Hamidi Kashmiri Biography In Urdu | حامدی کاشمیری کے حالات زندگی ادبی خدمات

0

حالات زندگی

حبیب اللہ نام حامدی تخلص 29 جنوری 1932ء کو سرینگر میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ایک مقام پرائمری سکول میں حاصل کی۔ مڈل اور میٹرک کے امتحانات پاس کرنے کے بعد ایس پی کالج اور امرسنگھ کالج سے انٹر اور ایم-اے کے امتحانات پاس کیے۔ پھر کشمیر یونیورٹی سے انگریزی ادب میں ایم ۔ اے کرنے کے بعد ایس پی کالج میں انگریزی کے لیکچرار کا منصب سنبھالا۔

حقیقت ہے کہ حامدی کوانگریزی سے زیادہ اردو ادب کے ساتھ لگاؤ تھا۔ اس لیے پنجاب یونیورٹی سولن سے اُردو میں ایم ۔ اے کرنے کے بعد کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں لیکچر بنائے گئے۔ حامدکی صاحب کلچرل اکیڈیمی کے اسٹنٹ سیکریٹری بھی رہے۔ شعبۂ اردوکشمیر یونیورسٹی میں حامدی صاحب ریڈر اور بعد میں سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ ملازمت کے آخری تین برسوں میں حامدی صاحب کشمیر یونیورسٹی میں واس چانسلر کے اعلی عہدے پر فائز رہے۔ آخرکار 27 دسمبر 2018ء کو سرینگر میں انتقال کر گئے۔

ادبی خدمات

حامدی صاحب کو بچپن سے شاعری سے لگاؤ تھا۔ انھوں نے تعلیم کے دوران ہی شعر و شاعری کا سلسلہ شروع کیا اور کالج کی ادبی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی لیتے رہے۔ حامدی صاحب ایک منجھے ہوئے افسانہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ناول بھی لکھے اور تنقید پر بھی ان کی کی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی نظمیں بھی خوب ہیں لیکن غزلوں میں مقامی رنگ نمایاں ہے۔

عصری ماحول اور زندگی کی لاحاصلی کا احساس بھی ان کی غزلوں میں پایا جاتا ہے۔ فکر اور اسلوب کے کچھ جدید آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض غزلوں میں روایتی انداز ہے۔ اُن کا اسلوب سادہ ہے۔ اُن کے کلام میں کشمیر کے حسن اور فطری مناظر کی عکاسی کے ساتھ ساتھ روایتی شاعری اور رومان بھی نظر آتا ہے۔ احساس اور شعور کی گہرائی بھی کہیں کہیں ملتی ہے۔ حامدی صاحب کو ان کی ادبی خدمات کے عوض کئی اعزازت سے نوازا گیا ہے۔ ان اعزازات میں پدم شری بھی شامل ہے۔