مطالعہ کی اہمیت پر ایک مضمون

مطالعہ کا لغوی معنی کتابیں یا تحریر پڑھنا ہے۔ انسان زمانے کا کوئی کام بغیر علم کے نہیں کر سکتا اور علم سیکھنے کے لیے مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔ انسان جتنی زیادہ کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اتنا ہی زیادہ علم حاصل کرتا جاتاہے۔ صحیح معنیٰ میں علم حاصل کرنے کے لئے مطالعہ کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ بغیر مطالعہ کے انسان علم حاصل نہیں کرسکتا۔

مطالعہ ایک ایسا فن ہے جس کو اگر صحیح طرح سے استعمال کیا جائے تو اس کا نتیجہ اچھا نکلتا ہے اور اگر غلط استعمال کیا جائے تو اس کا نتیجہ غلط نکلتا ہے۔ مطالعہ اصول علم دین کا ذریعہ ہے۔ اس لئے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کتب بینی سے یعنی کتابوں کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے سے بھی انسان عالم بن سکتا ہے کیونکہ درس نظامی میں کتابیں پڑھا کر ہی انسانوں کو عالم بنایا جاتا ہے۔ لیکن صرف کتابوں کا پڑھنا ہی عالم نہیں بناتا بلکہ اس کے شرائط پر پورا اترنا عالم بناتا ہے۔

انسان کو روز کچھ وقت کے لئے ہی سہی لیکن کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے اور مطالعہ کرنے کے لئے ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں بےحد تنہائی اور سکون ہو۔ جو ذہین علماء ہیں وہ کثرت کے ساتھ کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جو مطالعہ کا شوق رکھتے ہیں اور واقعی ذہین علماء بننا چاہتے ہیں وہ اپنے ساتھ ہر جگہ کتاب لیکر چلتے ہیں۔ ٹرین ہو یا بس انہیں جہاں بھی وقت ملتا ہے کتاب نکال کر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔

بعض لوگ عالم تو بننا چاہتے ہیں لیکن مطالعہ سے دور بھاگتے ہیں۔ اور آج کے دور میں انسان کتاب کا مطالعہ تو بالکل نہیں کرنا چاہتا۔ ہر چیز موبائل کے ذریعے جاننا چاہتا ہے۔ موبائل ہی اس کے لیے سب سے اہم بن گیا ہے۔ لیکن جو علم کتاب کا مطالعہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے وہ موبائل سے نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر انسان کو مطالعہ کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔

مطالعہ کرنے سے انسان علم تو حاصل کرتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ مطالعہ کی عادت صحت کے لئے بھی فائدے مند ہوتی ہے۔ مطالعہ کرنے والے شخص کا قلب اور ذہن دونوں روشن ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق کتاب پڑھنے کی عادت صحت پر اچھا اثر ڈالتی ہے اور اس سے پہلے یہ بات سننے میں آئی ہے کہ کتابوں کے مطالعے سے زندگی لمبی ہوتی ہے اور طویل عمر کی وجہ بنتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کتب بینی کے اور بھی کئی فائدے ہیں۔

2009ء میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسیکس میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مطالعہ کی عادت سے ذہنی تناؤ اور پریشانی کو 68 فیصدی کم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ مطالعہ انسان کی پریشانیوں اور ذہنی تھکاوٹ کو دور کرتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی دماغی صلاحیتیں کم ہوتی جاتی ہیں اور انسان ہر چیز بھولنے لگتا ہے۔ نئے علوم کو سیکھنے میں مشکلیں بھی ہوتی ہیں لیکن لگاتار کتاب کے مطالعہ سے دماغ تیز ہوتا ہے اور بھولنے کی عادت نہیں ہونے پاتی۔ مطالعے کی وجہ سے الزائمر جیسے مرض بھی نہیں ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر انسان کو رات میں نیند نہیں آتی تو وہ سونے سے پہلے مطالعہ کر لے تو اسے اچھی نیند آجائے گی۔ انسان کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہیے جس سے اس کا قلب اور ذہن دونوں تروتازہ رہے۔

Advertisements