اخترالایمان

اخترالایمان اردو کے مقبول و معروف شاعر ہونے کے ساتھ بالی ووڈ کے نامور اسکرپٹ رائٹر بھی تھے۔ جو دھرم پتر اور وقت جیسی فلموں کے لیے مشہور ہیں۔ انھوں نے بطور اسکرپٹ رائٹر اور مکالمہ نگار اپنی ایک منفرد پہچان بنائی اور اردو نظم نگاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

12 نومبر 1915ء کو اترپردیش کے نجیب آباد میں اختر کی ولادت ہوئی۔ انکے والد محترم مولوی فتح محمد وہاں کی مقامی مسجد میں پیشِ امام تھے۔ اس لیے ایمان صاحب کی ابتدائی تعلیم مدرسے میں ہوئی۔ 1930ء میں ان کا داخلہ دہلی کے ایک ریفارمیٹری اسکول موئدالسلام میں ہوا۔ جب بھی اسکول کے طلباء کی شہر سے کوئی دعوت ہوتی تو تمام طلباء کا گزر جامع مسجد کی سیڑھیوں پر سے ہوتا تھا۔ وہاں ہمیشہ شاعروں کا جھرمٹ لگا رہتا اور وہیں کسی شاعر کے اشعار سن کر اختر نے کہا کہ "ایسی شاعری تو میں بھی کرسکتا ہوں۔” اور اس طرح ان کے اندر شاعری کا شوق پیدا ہوا۔

اختر نے اپنا گریجویشن دہلی کے ذاکر حسین کالج سے کیا۔ طالبِ علمی کے زمانے میں انھوں نے بیشتر افسانے تصنیف کیے، "جھلی والا” اور "وطن” ان کے اہم افسانے ہیں۔ "ترقی” نامی رسالے میں ان کی تصنیفات شائع ہوتی تھیں اور ان کی ادبی صلاحیتوں کے پیشِ نظر انھیں کالج میگزین کا ناظم بنایا گیا تھا۔ انھوں نے سرکاری ملازمت کے ساتھ آل انڈیا ریڈیو پروگرام میں کام کرنا شروع کیا۔ ریڈیائی پروگراموں کے دوران اکثر ان کی ملاقات راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر اور میراجی سے ہوتی تھی۔ ریڈیو کی ملازمت کو خیرآباد کہہ کر انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو لیٹریچر میں ایم اے مکمل کیا۔

نظم نگاری

نظم گوئی میں اخترالایمان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ انھوں نے ہمیشہ نظموں کو غزلوں پر ترجیح دی کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ غزل کے ذریعے اصل خیالات اور تصور کا اظہار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی نظموں کے چھ مجموعات ہیں۔ تاریک سیارہ،  گرداب،  آبِ جو،  یادیں، بنتِ لمحات، اور نیا آہنگ۔ 1983ء میں ان کا کلیات "سرو سامان” شائع ہوا۔ انھیں 1962ء میں "یادیں” کے لیے ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کا آخری مجموعہِ کلام ان کے انتقال کے بعد "زمستان سرد مہری کا” کے نام سے جاری ہوا۔ نظم نگاری کے علاوہ ان کی سوانح خود نوشت "اس آباد خرابے میں” قابلِ ذکر ہے۔

تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اخترالایمان فلموں میں بطور اسکرپٹ رائٹر کام کرنے کے لیے پونا پہنچ گئے۔ انھوں نے سب سے پہلے "غلامی” فلم کے مکالمے لکھے، البتہ  پونا میں انھیں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ اس لیے وہ 1945ء میں ممبئی آگئے۔ یہاں انھوں نے بی۔ آر چوپڑا کی فلم "قانون” کے لیے مکالمے لکھے اور وہیں سے ان کی اسکرپٹ رائٹنگ کا آغاز ہوا۔ ان کے لکھے مکالمے پورے ملک میں مشہور ہوگئے۔ قانون کے بعد انھوں نے "وقت” فلم کی مکالمہ نگاری کی۔ اس کے علاوہ اپرادھ، دھرم پتر، میرا سایہ، پھول اور پتھر، پتھر کے صنم جیسی فلموں نے ایمان صاحب کو ایک معروف اسکرپٹ رائٹر اور ڈائیلاگ رائٹر بنا دیا تھا۔ انھیں ‘دھرم پتر’ کی مکالمہ نگاری کے لیے 1963ء میں اور وقت کے لیے 1966ء میں بیسٹ ڈائیلاگ رائٹر کا فلم فیر ایوارڈ ملا۔ بالی ووڈ کے مشہور اداکار امجد خان سے انھوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔

9 مارچ 1996ء کو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ممبئی میں ہی انکی وفات ہو گئی۔

Written By

Tehreem Sheik

Close