بلی پر ایک مضمون

بلی خدا کی ایک بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے اور ایک پالتو جانور کی طرح گھر میں رکھی جاتی ہے۔ بلیوں کو انسانوں کے ساتھ گھل مل کر زندگی گزارنا پسند ہوتا ہے۔ بلی عام طور پر ہر ایک ملک میں پائی جاتی ہے اور اس کو گھر میں پالتو جانور کی طرح پالا جاتا ہے۔ بلی آرام کرنا پسند کرتی ہے۔ بلی کو نیند بہت زیادہ آتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سست ہے۔ اس کا جسم بہت لچکدار اور توانائی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں بلیوں کو بڑی مقدار میں پالا جاتا ہے۔

بلی کی اناٹومی

بلی کا جسم چھوٹے چھوٹے ریشمی بالوں سے ڈھکا ہوتا ہے اور یہ ایک چھوٹے شیر کے بچے کی طرح دیکھائی دیتی ہے۔ بلی کے جسم کے پٹھوں میں بہت لچک ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ لمبی چھلانگ لگا سکتی ہے اور اونچائی سے گرنے پر بھی اسے تکلیف نہیں ہوتی۔

بلی کی چار ٹانگیں ہوتی ہیں اور اس کے پنجے اور ناخن بہت زیادہ تیز ہوتے ہیں جن کی مدد سے اس کو شکار کرنے میں کافی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور اس کے پنجوں کی گرفت بہت مضبوط ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ چوہوں کا شکار آسانی سے کرسکتی ہے۔ اس کے پاؤں کے نیچے والا حصہ بہت ہی ملائم ہوتا ہے اسی وجہ سے جب بھی یہ شکار کے لئے جاتی ہے تو اس کے پاؤں کی آواز نہیں آتی ہے۔

بلیوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں جیسے سفید ، بھوری ، سیاہ رنگ۔ اس کی دو روشن آنکھیں ہوتی ہیں جن کی مدد سے وہ اندھیرے میں بھی واضح طور پر دیکھ سکتی ہے۔ اس کی آنکھیں سبز ، نیلی ، بھوری ، پیلی اور سیاہ ہوتی ہیں۔ اس کی ناک اور دو کان ہوتے ہیں۔ جن کی مدد سے اس کی سننے اور سونگھنے کی طاقت بہت مضبوط ہوتی ہے۔اور بلی کی ایک لمبی دم ہوتی ہے جو اچھلتے وقت اسے توازن برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے۔

ایک بلی کے چھوٹے بچے کے منہ میں 26 دانت ہوتے ہیں جبکہ ایک بالغ بلی کے منہ میں 30 دانت ہوتے ہیں۔ ایک بالغ بلی کا وزن 5 سے 8 کلو تک ہوتا ہے۔ یہ ایک وقت میں 1 سے 10 بچوں کو جنم دے سکتی ہے۔

بلی کی طرز زندگی

بلی کی طرز زندگی دوسرے جانوروں کی طرح نارمل ہے اور بلیوں کو پالتو جانوروں کی شکل میں پالا جاتا ہے۔ پالتو بلیاں ہی سمجھدار اور اچھی ہوتی ہے اور وہ انسانوں کے اشاروں کو کافی آسانی سے سمجھ سکتی ہے۔ لیکن جنگلی بلی قدرے ناراض نوعیت کی ہوتی ہے۔ وہ انسانوں سے گھل مل جانا پسند نہیں کرتی ہے۔ بلی کے شکار کرنے کا طریقہ شیر کی طرح ہوتا ہے اور یہ میاؤں میاؤں کی آواز کو ختم کرکے اپنے رد عمل کا اظہار کرتی ہے۔

جب بھی بلی خوش ہوتی ہے وہ اپنی دم کو ہلا کر جواب دیتی ہے۔ بلیوں کو سونا بہت ہی زیادہ پسند ہے لہذا وہ 1 دن میں 8 سے 10 گھنٹے تک سو سکتی ہے۔

بلی کو گوشت ، مچھلی ، چوہے ، پرندے ، کبوتر ، دودھ اور روٹی کھانا بہت پسند ہوتا ہے۔ وہ ادھر ادھر پھلانگتی ہے اور اپنے کھانے کی تلاش میں گھومتی رہتی ہے۔

بلی کی قسمیں

بلی کی تقریباً 36 اقسام پوری دنیا میں پائی جاتی ہیں ، شیر ، جیگوار اور چیتا بلی کی ہی اقسام ہیں۔ بلی کی کچھ اقساموں کے نام حسب ذیل ہیں۔ پروفیلیس اورٹا ، فیلس نگریپس ، کاراکال ، کٹوپوما تیمینکی ، اوریلورس جیکبائٹا وغیرہ۔

بلیوں کے بارے میں دلچسپ حقائق

  • (1) بلیوں کی دنیا بھر میں 50 ملین سے زیادہ آبادی ہے۔
  • (2) تقریباً 24 بلیوں کی کھالوں سے ایک کوٹ بنایا جاسکتا ہے۔
  • (3) بلیوں کے گروپ کو "کلڈر” کہا جاتا ہے۔
  • (4) تحقیق کے مطابق امریکہ میں ہر سال تقریباً 40000 افراد کو بلیاں کاٹ لیتی ہیں۔
  • (5) بلی کتے سے بہتر سن سکتی ہے۔
  • (6) ایک بلی 30 سے ​​40 کلو میٹر فی گھنٹہ کے لئے کچھ وقت چل سکتی ہے۔
  • (7) اب تک ایک بلی نے ایک وقت میں 19 بچوں کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے صرف 15 بچے ہی بڑے ہوسکے تھے۔
  • (8) قدیم زمانے میں مصر کے لوگ بلیوں کی پوجا کرتے تھے۔
  • (9) 20 میٹر سے زیادہ اونچائی سے کودنے پر بھی بلیوں کو تکلیف نہیں ہوتی ہے۔
  • (10) ایک بلی اپنی بلندی سے 5 گنا لمبی لمبی چھلانگ لگا سکتی ہے۔
  • (11) بلی کی موچھوں پر عام طور پر 12 بال ہوتے ہیں۔
  • (12) بلی سے محبت کرنے والے کو آئیلوفیلیا کہا جاتا ہے۔
  • (13) عام طور پر بلی کے 130000 بال ہوتے ہیں۔

بلیاں طبعیت کے لحاظ سے بہت اچھی ہوتی ہیں ، ہمیں انہیں محبت سے رکھنا چاہئے بلکہ ہمیں ہر جانور سے پیار کرنا چاہئے کیونکہ یہ صرف آپ سے محبت کرنا چاہتا ہے اور کچھ نہیں بدلے میں یہ انسانیت کا احساس دلاتا ہے اور ہماری حفاظت بھی کرتا ہے۔

Advertisements