چاند پر ایک مضمون

چاند پر سب سے پہلے مرحلے میں قدم رکھنے والے سائنسدان کا نام نیلم ارمسٹرانگ تھا۔ 1969 سے اب تک 12 سائنسی چاند پر جا چکے ہیں۔ ان سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ چاند پر کوئی ماحول نہیں ہے ، کسی کو کوئی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔ ہیرانی کی بات یہ ہے کہ سورج کی پریبائنگنی ترنگوں کی وجہ سے اس پر کچھ حد تک زندہ رہا جا سکتا ہے۔ گرمی کے دنوں میں 107 ڈگری سیلسیس پارا ہوتا ہے رات کی حرارت 153- ڈگری سیلسیس ہو جاتا ہے مطلب انتہائی شدید سردی۔ چاند پر عمر بھر زندگی نہیں گزای جا سکتی۔

چاند کا صرف 50 سے 60 فیصد حصہ ہماری زمین سے نظر آتا ہے۔ چاند ہر سال ہماری زمین سے 3.8 سینٹی میٹر دور ہوتا جا رہا ہے۔ چاند پر چھوٹے چھوٹے زلزلے بھی آتے رہتے ہیں۔ اس کی کشش ثقل ہماری زمین کی کشش ثقل سے 6 گنا کم ہے۔ چاند کا علاقہ افریقہ مہندیپ کے علاقے سے ملتا جلتا ہے۔ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی یہ صرف سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے۔ چاند گول کے بجائے انڈاکار ہوتا ہے۔ چاند کی سطح پر بہت بڑے بڑے گڑھے ، پہاڑ اور خندق ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق چاند الکا جسموں سے ٹکرا کر گڑھے بنتے ہیں۔

ہمارے نظام شمسی میں بہت سے چاند ہیں اور ہمارا چاند سب سے بڑا ہے۔ ہماری زمین سے چاند کا فاصلہ 384403 کلومیٹر ہے۔ سمندری لہریں چاند کی کشش ثقل کی وجہ سے اٹھتی ہیں۔ زمین کا وزن چاند سے 80 گنا زیادہ ہے یہ زمین کا ایک چکر 27 دن 7 گھنٹے 11.6 سیکنڈ میں مکمل کرتا ہے۔ چاند بھی سورج کی طرح مشرق میں طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

چاند گرہن اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ زمین سورج اور چاند کے درمیان ہے۔ چاند تقریباً ساڑھے چار ارب سال پرانا ہے۔ اس وجہ سے یہاں زندگی ممکن نہیں ہے کیوں کہ چاند پر پانی نہیں ہے اور چاند پر پانی کی تلاش جاری ہے۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ اس سے قبل چاند ہماری زمین کا ایک حصہ ہوتا تھا لیکن ایک بڑی چٹان مصنوعی سیارہ اور الکا زمین سے ٹکرا کر زمین کا کچھ حصہ گر کر چاند کی تشکیل ہوئی۔

ناسا چاند پر مستقل خلائی اسٹیشن بنانا چاہتا ہے لہذا 2019 میں سائنس دانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجا گیا ہے۔ راکٹ سے چاند تک سفر کرنے میں 13 گھنٹے لگتے ہیں۔ چاند پر نیل آرمسٹرونگ کے پیروں کے نشانات آج بھی موجود ہیں اور سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 100 ملین سال تک یہ نشانات ایک جیسے ہی رہنے والے ہیں کیونکہ چاند پر ایسی ہوا نہیں ہے جو پیروں کے نشانات کو مٹا سکے۔ چاند سورج کی روشنی سے چمکتا ہے اگر سورج نہ ہوتا تو ہم کبھی چاند نہیں دیکھ سکتے تھے پچھلے 41 سالوں سے کوئی بھی شخص چاند پر نہیں جا سکا۔

چاند پر قریب 6 جھنڈے لگائے جا چکے ہیں جن میں سے 5 ابھی تک لگے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے ایک بار چاند پر ایٹم بم گرانے کا سوچا تھا تاکہ وہ دنیا کو اپنی طاقت دکھا سکے لیکن وہ ممکن نہیں ہو سکا۔ اگر کوئی چاند نہ ہوتا تو زمین پر دن صرف 6 گھنٹے کا ہوتا۔چاند کی مٹی سے بارود کی طرح بو آتی ہے۔ چاند پر جانے والے سائنسدانوں کو آئس لینڈ میں تربیت دی جاتی ہے۔

Advertisements