Advertisement

گرمی کی چھٹیوں پر مضمون

گرمی کی چھٹیوں کے دن سب سے مزے دار دن ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں گرمی زیادہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو اسکول سے چھٹیاں دے دی جاتی ہیں۔ جس سے بچے بہت ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت پڑھائی لکھائی کا کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔ صرف کھیلنا گھومنا اور ہنسی مذاق کرنا یہی سب ہوتا ہے اور بچے ان دنوں میں بہت زیادہ مزے کرتے ہیں۔

Advertisement

گرمی کی چھٹیاں کہنے کو تو صرف بچوں کی ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ان چھٹیوں کا لطف اٹھا لیتے ہیں۔ گرمی کی چھٹیاں ہونے پر گھر کے بڑوں کو بھی جیسے چھٹی مل جاتی ہے۔ بچوں کو صبح اٹھ کر اسکول کے لیے تیار کرنا، انہیں ٹفن بنا کر دینا اور انہیں اسکول چھوڑنے جانا، ان سب چیزوں سے گھر کے بڑوں کو بھی چھٹی مل جاتی ہے اور کچھ دن کے لیے وہ آرام کی زندگی جی لیتے ہیں۔

Advertisement

گرمی کی چھٹیاں زیادہ تر بچے نانی نانا کے یہاں یا پھر خالہ خالو کے یہاں گزارتے ہیں۔ اور خاص طور پر جب نانی نانا یاخالہ خالو کا گھر گاؤں میں ہو توگرمی کی چھٹیوں کا لطف دوگنا ہو جاتا ہے۔ گاؤں کا رہن سہن بہت ہی سادگی پسند ہوتا ہے یہاں کا موسم ٹھنڈا اور سکون والا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کچھ زیادہ ہی اچھا لگتا ہے۔

Advertisement

ہر بار کی طرح اس بار بھی گرمی کی چھٹیوں میں ہم مرزاپور کے گاؤں دلا پٹی میں گئے تھے۔ جہاں میری خالہ خالو اور مامو بھی رہتے ہیں۔ ان کا گھر دریا کے بالکل سامنے کی طرف ہے۔ اور ان کے گھر کے باہر سبزیوں اور پھلوں کا باغیچہ ہے۔ ان باغیچوں میں جاکر ہری بھری سبزیاں توڑ کر لانا اور تازہ تازہ امرود توڑ کر کھانا بہت ہی زیادہ مزے دار لگتا ہے۔

شام کے وقت ان کے گھر کا نظارہ ہی کچھ الگ سا لگتا ہے۔ چڑیوں کی دھیمی دھیمی آواز اور دریا کا خوبصورت منظر دیکھ کر دل بالکل تروتازہ ہو جاتا ہے۔ ہم سب دن بھر کھیتوں میں کچھ نہ کچھ کھیل کھیلتے ہیں۔ اور جب شام کا وقت ہوتا ہے تو خالو جان ہم سب کو اپنی بائک پر بٹھا کر شہر گھمانے لے جاتے ہیں۔ وہاں جاکر ہم ڈھیر سارے گول گپے اور چاٹ وغیرہ کھا کر خوب مزہ کرتے ہیں۔

Advertisement

اس کے علاوہ مرزا پور میں کنتت شریف میں گرمی کے دنوں میں عرس ہوتا ہے۔ اور عرس کے دوران وہاں بہت بڑا میلہ لگتا ہے۔ گرمی کی چھٹیوں میں ہم سب دوسری جگہ گھومنے کے ساتھ ساتھ اس میلے کا بھی لطف اٹھا لیتے ہیں۔ اس میلے میں بڑے بڑے جھولے لگے ہوتے ہیں۔ جن پر ہم سب بیٹھ کر مزے کرتے ہیں۔کنتت کے عرس میں بہت بڑی بڑی کھانے پینے کی دکانیں بھی لگی رہتی ہیں۔ اور اس کے علاوہ چوڑیوں کی دکان، ہار بندے اور بچوں کے کھلونے ہر چیز ملتی ہے۔ میلہ گھومنے کے ساتھ ساتھ اچھی خریداری بھی ہو جاتی ہے۔ اس طرح سے ہم سب گرمیوں کی چھٹی کا اچھے سے لطف اٹھا لیتے ہیں۔

گرمی کی چھٹیوں میں ہم سب کچھ دن مرزا پور میں گزارتے ہیں۔ اور پھر کچھ دن اپنی دوسری خالہ جو بنارس میں رہتی ہیں وہاں چلے جاتے ہیں۔ اور پھر وہاں بھی ہم سب بہت مزے کرتے ہیں۔

Advertisement

ہم سب ہر سال گرمی کی چھٹیاں بہت ہی مزے کر کے گزارتے ہیں۔ اس لئے ہم سبھی ان دنوں کا بے صبری سے ہر سال انتظار کرتے ہیں۔ اور جیسے ہی گرمی کی چھٹیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ہم سب ایک ساتھ گھومنے نکل جاتے ہیں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement