Advertisement



Advertisement

جھوٹ پر ایک مضمون

جھوٹ ایک ایسا گناہ ہے جو بہت ہی زیادہ عام ہوتا جارہا ہے جسے آج انسان گناہ ہی نہیں سمجھتا۔ جھوٹ ایک ایسا بدترین گناہ ہے جس کے لیے خدا قرآن پاک میں خود لعنت دے رہا ہے۔ انسان کے اندر کی سب سے بری عادت جھوٹ ہے۔ یہ عادت انسان کو برا بنا دیتی ہے اور جھوٹ بولنے والے انسان کا کوئی بھی اعتبار نہیں کرتا اور نہ ہی اس انسان کی بات کا کوئی یقین کرتا ہے۔

Advertisement

اللہ کے نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولنا منافق کی نشانی بتائی ہے۔ یہ جھوٹ ایک اکیلی برائی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے ہمارے اندر اور بھی دوسری برائیوں کا آغاز ہونے لگتا ہے۔ اس لئے اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ جھوٹ بولنے والا گنہگار ہے۔ اللہ تبارک وتعالی سورہ بقرہ آیت نمبر 10 میں فرماتا ہے کہ جو شخص جھوٹ کا عادی ہے ان کے دلوں میں بیماری ہے۔

Advertisement

اللہ تبارک و تعالی نے جھوٹ بولنے والوں کے لئے دردناک عذاب نازل کیے ہیں اور آج انسان اس قدر جھوٹ بولتا ہے کہ ہر 2 منٹ پر اس کے جھوٹ کی سیڑھی بنتی جاتی ہے۔ انسان کے جھوٹ سے گناہوں کی کتاب بھرتی جاتی ہے اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ اس لئے جھوٹ سے پرہیز کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے کیونکہ جھوٹ مومن کی پہچان نہیں بلکہ منافق کی نشانی ہے۔

ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا ایک مسلمان غیبت کرتا ہے؟ حضور صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے۔ پھر پوچھا کہ کیا مسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ حضور نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے۔ پھر اس شخص نے پوچھا کہ کیا مسلمان جھوٹا بھی ہو سکتا ہے؟ حضور نے فرمایا کہ ہرگز نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک مومن یعنی مسلمان غیبت کرسکتاہے، بخیل ہو سکتا ہے، اس کے اندر ہر برائی ہو سکتی ہے لیکن ایک مومن کے اندر جھوٹ جیسی برائی نہیں ہوسکتی کیوں کہ یہ لعنت خدا ہے۔

Advertisement
حدیث کے مطابق کیا واقعی ہم مسلمان ہیں؟ 

ہم روز وجہ بے وجہ نہ جانے کتنے جھوٹ بولتے ہیں۔ آج کے اس دور میں اپنے فائدے کے لئے اور مذاق میں ہر دم انسان جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہا ہے۔ جب کہ ہر انسان یہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اسلام میں گناہوں کا سردار جھوٹ ہے۔ جھوٹ ایسا گناہ ہے جس کو چھپانے کے لئے انسان دس جھوٹ اور بولنے کو تیار رہتا ہے۔ لیکن ہم سب انسانوں کو سمجھنا ہوگا کہ جھوٹ بولنا اللہ تبارک و تعالی کو سخت ناپسند ہے اور جو چیز اللہ کو ناپسند ہے تو اس کا انجام بھی برا ہی ہوگا۔ اس لیے انسان کو اپنے اندر عہد کر لینا چاہیے کہ جھوٹ بولنے کی عادت اپنے اندر سے نکال دیں گے۔ کسی بھی صورت میں جھوٹ کا سہارا نہیں لیں گے۔ جھوٹ کو ہر طرح سے چھوڑ دیں گے۔ یہاں تک کہ ہنسی مذاق اور جھگڑے میں بھی جھوٹ کا استعمال نہیں کریں گے۔

قرآن پاک میں آیا ہے کہ مذاق میں بھی جھوٹ بولنا حرام ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مذاق میں جھوٹ بولنا جائز ہے جبکہ جھوٹ صرف جھوٹ ہے چاہے وہ غصے میں بولا جائے یا پھر مذاق میں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو جھوٹ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement