تعارف

اردو ادب کے افق پر ستارے کے مانند چمکنے والے سید محمد بشیر جو ۱۵ فروری ۱۹۳۵ کو بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ ان کا قلمی نام بشیر بدر تھا۔ بشیر بدر نے اُردو غزل کو نئی جہت دی۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کی شادی راحت بدر سے ہوئی جس سے ان کے چار بچے (تین بیٹے ایک بیٹی) ہیں۔ زمانہ طالب علمی سے لے کر ملازمت کے دوران وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں مقیم رہے۔ وہ اُردو اکادمی بھارت کے سربراہ بھی رہے۔ جبکہ بھارت میں ایم۔اے اُردو کے نصاب میں اُن کی شاعری شامل ہے۔

ایم اے کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد دو سال تک محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر رہے ،شاعری کا آغاز کرچکے تھے اور ’’کلاسیکیت ‘‘ اور ’’عصریت‘‘ ، آپ کے خاص موضوعاتِ سخن رہے۔ بعد از وہ میرٹھ یونی ورسٹی میں شعبہ اردو سے منسلک رہے۔ آپ نے مختلف میگزین کی ایڈیٹر شپ بھی کی۔

ادبی زندگی

بشیر بدر جہاں ایک استقامت آشنا، صاحب اسلوب تخلیق کار ہیں، وہیں بحیثیت شاعر ادبی و شعری دنیا میں ان کا اعتبار، وقار اور افتخار قائم ہو چکا ہے۔ شعری، فنی، جمالیاتی، عشقیہ اور نئی غزل کے حقائق و حقانیت کا جو منظرنامہ وہ گزشتہ نصف صدی سے سپرد تحریر کرتے رہے ہیں، وہ جدید غزل اور اس سے وابستہ دوسرے علائم و رموز نیز قدیم تہذیب کے ساتھ ان کے داخلی و باطنی رشتے کی شہادت و صداقت کے لیے کافی ہے۔  بشیر بدر ان معنوں میں خوش قسمت ہیں کہ انھیں شروع سے ہی اہم ادبی شخصیات کا ساتھ ملا اور اس عہد کے تمام بڑے ادبی رسائل میں اپنا کلام شائع کرانے کے مواقع ملے ، یہی وجہ ہے کہ نوجوانی میں ہی ان کی شاعرانہ حیثیت اتنی مستحکم ہوچکی تھی کہ شعر وادب کی مقتدر شخصیات کے درمیان بھی ان کے اشعار موضوع گفتگو رہتے۔ ان کی غزل علی گڑھ یونیورسٹی کے ایم اے کے نصاب میں اس وقت بھی داخل تھی جب وہ خود علی گڑھ گریجویشن کرنے پہنچے۔ موصوف کی غزلیں اپنے طلسم سخن سے، اپنے جدید رویے سے اور اپنے سادہ اسلوب و اظہار سے ہمیں مسحور و مبہوت کر لیتی ہیں۔

اعزازات

بشیر بدر کی ادب کے لئے خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومت ہندوستان نے انہیں پدماشری سے نوازا، ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ بھی ان کو حاصل ہے۔

تصانیف

ڈاکٹر بشیر بدر کی تصانیف میں آس، آزادی کے بعد کی غزل پر تنقید، بشیر بدر کی غزلیں، اکائی، ایمیج اور نئی آواز بےپناہ مقبول ہیں۔

ڈاکٹر بشیر بدر ۱۹۳۵ سے اب تک ہمارے ساتھ ہیں۔ان کی عمر ۸۵ سال کے لگ بھگ ہے۔ وہ اب بھوپال میں ہی مقیم ہیں۔ نوجوان ان کے مشاعروں کی ویڈیو کلیپس بہت پسند کرتے ہیں۔ دنیا کے جس علاقہ میں اُردو پڑھی، لکھی اور سمجھی جاتی ہے وہاں پر ڈاکٹر بشیر بدر کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ بھارتی ٹی وی کی ایک ویڈیو نے ہمیں ڈاکٹر بشیر بدر کی وہ تصویر دکھائی جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس کے باوجود کہ وہ بیماری اور پیرانہ سالی کے اپنی شاعری بھول چکے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم بشیر بدر کی شاعری کبھی مر نہیں سکتی کہ ان کی شاعری آج محبت کرنے والوں پر حکمرانی کرتی ہے۔

منتخب کلام

ڈاکٹر بشیر بدر کی خوبصورت غزل ملاحظہ کریں۔

Quiz On Bashir Badar

بشیر بدر 1
Advertisements