جمہوریت پر ایک مضمون

ایک ایسا نظام جس میں عوام براہِ راست اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کے معاملات میں شرکت کر سکتی ہے، اس نظامِ حکومت کو ہم جمہوریت کہتے ہیں۔

جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتی ہے یعنی عوام کے پاس وہ طاقت ہے جس سے وہ جب چاہے اپنی منتخب حکومت کو گرا بھی سکتی ہے اور اسے بنا بھی سکتی ہے۔ یعنی پوری کی پوری طاقت عوام کی ہی ہے۔

آج کل ہر انسان کی زبان پر یہ لفظ گردش کرتا نظر آتا ہے کہ اگر ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے، اگر ملک کو ترقی کے زینے پر استوار کرنا ہے تو پھر جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا۔ ملک میں جمہوریت کے نظام کو قائم کرنا ہوگا۔ جمہوریت دراصل ایک آزاد سوچ کی بنیاد ہے جہاں ہر شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ رازداری کے ساتھ جس کو چاہے ووٹ دے سکتا ہے۔

جمہوریت کے نظام کی ابتدا اسلام کے دور حکومت سے ہوئی تھی۔ آج بھی برطانیہ کے پارلیمنٹ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے ٹیکسس اور عدل و انصاف کی تعالین کی پیروی کی جاتی ہے۔

جمہوریت اس ملک میں عائد ہو سکتی ہے جہاں حق اور سچ کی بات کی جا سکے۔ جس ملک میں جمہوریت ہو اس میں وقفے سے انتخابات ہوتے ہیں۔ یہ جمہوریت کی پہلی نشانی ہوتی ہے۔ اور جمہوریت کی دوسری نشانی یہ ہے کہ اس میں حکومت صرف پانچ سال کی ہی ہوتی ہے۔ اور پانچ سال گزرنے کے بعد حکومت کا بدلنا لازمی ہوتا ہے۔ حکومت کا بدلنا یعنی پھر سے نئی حکومت کا آنا ہوتا ہے۔ جمہوریت کی تیسری نشانی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں، یعنی جس ملک میں جمہوریت ہوتی ہے اس ملک میں سیاسی جماعتیں کثیر تعداد میں ہوتی ہیں۔

کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار جمہوریت پر ہوتا ہے کیوں کہ جب ایک حکمران بذات خود غریب کا بیٹا ہو تو اسے احساس ہوگا کہ ہمارے ملک میں سڑکوں کے بجائے صحت، روزگار اور تعلیم کی زیادہ ضرورت ہے۔ اور اگر بادشاہ کے بیٹے کو حکمرانی کا تاج سجا دیا جائے تو وہ غریب کی غریبی مٹانے کی بجائے اپنی عیاشی کے ساز و سامان پر توجہ دے گا۔

ہمارے ملک ہندوستان کے نظام میں 70 سالوں سے یہی روش نظر آ رہی ہے۔ ہمارے ملک میں غریب پارٹی بنانا تو دور کی بات ہے وہ ایک ممبر کی سیٹ بھی حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ ہماری جمہوریت دولت کی محتاج ہے۔ ہماری سوچ ایسی ہے کہ ہم پیسوں والے حکمران کی تو قدر کرتے ہیں لیکن تعمیری سوچ اور تعمیری کام کرنے والے لوگوں کو ہم موقع ہی نہیں دیتے۔

ہمارے ملک کی سیاست دراصل گنڈا گردی اور قتل و غارت پر مبنی ہے کیونکہ جب ہمیں کسی غیر قانونی کام کی ضرورت پیش آتی ہے تو یہی حکمران ہمارے کام کو انجام دینے میں مدد کرتے ہیں۔ اس لئے ہم بھی ان کی چاپلوسی کرتے ہیں۔

ہم مسلمان ہو کر بھی غلط چیز اور غلط لوگوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں اور جھوٹ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں بدلنا ہوگا۔ اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ تب جاکر اس ملک کا حکمران بدلے گا اور صحیح حکمران آئے گا اور تب جا کر ہمارا ملک ترقی کر پائے گا۔

Advertisements