Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر :1
- سبق : اپنی مدد آپ
- مصنف : سر سید احمد خان
- ماخوذ : مقالاتِ سر سید
تعارفِ مصنف :
سرسید احمد خان دلی میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد سید محمد متقی کو بادشاہ کے دربار میں بڑا اثر و رسوخ حاصل تھا۔ اُس زمانے کے رواج کے مطابق اُنھوں نے قرآن مجید، عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے وقت وہ بجنور میں تھے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی تباہی نے اُن کے دل پر گہرا اثر کیا اور مسلمانوں کی اصلاح کا پیڑا اٹھایا۔
انھوں نے اندازہ لگایا کہ کسی بھی قوم کی اصلاح اور ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اس لیے انھوں نے اپنی ساری صلاحیتیں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت پر صرف کیں۔ علی گڑھ کالج اس کی روشن مثال ہے۔ اس کے علاوہ عام مسلمان گھرانوں کی تربیت اور اصلاح کے لیے ایک رسالہ تہذیب الاخلاق بھی جاری کیا۔ سرسید کا ایک اور بڑا کارنامہ سادہ اور آسان نثر کی ترویج تھا۔
دراصل وہ ادب برائے ادب کے قائل نہ تھے، بلکہ انھوں نے ادب کو اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ اُن کی تحریر میں بڑا تنوع تھا۔ انھوں نے مذہب، سیاست، تاریخ ، ادب، فلسفہ اور منطق ، ہر موضوع پر طبع آزمائی کی۔ سرسید کا اُردو ادب پر بڑا احسان ہے کہ وہ زبان جو پہلے فقط حسن و عشق اور تخیلاتی دنیا تک محدود تھی ، حقیقت نگاری اور اصلاح کے لیے استعمال ہونے لگی۔
تصانیف:
آثار الصنادید، اسباب بغاوت ہند، خطبات احمدیہ، مقالات سرسید وغیرہ
سبق کا خلاصہ:
خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔
یہ ایک انتہائی آزمودہ مقولہ جس میں انسانوں اور قوموں کی ترقی کا تجربہ جمع ہے۔ سرسید کے خیال میں وہ قوم دوسروں کی نظر میں ذلیل اور بےعزت ہوجاتی ہے جس قوم کے افراد کی مدد کی جائے تو ان میں اپنی مدد آپ کا جذبہ بڑھنے کے بجائے کم ہوجائے اور وہ چاہیں کہ کوئی دوسرا ہی ان کی مدد کرتا رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نیچر کا قاعدہ ہے کہ جیسا مجموعہ قوم کی چال چلن کا ہوتا ہے اسی کے موافق اس کے قانون اور اسی کے مناسب حال گورنمنٹ ہوتی ہے۔
ان کے حساب سے قومی ترقی درج ذیل چیزوں کا مجموعہ ہے : شخصی محبت ، شخصی عزت ، شخصی ایمانداری ، شخصی ہمدردی جبکہ قومی تنزلی درج ذیل برائیوں کا مجموعہ ہے : شخصی سستی ، شخصی بےعزتی ، شخصی بے ایمانی ، شخصی خود غرضی ، شخصی برائیوں سرسید کے خیال میں اصلی غلام وہ ہے جو بداخلاقی ، خود غرضی ، جہالت اور شرارت کا مطیع ہو اور اپنی خود غرضی کی غلامی میں مبتلا ہو کر قومی ہمدردی سے نابلد ہو۔ وہ کہتے ہیں دنیا کی معزز قوموں نے اپنی مدد آپ کرنے کی خوبی کی وجہ سے عزت پائی۔ ولیک ڈراگن کے اصول کا مفہوم ہے کہ جو قومیں اپنی مدد آپ کرتی ہیں وہ بہت جلد کامیاب ہوجاتی ہیں۔
علم کی بنسبت عمل اور سوانح عمری کی بنسبت عمدہ چال چلن انسان کو زیادہ تر معزز اور قابلِ ادب بناتا ہے۔ دراصل سر سید احمد خان یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہی قومیں اس دنیا میں ترقی کرتی ہیں جو اپنی مدد اپ کے تحت کوئی کام کرتی ہیں۔ جو قومیں دوسروں کی طرف مدد کے لیے دیکھتی رہتی ہیں وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی ہیں۔ سر سید احمد خان کہتے ہیں کہ دراصل ہر قوم اس قوم میں موجود افراد کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جس قوم کے افراد بد اخلاقی اور بددیانتی جیسی برائیوں سے دور رہتے ہیں وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جبکہ جس قوم کے لوگ بددیانت ہوتے ہیں اور جن میں قومی ہمدردی نہیں پائی جاتی ہے ایسے افراد کی قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر پاتی ہے۔
مشق
۱) اپنی مدد آپ کو مدِنظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے مختصر جواب تحریر کریں جو تین تین سطور سے زیادہ نہ ہوں۔
(١): وہ کون سا آزمودہ مقولہ ہے جس میں انسانوں اور قوموں کی ترقی کا تجربہ جمع ہے؟
جواب : وہ آزمودہ مقولہ جس میں انسانوں اور قوموں کی ترقی کا تجربہ جمع ہے یہ ہے خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔
۲) سرسید کے خیال میں کون سی قوم ذلیل و بے عزت ہو جاتی ہے؟
جواب : سرسید کے خیال میں وہ قوم دوسروں کی نظر میں ذلیل اور بےعزت ہوجاتی ہے جس قوم کے افراد کی مدد کی جائے تو ان میں اپنی مدد آپ کا جذبہ بڑھنے کے بجائے کم ہوجائے اور وہ چاہیں کہ کوئی دوسرا ہی ان کی مدد کرتا رہے۔
۳) نیچر کا قاعدہ کیا ہے؟
جواب : نیچر کا قاعدہ ہے کہ جیسا مجموعہ قوم کی چال چلن کا ہوتا ہے اسی کے موافق اس کے قانون اور اسی کے مناسب حال گورنمنٹ ہوتی ہے۔
۴) قومی ترقی کن خوبیوں کا مجموعہ ہے؟
جواب : قومی ترقی درج ذیل چیزوں کا مجموعہ ہے : شخصی محبت ، شخصی عزت ، شخصی ایمانداری ، شخصی ہمدردی
۵)قومی تنزلی کن برائیوں کا مجموعہ ہے؟
جواب : قومی تنزلی درج ذیل برائیوں کا مجموعہ ہے : شخصی سستی ، شخصی بےعزتی ، شخصی بے ایمانی ، شخصی خود غرضی ، شخصی برائیوں
۶)بیرونی کوشش سے برائیوں کو ختم کرنے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
جواب : بیرونی کوشش سے برائیوں کو ختم کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ برائیاں کسی اور شکل و صورت میں اور زیادہ زور و شور سے سامنے آتی ہیں۔
۷)سرسید کے خیال میں اصلی غلام کون ہے؟
جواب : سرسید کے خیال میں اصلی غلام وہ ہے جو بداخلاقی ، خود غرضی ، جہالت اور شرارت کا مطیع ہو اور اپنی خود غرضی کی غلامی میں مبتلا ہو کر قومی ہمدردی سے نابلد ہو۔
۸)دنیا کی معزز قوموں نے کس خوبی کی وجہ سے عزت پائی ؟
جواب : دنیا کی معزز قوموں نے اپنی مدد آپ کرنے کی خوبی کی وجہ سے عزت پائی۔
۹) ولیم ڈراگن کے اصول کا مفہوم بیان کریں۔
جواب : ولیم ڈراگن کے اصول کا اصل مفہوم یہ ہے کہ جو قومیں اپنی مدد آپ کرتی ہیں وہ بہت جلد کامیاب ہوجاتی ہیں۔
۱۰)کون سی خوبی آدمی کو معزز اور قابل ادب بناتی ہے؟
جواب : علم کی بنسبت عمل اور سوانح عمری کی بنسبت عمدہ چال چلن انسان کو زیادہ تر معزز اور قابلِ ادب بناتا ہے۔
۲) اپنی مدد آپ کے متن کو مدِنظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے درست جواب کے شروع میں (✔) کا نشان لگائیں۔
- ۱)خدا ان کی مدد کرتا ہے جو آپ اپنی مدد کرتے ہیں ، یہ ایک نہایت عمدہ اور آزمودہ :
- (ا) کہاوت ہے
- (ب) مقولہ ہے ✔
- (ج) ضرب المثل ہے
- (د) محاورہ ہے
- ۲) ایک شخص میں اپنی مدد کرنے کا جوش اس کی سچی:
- (ا) تنزلی کی بنیاد ہے
- (ب) شہرت کی بنیاد ہ
- (ج) عزت کی بنیاد ہے
- (د) ترقی کی بنیاد ہے✔
۳)سبق اپنی مدد آپ کو پیش نظر رکھتے ہوئے درج ذیل جملے مکمل کریں۔
- (الف) خدا ان کی مدد کرتا ہے جو آپ اپنی مدد کرتے ہیں۔
- (ب) جس طرح پانی خود پنسال میں آجاتا ہے۔
- (ج) قوم شخصی حالتوں کا مجموعہ ہے
- (د) قوم کی سچی ہمدردی کرو۔
- (ہ) ہم لوگوں کے یہ خیال ہیں کہ کوئی خضر ملے۔
۴)سبق اپنی مدد آپ کا مرکزی خیال لکھیں جو پانچ جملوں سے زیادہ نہ ہو۔
مرکزی خیال :
اپنی مدد اپ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اس سبق میں سر سید احمد خان یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہی قومیں اس دنیا میں ترقی کرتی ہیں جو اپنی مدد اپ کے تحت کوئی کام کرتی ہیں۔ جو قومیں دوسروں کی طرف مدد کے لیے دیکھتی رہتی ہیں وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی ہیں۔ سر سید احمد خان کہتے ہیں کہ دراصل ہر قوم اس قوم میں موجود افراد کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جس قوم کے افراد بد اخلاقی اور بددیانتی جیسی برائیوں سے دور رہتے ہیں وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جبکہ جس قوم کے لوگ بددیانت ہوتے ہیں اور جن میں قومی ہمدردی نہیں پائی جاتی ہے ایسے افراد کی قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر پاتی ہے۔
۶) سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح لکھیں۔
قومی ترقی مجموعہ ہے ———– حالتوں کو ترقی نہ کی جاوے۔
تشریح :
اس اقتباس میں سر سید احمد خان صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قومی ترقی دراصل شخصی محبت، شخصی عزت، شخصی ایمانداری اور شخصی ہمدردی کا مجموعہ ہے جبکہ شخصی سستی، شخصی بےعزتی، شخصی بے ایمانی، شخصی خودگرزی اور شخصی برائیوں ہی کی وجہ سے قومی تنزلی وجود میں آتی ہے۔ سر سید احمد خان کا ماننا یہ ہے کہ وہ تمام برائیاں جو دراصل قومی برائیاں مانی جاتی ہیں وہ کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور جب تک کسی بھی قوم کے ہر فرد کی زندگی کو بہتر نہ بنایا جائے اور اس شخص کی زندگی کو کارآمد نہ بنایا جائے تب تک کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی ہے۔