اردو کی ادبی اصناف (ثانوی و اعلیٰ جماعت کے لیے)
سبق نمبر07: شعری اصناف

قطعہ کی تعریف

قطعہ ایک ایسی مختصر نظم ہے جس میں اشعار کی تعداد متعین نہیں ہوتی۔ عام طور پر اس میں چار مصرعے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں ہے۔ اس میں کسی خاص خیال یا تجربے کو پوری شدت اور وحدت تاثر کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔

کلاسیکی شاعروں کے یہاں قطعہ عموماً غزل کے اشعار میں ملتا ہے۔ غزل کے ایسے دو یا دو سے زیادہ اشعار جن میں کوئی مضمون یا خیال تسلسل کے ساتھ پیش کیا جائے انھیں قطعہ بند اشعار کہتے ہیں۔ قطعہ بند اشعار کی اس روایت کو بعد کے شعرا نے مزید وسعت دی اور اسے ایک علاحدہ صنف کا مقام عطا کیا۔

قطعہ چوں کہ غزل سے برآمد ہوا ہے اس لیے یہ غزل کی ہیئت میں کہا جاتا ہے۔اس میں ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں قافیے کا خیال رکھا جاتا ہے۔ تاہم غزل کے بر خلاف قطعے کے پہلے دونوں مصرعے ہم قافیہ نہیں ہوتے یعنی اس میں مطلع نہیں ہوتا۔

قطعہ کی روایت

غزل کے اشعار کے بیچ قطعہ گوئی کی روایت قدیم زمانے سے چلی آتی ہے۔ البتہ ایک علاحدہ صنف کے طور پر اسے استحکام عطا کرنے والوں میں وحید الدین سلیم اور اختر انصاری خاص ہیں۔ بعد میں احمد ندیم قاسمی اور نریش کمار شاد نے قطعہ گوئی کے فن کو فروغ دیا۔جیسا کہ اوپر ذکر آیا، قطعے میں عام طور پر چار مصرعے ہوتے ہیں۔ رباعی بھی چار مصرعوں کی ایک نظم ہوتی ہے لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ رباعی کے لیے بحر ہزج کے کچھ خاص اوزان مخصوص ہیں جبکہ قطعہ غزل کی طرح ہر بحر میں کہا جا سکتا ہے۔نیچے قطعے کی ایک مثال دیکھیے:

ہلکی ہلکی پھوار کے دوران میں
دفعتاً سورج جو بے پردہ ہوا
میں نے یہ جانا کہ وحشت میں کوئی
روتے روتے کھلکھلا کر ہنس پڑا