Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر 8
- سبق : آنگن
- مصنف : خدیجہ مستور
- ماخوذ : آنگن
تعارفِ مصنف :
خدیجہ مستور بریلی کے ایک پٹھان گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ لکھنو میں پیدا ہوئیں۔ اُن کی والدہ انور جہان خود ایک اچھی شاعرہ اور مضمون نویس تھیں۔ اس طرح دونوں بہنوں خدیجہ مستور اور حاجرہ مسرور کو علمی و ادبی ماحول ملا۔ خدیجہ کی ابتدائی زندگی سخت مشکلات میں گزری۔ انھوں نے ادبی زندگی کی ابتدا ۱۹۳۶ء میں افسانہ نگاری سے کی لیکن ان کی اصل شہرت آدم جی انعام یافتہ ناول آنگن کی وجہ سے ہے۔
اس ناول میں انھوں نے سماجی حقیقت نگاری سے کام لیتے ہوئے ایک پورے عہد کی آویزش اور کشمکش کو بڑی کامیابی اور خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔ قیام پاکستان کے پس منظر میں بے شمار ناول اور افسانے لکھے جا چکے ہیں، لیکن آنگن کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں ایک متوسط مسلمان خاندان کی سماجی زندگی کو موضوع بنایا گیا ہے۔
اس ناول کا کینوس اور پلاٹ بہت مختصر ہے لیکن اس کے باوجود یہ ناول اُس عہد کی سماجی اور معاشی ناہمواری کی ایک مکمل اور سچی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ ایک عام گھرانے کی کہانی ہے۔ جو سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کی گئی ہے۔ خدیجہ نے اپنی کہانیوں میں زیادہ تر عورتوں کے مسائل کو پیش کیا ہے۔ انھوں نے اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ جو عورتوں کو ایک خاص جبر کے تحت رکھتا ہے۔ ان کا انداز تحریر بہت سادہ اور دلکش ہے۔
تصانیف: آنگن، زمین، بوچھاڑ، چند روز اور، تھکے ہارے، ٹھنڈا میٹھا پانی وغیرہ
خلاصہ :
اس ناول کے شروع میں مصنفہ بتاتی ہیں کے کیسے عالیہ اور چھمی قسمت کی ستم ظرفی سے اپنے بڑے چچا کے گھر آکر رہنے لگتی ہیں۔ اگلے منظر میں وہ دکھاتی ہیں کے عالیہ اپنے امتحانوں سے فارغ ہوچکی ہے اور چھمی کے جہیز کے کپڑے سی رہی ہے۔ حالانکہ چھمی اپنی شادی سے بےخبر ہے۔
اس ناول میں جمیل اور بڑے چچا ایک دوسرے سے نالاں نظر آتے ہیں کیونکہ دونوں باپ بیٹے یعنی کہ بڑے چچا اور ان کے بیٹے جمیل بھائی ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف رکھتے تھے۔ جمیل مسلم لیگ کو سپورٹ کرتا تھا تو وہیں بڑے چچا کانگریس کے حمایتی تھے اور اس جملوں میں جس طنز کی بات کی جا رہی ہے وہ طنز دراصل وہ دونوں ایک دوسرے پر ایک دوسرے کی سیاسی جماعتوں کے متعلق ہی کر رہے تھے اور ایک دوسرے پر طنز کرنے کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے منہ پھیر کر لیٹ گئے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کو بات کرنے کے لائق نہ سمجھتے ہوں۔
یہ سب دیکھ کر ناول کا مرکزل کردار عالیہ کو بہت برا لگا تھا لیکن وہ اس سب میں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے بعد ان کے گھر کے باہر سے ایک کانگریسی جلوس گزرتا ہے جسے دیکھ کر چچا تو بہت خوش ہوتے ہیں لیکن کانگریسی جلوس دیکھ کر چھمی اپنے کمرے سے باہر آئی اور کہنے لگی اگر میرے دروازے کے پاس سے جلوس گزرا تو ڈھیلے ماروں گی۔ اس کے بعد وہ بھی مسلم لیگی بچوں کا بھی ایک جلوس تیار کرواتی ہے۔ جلوس کے جانے کے بعد جب جمیل گھر سے نکل گیا تو چھمی بھی گھر سے نکلی اور اس نے مسلم لیگی بچوں کا ایک جلوس تیار کروایا۔
اپنا کارنامہ سر انجام دے کر جب وہ گھر ائی اور اس جلوس کے اپنے گھر کے باہر سے گزرنے کا انتظار کرنے لگی اس وقت اس کی خوشی اتنی زیادہ تھی کہ خوشی کا کوئی بھی پیمانہ اس کی مسرت کو ناپ نہیں سکتا تھا۔ جب وہ جلوس اس کے گھر کے سامنے سے گزر جاتا ہے تو سکون میں آجاتی ہے جب کے عالیہ سوچتی ہے کے اگلے گھر جاکر اسکو محبت میسر آئے گی یا وہاں بھی یہ زندگی گزارنے کے لیے بدلے ہی لیا کرے گی
مشق
سوال نمبر ۱: درج ذیل سوالوں کے مختصر جوابات تحریر کریں۔
(ا) عالیہ کس کے جہیز کے کپڑے سی رہی تھی؟
جواب : عالیہ چھمی کے جہیز کے کپڑے سی رہی تھی۔
(ب) بڑے چچا کو دیکھ کر چھمی کو کیا خیال ستانے لگتا؟
جواب : بڑے چچا کو دیکھ کر چھمی کو پاکستان کا خیال ستانے لگتا۔
(ج) جمیل اور بڑے چچا میں اختلاف کی کیا وجہ تھی؟
جواب : جمیل اور بڑے چچا میں اختلاف کی یہ وجہ تھی کے جمیل مسلم لیگی تھا اور بڑے چچا کانگریس کے حمایتی تھے۔
(د) کانگرسی جلوس دیکھ کر چھمی نے کیا ردعمل ظاہر کیا؟
جواب : کانگریسی جلوس دیکھ کر چھمی اپنے کمرے سے باہر آئی اور کہنے لگی اگر میرے دروازے کے پاس سے جلوس گزرا تو ڈھیلے ماروں گی۔ اس کے بعد اس نے مسلم لیگی بچوں کا بھی ایک جلوس تیار کروایا تھا۔
(ہ) کیا چھمی واقعی مسلم لیگی تھی؟
جواب : چھمی اس وقت کے نوجوانوں کی سوچ کی عکاس ضرور تھی لیکن اس کے مسلم لیگی ہونے کی اصل وجہ صرف یہ تھی کے وہ اپنے بڑے چچا کو جلانا چاہتی تھی۔
(و) بڑے چچا کو چبوترے پر لیٹے دیکھ کر عالیہ کے دل میں کیا خواہش پیدا ہوئی ؟
جواب : بڑے چچا کو چبوترے پر لیٹے دیکھ کر عالیہ کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کے وہ بھی باہر چبوترے پر جاکر بیٹھے۔
سوال نمبر ۲: چھمی کے کردار پر چند سطریں لکھیں۔
جواب : چھمی کا کردار ایک ایسی لڑکی کا جسے اس کے والدین کے گھر نہیں بلکہ چچا چچی کے گھر پرورش ملی۔ اس گھر میں عالیہ کے علاوہ کوئی بھی چھمی کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کے اس کے جہیز کے کپڑے بن رہے تھے اس کی شادی کی جانے والی تھی لیکن اسے کسی نے بتایا تک نہ تھا۔ اس کے کردار میں مصنفہ نے لاابالی پن بھی دکھایا ہے اور وہ اس وقت کے نوجوانوں کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے پاکستان سے محبت بھی کرتی ہے۔
سوال نمبر ۳ : درج ذیل الفاظ و محاورات کو جملوں میں اس طرح استعمال کریں کہ ان کے معنی واضح ہو جائیں۔
| بے نقط سنانا : | آفسر نے اپنے ماتحت کو چھوٹی سی غلطی پر بے نقط سنایا۔ |
| تجسس : | چھمی کو جہیز کے کپڑے دیکھ کر تجسس ہوتا تھا کے آخر یہ کس کے کپڑے ہیں۔ |
| کوفت ہونا : | چھمی سے عالیہ کے علاوہ سب کو کوفت ہوتی تھی۔ |
| بے ہنگم : | میرے گھر کے باہر سے جلوس کے گزرنے کی وجہ سے بےہنگم آوازیں آرہی تھیں۔ |
| مبہم : | مجھے مبہم امید تھی کہ وہ میری بات مان لے گا۔ |
سوال نمبر ۴ : درج ذیل جملوں کی وضاحت کریں۔
(ا) باپ بیٹے دونوں اپنے اپنے طنز کی آگ میں جل کر خود بخود بجھ گئے اور دونوں نے اس طرح منہ پھیر لیا جیسے ایک دوسرے کو بات کرنے کے لائق نہ سمجھ رہے ہوں۔
وضاحت :
اس جملے میں دراصل مصنفہ یہ بتانا چاہ رہی ہیں کہ دونوں باپ بیٹے یعنی کہ بڑے چچا اور ان کے بیٹے جمیل بھائی ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف رکھتے تھے۔ جمیل مسلم لیگ کو سپورٹ کرتا تھا تو وہیں بڑے چچا کانگریس کے حمایتی تھے اور اس جملوں میں جس طنز کی بات کی جا رہی ہے وہ طنز دراصل وہ دونوں ایک دوسرے پر ایک دوسرے کی سیاسی جماعتوں کے متعلق ہی کر رہے تھے اور ایک دوسرے پر طنز کرنے کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے منہ پھیر کر لیٹ گئے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کو بات کرنے کے لائق نہ سمجھتے ہوں۔ یہ سب دیکھ کر ناول کا مرکزل کردار عالیہ کو بہت برا لگا تھا لیکن وہ اس سب میں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔
(ب) پہلے آزادی تو مل جائے، پھر سب ہوتا رہے گا اور پھر یہ ہندوستانی لوگ پہلے حکومت کرنا بھی تو سکھ لیں۔
وضاحت :
کانگریس کے حمایتی چند لوگوں نے عالیہ کے گھر کے باہر جلوس نکالا تھا اس جلوس میں وہ لوگ ہندوستان کے نہ بٹنے اور گاندھی کے زندہ رہنے کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ نعرے سن کر عالیہ کی اماں نے یہ جملے کہے کہ پہلے ہمیں انگریزوں سے آزادی تو مل جائے اس کے بعد یہ سب ہوتا رہے گا کہ ہندوستان کو بٹنا ہے یا نہیں بٹنا ہے۔ مسلمانوں کو الگ ملک ملنا ہے یا نہیں ملنا ہے اور اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان کے لوگوں پر طنز کیا کہ پہلے وہ حکومت تو کرنا سیکھ لیں کیونکہ اگر انہیں حکومت کرنا اتی ہوتی تو انگریز کا بھی ان پر راج نہ کر پاتے۔
(ج) خوشیوں کا کوئی پیمانہ اس وقت چھمی کی مسرت کو ناپ نہیں سکتا تھا۔
وضاحت :
جب اس گھر کے باہر سے کانگریس کے حمایتی لوگوں کا جلوس نکلا تو چھمی کو بہت زیادہ غصہ ایا۔ وہ فورا اپنے کمرے سے یہ کہہ کر باہر نکلی کہ اگر یہاں سے جلوس نکلا تو میں انہیں ڈھیلے ماروں گی۔ لیکن جمیل نے اسے روک دیا۔ جلوس کے جانے کے بعد جب جمیل گھر سے نکل گیا تو چھمی بھی گھر سے نکلی اور اس نے مسلم لیگی بچوں کا ایک جلوس تیار کروایا۔ اپنا کارنامہ سر انجام دے کر جب وہ گھر ائی اور اس جلوس کے اپنے گھر کے باہر سے گزرنے کا انتظار کرنے لگی اس وقت اس کی خوشی اتنی زیادہ تھی کہ خوشی کا کوئی بھی پیمانہ اس کی مسرت کو ناپ نہیں سکتا تھا۔
سوال نمبر ۵ : ماحول اور حالات انسانی رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے چھمی کے کردار پر بحث کریں۔
جواب : حالات اور ماحول انسانی رویوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ چھمی کا کردار ایک ایسا کردار ہے جس پر انسانی رویوں کا یہ اثر ہوا کہ کوئی اسے توجہ نہیں دیتا تھا اسی لیے وہ جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کرنے لگیں کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ وہ مسلم لیگ کی سپورٹر نہیں تھی لیکن وہ اپنے چچا کی توجہ پانے کے لیے مسلم لیگ کو سپورٹ کرنے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ مسلم لیگ کو سپورٹ کرے گی تو اس کے چچا اس کی باتیں سن کر جلا کریں گے اور چھمی کو یہ بات بہت پرمسرت لگتی تھی کہ اس کی باتوں کا دوسروں پر اثر ہوگا۔ اس کے علاوہ چھمی میں بدلہ لینے کی خواہش بھی پائی جاتی تھی کیونکہ اسے ہر طرف سے محبت نہیں مل رہی تھی۔ اگر اسے محبت ملتی تو شاید اس میں بدلا لینے کا جذبہ پروان نہ چڑھتا لیکن چونکہ اسے عالیہ کے علاوہ کوئی محبت نہیں دے رہا تھا لہذا اس نے اپنا کبھی بھی کوئی حق نہیں چھوڑا بلکہ جہاں کہیں اسے لگتا ہے کہ اس کا حق مارا جا رہا ہے وہ سامنے والے سے بدلہ لے لینے پر یقین رکھتی تھی۔
سوال نمبر ۶ : درج ذیل عبارت کی تلخیص کریں، جو اصل عبارت کی ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔
عبارت : موجودہ دور میں یوں تو ہزار ہا مسائل ایسے ہیں جن کا تسلی بخش اور کسی قدر کار آمد حل تلاش نہیں کیا جا سکا لیکن دو مسائل ایسے ہیں جو دنیا بھر کے سائنس دانوں کی توجہ کا خاص مرکز بنے ہوئے ہیں، پہلا مسئلہ، خلائی تحقیق اور دوسرے سیاروں تک پہنچنے کی کوشش ہے۔ انسان جاننا چاہتا ہے کہ ہماری اس زمین سے پرے کون کون سی دنیائیں آباد یا غیر آباد ہیں اور اگر ضرورت پڑے تو انسان زمین کو چھوڑ کر کس دنیا میں آسانی سے پناہ لے سکتا ہے۔ دوسرا مسئلہ قطعی داخلی نوعیت کا ہے، یعنی کرہ ارض پر رہتے ہوئے ہم اپنے لیے کس قدر مزید آسانیاں بہم پہنچا سکتے ہیں۔ دنیا سے بھوک، جہالت، افلاس اور امراض کا خاتمہ کرنے کے لیے ابھی ہمیں کن کن مراحل سے گزرنا ہے اور وہ کون سے طریقے ہیں، جن کی مدد سے بنی نوع انسان خوشگوار محفوظ اور آرام دہ زندگی گزار سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کرہ ارض کا داخلی مسئله خارجی مسلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل اور اہم ہے۔ چاند یا مشتری پر کوئی سٹیشن قائم کرنا آسان ہے لیکن دنیا سے افلاس، جہالت اور امراض کا خاتمہ کرنا سخت مشکل ، دشوار اور پریشانی کا باعث ہے۔
جواب : موجودہ دور کے ہزاروں مسائل میں سے دو مسائل اس وقت دنیا بھر کے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ پہلا مسئلہ تو خلائی تحقیق اور زمین کے علاوہ باقی سیاروں تک پہنچنے کی کوشش ہے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ ہماری دنیا کے علاوہ اس کائنات میں کونسی دنیا آباد یا غیر آباد موجود ہے اور یہ اطمینان بھی حاصل کیا جاسکے کے ضرورت پڑنے پر زمین کو چھوڑ کر انسان کس سیارے پر جاکر رہ سکتا ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے بھوک افلاس بیماری اور برائی کو کیسے ختم کیا جاسکے۔ اور یقینی طور پر پہلے مسئلے حل ڈھونڈنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا مشکل دوسرے مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہے۔