تعلیم کی اہمیت پر مضمون

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے سے ایک فرد اور ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس و شعور کو بیدار کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔

تعلیم ایک فرض

تعلیم کی فرضیت کا اندازہ ہمارے نبی آخری الزمان صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اس حدیث سے بخوبی ہو جاتا ہے۔
                      "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے.”

تعلیم کی اہمیت

تعلیم انسانی معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے اور تعلیم سے ہی معاشرے کو بہتر طور پر تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ تعلیم ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کو اشرف المخلوقات کا خطاب حاصل ہوا کہ اس نے اپنی علمی برتری کو ملائکہ کے سامنے ثابت کیا۔

تعلیم کی اہمیت قرآن کی روشنی میں

تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہم رب کائنات کے اس ارشاد سے باآسانی لگا سکتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
              "(اے نبی) کہہ دیجیے کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں۔ نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں.”

تعلیم کی اہمیت حدیث کی روشنی میں

حضور پاک صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تعلیم کی اہمیت کچھ اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ :
                                                "علم والوں کو دوسرے کے مقابلے میں ایسی ہی فضیلت حاصل ہے، جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر۔ یقیناً اللّه عزوجل، اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں تک لوگوں کے معلم کے لئے بھلائی کی دعا کرتی ہیں۔”
(ریاض الصالحین)

اسی طرح اور بھی چند ایک احادیث ہیں جو تعلیم کی اہمیت کو واضح بیان کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ ہی مسلمانوں کو تعلیم کے حصول کی ترغیب دیتی ہیں۔

تعلیم اور معاشرہ

دنیا کی کامیاب اقوام کی پشت پر تعلیم کا عمل ہی پوشیدہ رہا ہے۔ جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہیں چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا اپنے معاشرے کے اندر اور اپنے گھر میں ایک الگ ہی مقام ہوتا ہے۔ تعلیم معاشرے میں سدھار پیدا کرتی ہے اور انسانیت کو شعور سے نوازتی ہے۔ معاشرے میں پلتی برائی جیسے جھوٹ، گالم گلوچ، چوری، ڈکیتی کو ختم کرنے میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم نہ صرف انسانیت کا پیٹ پالنے میں اہم کردار ادا کرتی بلکہ یہ انسانیت اور معاشرے کو تشکیل دینے میں بھی پیش پیش رہتی ہے۔

ہماری بقا تعلیم

تعلیم اسکول، کالج، یونیورسٹی سے ملنے والی ڈگری کا نام نہیں بلکہ یہ تمیز اور تہذیب کا دوسرا نام ہے۔ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم تہذیب و تمیز یعنی تعلیم کو عام کریں کیوں کہ آج کل تعلیم کے نام پر بنائی جانے والی ریاست اور نجی ادارے تعلیم کو فروغ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے ستون بس نوکری حاصل کرنے کی شرط پر تعمیر کر دئیے گئے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم دنیا کی جاہل اقوام میں سر فہرست ہو جائیں ،ہمیں تعلیم کی بقا یعنی خود کی بقا کے لئے خود سے محنت کرنی ہوگی۔