Back to: اردو ادب کے شاعر
نام محمد منظور، حکیم اس نبی ہے اور قمی نام حکیم منظور ۲۵ دسمبر ۱۹۳۸ء کوسرینگر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول را جوری کدل سرینگر میں پائی۔ بعد میں ایس پی کالج سرینگر میں داخلہ لیا۔ یہاں پروفیسر عبدالاحد رفیق، مولوی نورالدین، پروفیسر غیاث الدین اور پروفیسر جیالال کول جیسے اساتذہ سے اثر قبول کیا۔ ایف ایس سی کرنے کے بعد سائنس چھوڑ کر آرٹس مضمون کو اپنایا۔ علی گڑھ سے ادیب کامل کا امتحان پاس کیا۔حکیم منظور کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔
وہ ایک ذہین اور قابل افسر تھے۔ کسٹوڈین جنرل بنے ، ڈپٹی کمشنر رہے، ناظم تعلیمات کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ سرکاری ملازمت سے فراغت حاصل کرنےکے بعد پوری طرح ادب کی خدمت میں جٹ گئے۔حکیم منظور نے شعر گوئی کی با قاعدہ شروعات ۱۹۶۴ء کے آس پاس کی۔ پہلے افسانے لکھتے تھے۔ لیکن بعد میں تمام تر ذہنی قوت شعر گوئی میں لگا دی ۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ” ناتمام ۱۹۷۸ء میں شائع ہوا۔
اس کے بعد لہولس چنار ” برف رتوں کی آگ خوشبوکا نیا نام پول شفق آنگن کے شعر آسمان اور صبح شفق تلاوت“ شائع ہوئے۔ نظم، غزل، دو ہے، ترینی، ماہیے، چنے، ہائیکو، جیسےاصناف سخن میں طبع آزمائی کر چکے ہیں۔حکیم منظور کی شاعری میں جذبہ اور احساس کی ایک زیر یں رو اور ایک فعال ذہانت ہے۔ فکر وندرت ان کی شاعری کے اندر جلوہ گر ہے۔ غزل کے لیے وہ نادر بحریں استعمال کرتے ہیں۔ منظور کا انداز بیاں استعاراتی ہے۔
استعارہ سازی میں وہ ید طولی رکھتے ہیں۔اُنھوں نے کشمیر اور کشمیریت کے نقوش کمال سادگی سے علامتوں کے طور پراستعمال کیے اور انھیں مقامی سے آفاقی بنا دیا۔حکیم منظور نے تنقیدی اور تاریخی مضامین بھی لکھتے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی نے اُن کی تصنیف اقبال: ایک تذکرہ “ شائع کی ہے۔ ایک عرصے تک خبر نظر کے مدیر اعلی بھی رہے۔ حکیم منظور کو ان کی ادبی خدمات کے صلے میں جموں و کشمیر کھرل اکیڈیمی،اتر پردیش، مغربی بنگال اور بہار اُردو اکادمیوں سے بھی انعامات حاصل ہوئے ۔آخر کار انھوں نے ۲۱ جنوری ۲۰۰۷ ء میں سرینگر میں انتقال کیا۔