Advertisement

تعارف

معین احسن جذبی ۲۱ اگست ۱۹۱۲ کو قصبہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ، یو پی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام معین احسن اور تخلص جذبی ہے۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق میرٹھ کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ ان کے پر دادا مولوی حمزہ اپنے زمانے میں میرٹھ کے ایک بڑے عالم مانے جاتے تھے۔ جذبی کی یہ بد نصیبی رہی کہ جب وہ محض چار برس کے ہی تھے کہ ان کی والدہ بیگم آمنہ چل بسیں۔ گھر میں ان کے والد ان سے حالی ، غالب، اسماعیل میرٹھی، انیس اور اقبال کی غزلیں اور نظمیں یاد کرواتے اور پھر ان سے سنا کرتے، جب جذبی کی عمر فقط آٹھ یا نو برس تھی۔

Advertisement

جذبی کے بچپن کا بیشتر حصہ جھانسی میں گزرا۔ وہیں ۱۹۲۹ میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ پھر سینٹ جانس کالج سے ایف ایس سی میں داخلہ لیا مگر پاس نہ ہو پائے۔ کافی جگہ گئے بہت سے کالج بدلے مگر چار سال بعد وہ آگرہ چلے آئے اور پرائیویٹ ہی انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ انھوں نے بی اے دہلی سے کیا۔ ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے کیا۔

Advertisement

شاعرانہ عظمت

معین احسن جذبی ترقی پسند شاعری کے ایک اہم ستون ہیں۔ انہوں نے شہرت کے لئے کبھی جست لگانے کی کوشش نہیں کی۔ روایت کی پاسداری، حقیقت نگاری، ترقی پسندی ، احساس غم کی گراں باری، قنوطیت میں رجائیت کی شانہ کاری، اور جمالیات کی تازگی انکی شاعری کے اہم عناصر ہیں۔ ان کے یہاں نظم و غزل کے آئین و آداب سے گہری ہم رشتگی بھی ملتی ہے۔اور ترقی پسند شاعری کے تقاضوں سے ہم آہنگی بھی۔ فکر میں تازگی، اظہار و اسلوب میں ٹھہراؤ، توازن اور اعتدال بھی انکی شاعری کا خاصہ ہے۔

Advertisement

انہوں نے شاعری کی صدیوں پرانی روایت کی توسیع کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ ترقی پسندی کو کشادگی بخشی اور اس کی خطیبانہ رومانیت، جذباتیت، ٹائپ کی سطیحت اور غیر تخلیقی نوعیت کی اشتہارات سے خود کو محفوظ رکھا نیز تخلیق کی آزادی پر ہمیشہ اصرار کیا۔ جذب کے پیش نظر ادب کا مقصدی اور افادی پہلو بھی رہا۔ لیکن انہوں نے ادب کی ادبیت اور زندگی کی ہمہ جہت ترجمانی کو بنیادی اہمیت دی۔ ادب میں خارجی اور داخلی دونوں تقاضوں کے وہ قائل تھے انہوں نے اپنی شاعری میں انسان کو ایک محشر خیال کے طور پر دیکھا اور انسان میں پاکیزہ جذبات و احساسات کو پیش کرنے کی تڑپ نے ان کو پر اثر بنا دیا۔ کم گوئی، کم سخنی اور کم آمیزی انکی افتاد طبع اور تخلیقی مزاج کا حصّہ تھی۔

اعزازات

ان کو حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کی جانب سے غالب ایوارڈ ، افتخار میر ایوارڈ، مہاراشٹر اردو اکادمی ایوارڈ، ہریانہ اردو اکادمی ایوارڈ، اقبال سمان، کل ہند بہادرشاہ ظفر ایوارڈ، اعزاز غالب، کنیز حسنین میمویل ایوارڈ نیویارک سے موصول ہوئے۔

Advertisement

تصانیف

  • معین احسن جذبی کی تصانیف میں
  • فروزاں،
  • حالی کا سیاسی شعور،
  • سخن محتصر،
  • گداز شب،
  • کلیات جذبی،
  • نقوش،
  • نئے اور پرانے چراغ،
  • فکر و فن قابل ذکر ہیں۔

آخری ایام

ڈاکٹر جذبی ۱۲ فروری ۲۰۰۵ کو علی گڑھ میں راہی ملک عدم ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر ۹۳ سال کے قریب تھی۔

معین احسن جذبی کی منتخب غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement