تعارف

آبرو کا پورا نام نجم الدین عرف شاہ مبارک تھا اور تخلص آبرو تھا۔ آپ صوفی بزرگ محمد غوث گوالیاری کے پوتے تھے۔ نامور فارسی داں اور عالم خان آرزو کے رشتے دار اور شاگرد تھے۔ گوالیار میں پیدا ہوئے۔ سن پیدائش غالباً ۱۰۹۶ھ بمطابق ۱۶۸۳ء کے لگ بھگ تھا۔ ملازمت شاہی کے سلسلے سے وابستہ رہے اور غالباً اس سلسلے میں فتح علی گردیزی  صاحب تذکرہ گردیزی کے والد کی رفاقت میں نارنول میں بھی رہے۔  آپ ریختہ میں شمالی ہند کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے۔

شہرت

دہلی آئے اور عہدِ محمد شاہ میں "درویش منش اور قلندر مشرب” مشہور ہوئے۔ شمالی ہند میں اردو شاعری کو رواج دینے والوں میں آبرو کو اوّلیت کا شرف حاصل ہے۔ ان سے پہلے ولی اور دکن کے کچھ دوسرے شعراء اردو میں شاعری کر رہے تھے لیکن  شمالی ہند میں شاعری کی اصل زبان فارسی تھی۔ اردو شاعری محض تفریحاً منہ کا مزا بدلنے کے لئے کی جاتی تھی۔ پھر جب ۱۷۲۰ء میں ولی کا دیوان دہلی پہنچا  اور اس کے اشعار خاص و عام کی زبان پر جاری ہوئے تو جن لوگوں نے سب سے پہلے ریختہ کو اپنے شعری اظہار کا خاص ذریعہ بنایا ان میں فائز، شرف الدین مضمون، محمد شاکر ناجی اور شاہ مبارک آبرو سرِفہرست تھے۔ ان کے علاوہ، یکرنگ احسان اللہ خاں اور حاتم بھی فارسی کو چھوڑ کر اردو میں شاعری کرنے لگے تھے۔ لیکن ان سب میں آبرو کا اک خاص مقام تھا۔ 

اوّلیت کے مسئلہ پر محققین نے خاصی بحثیں کی ہیں جن کا تجزیہ کرنے کے بعد ڈاکٹر محمد حسین کہتے ہیں :
  ’’اس بحث سے یہ نتیجہ نکالنا غلط نہ ہو گا کہ فائز کی موجودہ کلیات جو نظرثانی کے بعد مرتب ہوئی، شمالی ہند میں اردو کا پہلا دیوان قرار دینے کے لئے ہماررے پاس قطعی اور مستحکم دلائل  موجود  نہیں  ہیں۔ فائز کے بعد اوّلیت کا استحقاق آبرو اور حاتم کو ملتا ہے، حاتم کا دیوان دستیاب نہیں، صرف نظرثانی کے بعد مرتب کیا گیا ’دیوان زادہ‘  ملتا ہے۔ اس صورت میں آبرو کا دیوان یقیناً  شمالی ہند میں اردو کا پہلا مستند دیوان ہے۔‘‘

آبرو نے شعر گوئی اس وقت شروع کی تھی جب شاعری میں فارسی کا سکّہ چلتا تھا اور متاخرین شعراء میں فارسی کا کلام مقبول تھا۔ آبرو نے فارسی اور برج دونوں کے رنگ و آہنگ کے اثرات قبول کئے اور  اپنے دور کے مزاج کو پوری طرح اپنایا اور اس کا اظہار ریختہ میں کیا اور یہ اظہار اس بےساختگی اور بانکپن سے ہوا جو محمد شاہی دور کی خصوصیت ہے۔ تمام تذکرہ نویس متفق ہیں کہ آبرو اردو میں ایہام گوئی کے موجد نہ سہی اس کو رواج دینے اور اسے سکۂ رائج الوقت بنانے والوں میں ان کا نام سر فہرست ہے۔

معذوری

آبرو نے ملازمت کے دوران عزت اور دولت حاصل کی اور ان کا شمار خوشحال لوگوں میں ہوتا تھا۔ ایک آنکھ سے معذور تھے۔ داڑھی لمبی تھی اور ہاتھ میں عصا لے کر چلتے تھے۔  ہم عصر شاعروں میں مظہر جان جاناں سے ان کی نوک جھونک چلتی تھی۔ ان کے مخالفین عموماً  ان کی شاعری کی بجائے ان کی آنکھ کی خرابی کو تمسخر کا نشانہ بناتے تھے۔ 

آخری ایام

آبرو حسن پرست شخص تھے۔ جس کا ذکر ان کے کلام میں بھی جابجا ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آخری عمر میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر درویش بن گئے تھے۔ لیکن آخری عمر کو ضعیفی پر محمول کرنا غلط ہوگا کیونکہ آبرو نے صرف پچاس برس کی عمر پائی اور مصحفیؔ کے مطابق ۲۴ رجب کو ۱۷۳۳ء بمطابق ۱۱۴۶ھ ہجری میں گھوڑے کے لات مار دینے سے ان کا انتقال ہوا۔ ان کی قبر دہلی میں سید حسن رسول نما کے نزدیک ہے۔

آبرو کی منتخب غزل درج ذیل ہے۔

Advertisements