تعارف

جدیدیت کے اہم شعراء میں شمار ہونے والے عام فہم ،سادہ اور سلیس الفاظ و انداز میں اپنا قصہ درد بیان کرنے والے شاعر ناصر کاظمی کا پورا نام سید ناصر رضا کاظمی ہے۔ناصر ۸ دسمبر ۱۹۲۵ کو امبالہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام محمد سلطان کاظمی تھا وہ سرکاری ملازم تھے۔ ان کا تعلق سادات شجرہ نسب سے تھا۔ امام موسیٰ کاظمی سے ان کی نسبت سے ان کے نام میں کاظمی آتا تھا۔

حالاتِ زندگی

انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر امبالہ سے حاصل کی۔مزید تعلیم حاصل کرنے وہ لاہور آئے اور وہیں کالج کے ہوسٹل میں رہتے تھے۔ ناصر کاظمی 1939 میں صرف سولہ سال کی عمر میں لاہور ریڈیو کے ساتھ بطور اسکرپٹ رائٹر منسلک ہوئے اور پھر آخری وقت تک کسی نہ کسی صورت ریڈیو پاکستان کے ساتھ منسلک رہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف ادبی جریدوں، اوراق نو، ہمایوں اور خیال کے مدیر بھی رہے۔

شاعرانہ عظمت

ناصر کاظمی نے اپنی تخلیقی زندگی کی ابتداء تیرہ برس کی عمر میں کی اور اس زمانے کے معروف شاعر اختر شیرانی سے متاثر ہو کر رومانوی نظمیں اور پھر غزلیں کہیں۔ انہیں بطور شاعر مقبولیت اس وقت حاصل ہوئی جب وہ ایف اے کے طالب علم تھے۔ ناصر نے شاعری میں اپنی لفظیات اور حسیات کے پیمانے رومانوی رکھے۔ اس کے باوجود اُن کا کلام عصرِ حاضر کے مسائل سے جڑا رہا۔ چھوٹی بحر کی خوبصورت پیرائے میں لکھی گئی غزلیں اور منفرد استعارے اُن کی شاعری کو دیگر ہمعصر شعراء کے اُسلوبِ کلام سے ممتاز کرتے ہیں۔

ناصر کاظمی کی غزل میں دکھ کی ہلکی سی سلگتی ہوئی آنچ نظر آتی ہے۔ دکھ میں چھلبلاہٹ ہوتی ہے، غصہ ہوتا ہے لیکن ناصر کے ہاں یہ چیزیں نہیں بلکہ دبی دبی کیفیت موجود ہے جو کہ میرؔ کا خاصہ ہے۔ لیکن ناصر میر کی تقلید نہیں کرتے بلکہ صرف متاثر نظر آتے ہیں ۔ ناصر نے جو دکھ بیان کیے ہیں وہ سارے دکھ ہمارے جدید دور کے دکھ ہیں۔ ناصر نے استعارے لفظیات کے پیمانے عشقیہ رکھے لیکن اس کے باطن میں اسے ہم آسانی سے محسوس کرسکتے ہیں۔ محض عشق نہیں بلکہ ہجرت ، جدید دور کے مسائل ،اور دوسری بہت سی چیزیں ان کی غزلوں میں ملتی ہیں۔

شعری مجموعے

اعلیٰ شاعری کے اوصاف میں لفظ و معانی کی ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ناصر کاظمی نے اپنے شعری مجموعوں ’’برگ نے ‘‘ ، ’’دیوان‘‘ اور ’’پہلی بارش‘‘ کی غزلوں میں اس اسلوب کو عروج پر پہنچایا ہے۔ان کے اشعار میں شعری احساسات کی تاثیر الفاظ کے مناسب آہنگ اور موزوں نشست کا عطیہ ہے۔ان کے اشعار کے تمثیلی پیرایہ اور ڈرامائی کوایف نے ان کو قادر الکلام شاعر کے درجے پر پہنچایا ہے۔ ناصر کاظمی نے اپنے مجموعے ’’نشاط خواب‘‘ کی نظموں اور ’’سُر کی چھایا ‘‘ کی ڈرامائی آوازوں میں اپنے وجود کے تجربوں کی لہر در لہر تشکیل کی ہے۔ انہوں نے اپنے تمام مجموعوں میں جدید لہجے اور معاصر سوچ کی ہم آہنگی سے جادو اثر بیان کے کرشمے دکھائے ہیں۔

ناصر کاظمی کی مشہور تصانیف میں برگ نے،اعتبار نغمہ،خشک چشمے کے کنارے،پہلی بارش،نشاط خواب اور اس کے علاوہ وہ صاحب دیوان شاعر تھے۔ ان کا بیشتر کلام مخفوظ کر لیا گیا ہے۔

آخری ایام

ناصر کاظمی نے 2 مارچ 1972 کو معدہ کے کینسر کی وجہ سے وفات پائی۔ تاہم ان کی شہرت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ناصر کاظمی کی ۴۷ سالہ زندگی اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

منتخب کلام

ناصر کاظی کی بہترین غزلوں میں سے ایک غزل جو انتہائی مقبول عام ہوئی۔

Quiz on Nasir Kazmi

ناصر کاظمی 1
Advertisements