاوید، حیات سعدیؒ وغیرہ۔
| بس اے نا امیدی نہ یوں دل بجھا تو جھلک اے امید اپنی آخر دکھا تو ذرا نا امیدوں کی ڈھارس بندھا تو فسردہ دلوں کے دل آکر بڑھا تو ترم دم سے مردوں میں جانیں پڑی ہیں جلی کھیتیاں تو نے سرسبز کی ہیں |
تشریح:۔نظم ”امید“ کے درج بالا بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نے اسلاف اور اپنے عہد کے مسلمانوں کے تقابل کا نقشہ کھینچا ہے،کہ عہد حاظر کے مسلمان پستی اور ناامیدی کی دلدل میں گر چکے تھے۔ مسلمانوں میں مکمل طور پر مایوسی سرائیت کر گئی تھی۔ مسلمان دوبارہ اپنے کھوئے ہوئےاقدار کو پانے کے لیے کوشش کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے تھے۔ حالیؔ نے ناامیدی کو مسلمانوں کا پیچھا چھوڑنے کا کہا ہے، کیونکہ مسلمان پیہم پژمردہ حوصلےاور دل چھوڑ چکے تھے۔ انھوں نے امید کو مسلمانوں کی مشعل راہ بننے اور ان حالات سے نکالنے کے لیے التجا بھی کی ہے کہ مسلمانوں کی ہمت بڑھا اور من میں وہ جوت جگا کہ آگے بڑھنے کا جوش و جذبہ پیدا ہو۔
| سفینہ پئے نوحؑ طوفان میں تو ہے سکوں بخش یعقوبؑ کنعاں میں تو ہے زلیخا کی غمخوار ہجراں میں تو ہے دل آرام یوسفؑ کی زنداں میں تو ہے مصائب نے جب آن کر ان کو گھیرا سہارا وہاں سب کو تھا ایک تیرا |
تشریح:۔نظم ”امید“ کے درج بالا بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نے تاریخی حوالے سے امید کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ، جب طوفان نوح علیہ السلام آیا اور پیغمبر اور ان کے پیروکاروں کی امید وہ کشتی تھی، جس سے انھیں منزل تک بخیر و عافیت پہنچنے کی بھر پور امید تھی۔ اسی طرح جب یعقوبؑ کے بیٹے یوسف علیہ السلام کھو گئے تھے تو آپؑ بہت روئے اس لمحہ امید ہی تھی جو یعقوبؑ کو سہارا دے رہی تھی۔ گویا کہ تمام ہستیوں کو جب کبھی مصیبتوں نے جکڑا تو انھیں ایک ہی چیز نے سہارا دیا تھا وہ امید تھی، جس کی عصر حاضر کے مسلمانوں کو اشد ضروری تھی۔
| بہت ڈوبتوں کو ترایا ہے تو نے بگڑتوں کو اکثر بنایا ہے تو نے اکھڑتے دلوں کو جمایا ہے تو نے اجڑے گھروں کو بسیا ہے تو نے بہت تو نے پستوں کو بالا کیا ہے اندھیرے میں اکثر اجالا کیا ہے |
تشریح:۔نظم ”امید“ کے درج بالا بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نے امید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے امید! تو نے بہت سے لوگوں کی مدد کی ہے، ایسے کتنے ہی لوگ تھے جو بھنور میں پھنس گئے اور ڈوبنے کے قریب تھے مگر تو نے انھیں زندگی کی طرف بلایا اور ان میں دوبارہ جی اٹھنے کی رمق جاگ گئی۔ امید ! تو نے بہت سے بگڑوں ہوؤں کو راہ راست پر لانے میں مدد فراہم کی۔ ایسے لوگ جن کا جینے سے دل اچاٹ ہو چکا تھا اور وہ زندگی سے اب بس نجات حاصل کرنا چاہتے تھے، امید نے ہی ان کو دوبارہ جینے کی جستجو دی۔ جب زندگی کی سب مشعلیں بند ہو گئیں تو امید نے ہی ان تاریک راستوں کو دوبارہ سے روشن کیا۔
| قوی تجھ سے ہمت ہے پیرو جواں کی بندھی تجھ سے ڈھارس ہے خرد و کلاں کی تجھی پر ہے بنیاد نظم جہاں کی نہ ہو تو تو رونق نہ ہو اس دکاں کی تگاپو ہے ہر مرحلے میں تجھی سے روا رو ہے ہر قافلے میں تجھی سے |
تشریح:۔نظم ”امید“ کے درج بالا بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نے امید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ، ہر دور کے بوڑھوں اور جوانوں کی امید نے ہی ڈھارس بندھائی ہے، انھیں جینے کے نئی جہت دی اور ان میں مستحکم حوصلہ پیدا کیا جس سے وہ مایوسی کے گہری تاریکی میں گرنے کے بجائے زندگی کو نئے عزم کے ساتھ جینے میں لگ گئے۔ امید سے ہی انسان میں ہر مشکل اور مصیبت سے نمٹنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ امید سے انسان کو جینے کا سلیقہ اور زندگی کی طرف لوٹنے کی تحریک ملتی ہے۔ اس زندگی کا ہر قافلہ اور ہر سفر امید کی وجہ سے ہی رواں دواں ہے۔
| نوازا بہت بے نواؤں کو تو نے تو نگر بنایا گداؤں کو تو نے دیا دسترس نارساؤں کو تو نے کیا بادشہ ناخداؤں کو تو نے سکندر کو شان کئی تو نے بخشی کولمبس کو دنیا نئی تو نے بخشی |
تشریح:۔نظم ”امید“ کے درج بالا بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نے امید کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ جب بے کسوں اور بے یار و مدد گار کہیں مشکل میں الجھ جاتے ہیں تو امید ان کے لیے ایک دروازہ کھول دیتی ہے، جس سے وہ اس مشکل سے نکل جاتے ہیں۔ شاعر نے اس بند میں تلمیحات کا برمحل استعمال کیا ہے۔ امید کے سہارے سکندر اعظم نے دنیا کو فتح کرنے کا عزم کیا، اسی امید سے وہ اپنے عزائم کو پورا کرنے میں کامیاب رہا۔ کولمبس نے بھی اسی امید کے دامن کو تھام کر سمندر کی بے کراں موجوں میں کشتی ڈالی اور دنیا کے ایک نئے خطے کو دریافت کر دیا تھا، جسے آج ہم امریکہ کے نام سے جانتے ہیں۔
| وہ رہرو نہیں رکھتے جو کوئی ساماں خور و زاد سے جن کو خالی ہے داماں نہ ساتھی کوئی جس سے منزل ہو آساں نہ محرم کوئی جو سنے درد پنہاں ترے بل پہ خوش خوش ہیں اس طرح جاتے کہ جا کر خزانے ہیں اب کوئی پاتے |
تشریح:۔نظم ”امید“ کے درج بالا بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نےاپنی قوم کی ڈھارس بندھائی، مسلمان جو پہم تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے ان کے دلوں میں امید کا دیا جلانے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ امید ایک ایسا سہارا ہے کہ اس کے بھروسے مشکل سے مشکل سفر بھی طے کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا مسافر جو سرمایہ رکھتا ہے اور نہ زاد راہ مگر وہ امید کے سہارے پر قدم اٹھاتا ہے تو اسے بھلے جتنی بھی مشکلات حائل ہوں وہ اس کے پار پہنچ جائے گا۔ اس سفر میں اس کا کوئی ہمسفر ہو نہ ہی ہم راز مگر وہ امید کے سہارے پر کٹھن سے کٹھن راستے کو عبور کر لے گا۔
| زمیں جوتنے کو جب اٹھتا ہے جوتا سمیں کا گماں تک نہیں جب ہ ہوتا شب و روز محنت میں بے جان کھوتا مہینوں نہیں پاؤں پھیلا کے سوتا اگر موجزن اس کے دل میں نہ ہو تو تو دنیا میں غل بھوک کا چارسو ہو |
تشریح:۔نظم ”امید“ کے درج بالا بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نےامید کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ جیسے ایک کسان اپنی زمین پر ہل چلاتا ہے اور اس پر محنت کرتا ہے، دھوپ گرمی ، سردی کی فکر کیے بغیر وہ اپنی فصل کو وقت دیتا ہے۔ وہ کسی طور بھی اپنی فصل کو فراموش نہیں کرتا بلکہ اس میں بیج لگاتا ہے، کھاد ڈالتا ہے، پانی لگاتا ہے کیونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ ایک نہ ایک دن اس کے اس عمل سے اسے صلہ ملے گا۔ اسے امید ہوتی ہے کہ وہ جو محنت کررہا ہے اسے ایک دن زرخیز فصل کی صورت میں ملے گی۔
| بنے اس سے بھی گر سوا اپنے دم پر بلاؤں کا ہو سامنا ہر قدم پر پہاڑ اک فزوں اور ہو کوہ غم رپ گزرنی ہو جو کچھ گزر جائے ہم پر نہیں فکر، تو دل بڑھاتی ہے جب تک دماغوں میں بو تیری آتی ہے جب تک |
تشریح:۔نظم ”امید“ کے درج بالا بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نے مسلم امت کو اور بالخصوص ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت دیکھی، وہ مسلسل برے دور سے گزر رہے تھے۔ ہر موڑ پر مسلم امت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ وہ مسلمانوں کی امید بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ چاہے ہمیں کیسے بھی دن دیکھنے پڑیں، کتنی ہی مشکلات کا سامنا ہو ، ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہم پر بھلے کتنے ہی تاریک اور مصائب زدہ حالات گزریں ہمیں ثابت قدمی اور امید سے مدد لینی ہے۔ جب ہم امید کی شمع دل میں روشن کر دیں گے تو یہ دنیاوی دکھ درد اور تکالیف ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ امید کے ہوتے ہوئے حوصلے کبھی پست نہیں ہو سکتے۔
مشق:
سوال نمبر۱:۔ جس نظم کے ہر بند میں چھے مصرعے ہوں اسے مسدس کہتے ہیں۔ آپ کی کتاب میں کون کون سی ایسی نظمیں شامل ہیں جو مسدس کی ہیت میں لکھی گئی ہیں؟
جواب:۔ ہماری کتاب میں شامل ذیل نظمیں مسدس کی ہیئت میں لکھی گئی ہیں:
در مراد (میر انیس)، تخت فرس پر علی اکبرؓ کا خطاب(از مرزا دبیر)، امید (مولانا الطاف حسین حالی)
سوال نمبر۲: دوسرے بند کی وضاحت تاریخی حقائق کی روشنی میں کریں۔
جواب: تشریح:۔نظم ”امید“ کے دوسرے بند میں شاعر الطاف حسین حالیؔ نے تاریخی حوالے سے امید کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ، جب طوفان نوح علیہ السلام آیا اور پیغمبر اور ان کے پیروکاروں کی امید وہ کشتی تھی، جس سے انھیں منزل تک بخیر و عافیت پہنچنے کی بھر پور امید تھی۔ اسی طرح جب یعقوبؑ کے بیٹے یوسف علیہ السلام کھو گئے تھے تو آپؑ بہت روئے اس لمحہ امید ہی تھی جو یعقوبؑ کو سہارا دے رہی تھی۔ گویا کہ تمام ہستیوں کو جب کبھی مصیبتوں نے جکڑا تو انھیں ایک ہی چیز نے سہارا دیا تھا وہ امید تھی، جس کی عصر حاضر کے مسلمانوں کو اشد ضروری تھی۔
سوال نمبر۳: نظم ”امید “ کا خلاصہ لکھیں۔
جواب:نظم ”امید“ میں شاعر الطاف حسین حالی نے مسلمانوں کی مایوسی اور ناامیدی میں ڈوبی قوم کو دوبارہ جگانے کی کوشش کی ہے، انھوں نے مسلمانوں کو اس پستی میں سے امید کی روشنی کے زریعے نکالنا چاہا۔ شاعر کے مطابق امید ہمیں جینے کی ایک نئی کرن دیتی ہے۔ اے امید! ہمیں زندگی جینے کا نیا حوصلہ دے اور غمگین اور بجھے ہوئے دلوں کو پھر سے زندہ کر دے کیوں کہ تیری ہی وجہ سے مردوں میں جان پڑتی ہے اور بے جان کھیت سرسبز ہوتے ہیں۔امید کے ذریعے پیغمبروں نے اپنے مصائب اور درد و الم کو سہا ہے۔ امید کے سہارے بے سروسامان مسافر بھی اپنی منزل پر ایسے پہنچتے ہیں، گویا وہ انھوں نے دنیا بھر کے خزانے پالیے ہوں اور کسان دن رات کا إحساس کیے بغیر اسی کے بل پر دن رات محنت کرتا ہے۔ انسان پر کتنی ہی مصیبتیں اور تکالیف ہوں نہ آئیں اگر اس کے دل میں امید کا دیا جل رہا ہے تو کسی مصیبت یا پریشانی سے نہیں گھبراتا،
سوال نمبر ۴: نظم میں جو الفاظ ایک دوسرے کے متضاد استعمال ہوئے ہیں ان کی نشاندہی کریں۔
- جواب:۔ نظم میں درج زیل ایک دوسرے کے متضاد ہیں:
- امید، ناامیدی
- ڈوبنا، ترانا
- بگڑنا ،بنانا،
- اکھڑنا، جمانا
- اجڑنا، بسانا
- پیرو جواں، خرد و کلاں
- شب و روز
سوال۵: تلمیح کی تعریف کریں اور اس نظم سے تلمیحات چن کر ان کی وضاحت کریں۔
جواب:۔ تلمیح کی تعریف:
تلمیح کے لغوی معنی”اشارہ کرنے“ کے ہیں۔ادب کی اصطلاح میں تلمیح سے مراد کلام میں ایسا لفظ، الفاظ یا ترکیب لانا ہے جو کسی قرآنی آیت، حدیث نبویؐ، تاریخی واقعہ، داستان، روایتی کہانی، تہذیبی یا ثقافتی روایت یا کسی علمی و فنی اصطلاح کی طرف اشارہ کرے۔
سوال نمبر۶: مجاز مرسل کی تعریف کریں اور مثالیں دیں۔
جواب:مجاز مرسل:
کلام میں جب کوئی لفظ مجازی معنوں میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ اس کے مجازی اور حقیقی دونوں معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق بھی پایا جائے تو اسے مجاز مرسل کہتے ہیں:
مثلاً:
میں نے بازار سے قلم خریدا
اس سے مراد بازار کی ایک دکان ہے پورا بازار نہیں۔