اونٹ پر ایک مضمون

اونٹ ایک پالتو جانور ہے۔ اور یہ ایک بڑا اور طاقتور جانور ہے۔ اس کا جسم بڑا ہوتا ہے۔اور اس کا رنگ کالا اور بھورا ہوتا ہے۔ اس کی ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی دم ہوتی ہے اس کے علاوہ اس کی کمر پر ایک کوبڑ ہوتی ہے۔ اونٹ کی دو بڑی آنکھیں ہوتی ہیں جن پر صحرا کی دھول سے بچنے کے لئے بوہو پر بڑے بال ہوتے ہیں اس وجہ سے یہ صحرا کے طوفان میں بھی دیکھ سکتا ہے اور صحیح سمت چل سکتا ہے۔

اسکے دو چھوٹے کان ہوتے ہیں۔ اونٹ کا منہ اس کے جسم سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کے منہ میں 34 بڑے دانت ہوتے ہیں جو جھاڑیوں اور پتوں کو آٹے کی طرح پیستے ہیں۔ اس کی لمبائی تقریباً 9 سے 10 فٹ ہوتی ہے۔ اونٹ کی گردن لمبی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اونچی سے اونچی جھاڑیوں کے سبز پتے کھا سکتا ہے جہاں سے اسے غذائیت سے بھرپور کھانا ملتا ہے۔ اس کی غذا سوکھا چارا، جنگلی سبزہ، تنکے وغیرہ ہیں۔

اونٹ کو صحرا کا جہاز بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ صحرا میں 65 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پانی میں تیرتے ہوئے جہاز کی طرح چل سکتا ہے۔ اونٹ کی کھال بہت موٹی ہوتی ہے جس کی وجہ اس کو صحرا میں پسینہ کم آتا ہے اور پیاس بھی کم محسوس ہوتی ہے۔ اونٹ صحرا میں بغیر پانی کے 1 مہینے تک رہ سکتا ہے کیونکہ کھانا اور پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے اس کے پیٹ میں ایک تھیلی ہوتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اونٹ اس کھانے اور پانی کا استعمال کرتا ہے۔ اونٹ اس تھیلی میں ایک وقت میں 20 سے 30 لیٹر پانی کا ذخیرہ کرسکتا ہے۔

تیز دھوپ کی روشنی میں بھی اس کا جسم سرد رہتا ہے کیونکہ اس کے جسم میں پانی کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی کی وجہ سے جب صحرا میں بہت دن تک کھانا اور پانی دستیاب نہیں ہوتا تو وہ اس کوبڑ میں جمع کیا ہوا کھانا اور پانی کا استعمال کرتا ہے۔

اونٹ ایک ذہین جانور ہے کیونکہ وہ جس راستے سے گزرتا ہے وہ ہمیشہ اس کو یاد رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی بھی صحرا میں اپنا راستہ نہیں بھٹکتا ہے۔ مادہ اونٹ ایک دن میں تقریبا 5 سے 7 لیٹر دودھ دیتی ہے۔ اونٹ کا دودھ اعلی سطح پر استعمال ہونے والی خوراک اور ڈینگو جیسی خطرناک بیماریوں کا علاج کرتا ہے۔ اونٹ کا دودھ بہت غذائیت بخش ہوتا ہے۔ اس میں تانبا ، وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔ اس کا دودھ گائے کے دودھ سے بھی زیادہ غذائیت والا سمجھا جاتا ہے۔

اونٹ کے دودھ میں توانائی کا ذخیرہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسے قابل برداشت اور مہلک حالات میں بھی زندہ رہنے کے قابل ہوتا ہے۔ مادہ اونٹ سال میں ایک بار صرف ایک یا دو بچوں کو جنم دیتی ہے۔ اونٹ کے بچے کی پیدائش کے بعد یہ ایک یا دو دن میں اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں اونٹ کو بوجھ اٹھانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اونٹ بھی پرانے زمانے میں نقل و حمل کا ایک ذریعہ رہا ہے اور آج بھی ہمارے ملک کی سرحد کی حفاظت کے لئے اونٹوں کو فوجیں استعمال کرتی ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان میں قدیم زمانے سے ہی اونٹ زراعت میں بھی استعمال ہوتا ہے اور آج بھی چھوٹے کاشتکار اونٹوں کی مدد سے اپنے کھیت بوتے ہیں۔ لوگوں نے اس جانور کو اپنا ذریعۂ معاش بھی بنا رکھا ہے۔ اونٹ کی زندگی 40 سے 50 سال تک کی ہوتی ہے۔ وہ اپنی ساری زندگی انسانوں کے لئے کام کرنے میں صرف کر دیتا ہے اور اس کی موت کے بعد بھی اس کے جسم سے چمڑا، مضبوط ہڈیاں، مضبوط دانت وغیرہ جیسے قیمتی سامان مل جاتے ہیں۔

اونٹ کے گوبر سے کھاد بھی بنتی ہے اور اونٹ کے گوبر کو سکھا کر بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ اونٹ رکھنے والے لوگ ان پر مختلف قسم کے کھیل بھی دکھاتے ہیں ، جو اونٹ کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دیکھنے میں بھی بہت خوبصورت لگتے ہیں۔ اونٹ کو مختلف مقامات پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاحوں کو اس پر سواری دی جاتی ہے، لہذا اونٹ بھی تجارت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اور اسکی قربانی بھی کی جاتی ہے اس طرح قدرت کی اس کارآمد تخلیق کے انسانی زندگی میں بہت سے فائدے ہیں۔

Advertisements