تعارف

نظم طباطبائی کی عظیم المرتبت اور بھاری بھرکم شخصیت دنیائے ادب اور اہل حیدر آباد کیلئے محتاج تعارف نہیں ہیں۔ وہ ایک صاحب قلم ہیں جنہوں نے اردو کو نہایت مطین اور عالمانہ گفتگو سے نہ صرف روشناس کرایا بلکہ ایسے اصول و ضوابط وضع کئے کہ ہر قسم کے دقیق اور جدید سائنسی مضامین ادب کی چاشنی کے ساتھ باآسانی تحریر کئے جاسکتے ہیں۔ ۱۸۵۲ میں محلہ جیدر گنج قدیم میں بروز جمعہ نظم طباطبائی پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید علی حیدر تھا۔ کبھی نظم اور کبھی حیدر تخلص کرتے تھے۔

تعلیم و پیشہ

ان کی ابتدائی تعلیم ایک مکتب میں ہوئی جہاں ملا باقر جیسے عالم ان کو پڑھاتے تھے۔ عربی ادب اور فقہ میں استعداد علمی کا آغاز انہیں برزگ استاد کی بدولت ہوا۔ نظم کی زندگی میں ملازمتوں کا آغاز ہوا جب ان کی عمر ۲۸ برس کی تھی۔ آخر عمر تک نظم کسی نہ کسی نوعیت کی ملازمت کرتے رہے۔ انتقال سے ایک دن پہلے تک بھی دار الترجمہ حیدر آبار کی خدمت انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے نصف صدی تک ملازمتیں کیں جن میں تدریسی اور علمی نوعیت کی ملازمتیں شامل ہیں۔۴؍فروری ۱۸۹۱ء کو نظام کالج حیدرآباد دکن میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

ازدواجی زندگی

نظم نے دو شادیاں کیں پہلی شادی کلکتہ میں ہوئی۔ دوسری شادی حیدر آباد سے ہوئی۔

ادبی زندگی

نظم طباطبائی ایک لائق توجہہ شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ ہمیں معلم ، مترجم، تنقید نگار ، سوائح نگار ، مورخ، علم فلکیات کے طالب علم ، عروض و لسانیات کے استاد اور ان کے معاصر تازہ سائینسی اکتشافات سے باخبر شہری کی حیثیتوں میں ملتے ہیں۔ ان کی ادبی دلچسپیاں اردو فارسی اور عربی زبانوں سے متعلق رہی ہیں۔ ان کی معلومات اردو ،فارسی ،عربی اور انگریزی زبانوں سے قابل لحاظ واقفیت کی مرہون منت ہیں۔ وہ تاریخ کے ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب پرانے حالات نئے حالات کے لئے اپنی جگہ خالی کررہے تھے۔

نظم طباطبائی فطرتاً ہر معاملہ میں نفس و کہنہ تک پہنچنے اور مسائل حیات کی اساسات کے لئے متفحص اور متجسس رہے۔ مسائل کے ادراک میں اس جستجو کے باوجود ان کی فکر کا یہ میلان رہا ہے کہ وہ ہر مسئلہ کو مکمل طور پر شرح و بسطہ کے ساتھ سمجھیں اور سمجھائیں۔ اسے ان کی فکر کی کاملیت پسندی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ نظم کے میدان فکر کی یہی وہ تکمیل پسندی تھی جس کے تحت انہوں نے بڑے گہرائی کے ساتھ علوم کے مختلف شعبوں کے وسیلہ سے انفس و آفاق کے مختلف مسائل پر ہاتھ ڈالا، ان کا ہر آغاز پختی اور تہہ دار رہا۔

تصانیف

"شرح دیوان غالب‘‘ ان کی مشہور تصنیف ہے اور ان کا شعری مجموعہ ’’دیوان طباطبائی” ہے۔

آخری ایام

آپ ۲۳ ؍مئی ۱۹۳۳ کو حیدر آباد، دکن میں ۸۱ سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

منتخب کلام

نظم طباطبائی کی مشہور غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Advertisements