Advertisement

قدرت کے معنی و مفہوم

"قدرت” یہ لفظ سوچتے ہی ہر انسان کی سوچ کے مطابق اس کے ذہن میں بہت سی باتیں آجائیں گی۔ کیونکہ ہر شخص اپنی فطرت و عادت کے مطابق ہی چیزوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ سو ایک سائنس دان لفظ قدرت کو سن کر قدرت کے ان رازوں کے بارے میں سوچنے لگے گا جس کو بےنقاب کرنے کے لیے سائنس اپنی انتھک محنت کررہی ہے۔ اس کے برعکس ایک مالی کے ذہن میں یہی لفظ سن کر بہت خوبصورت باغ کا منظر آئے گا۔ چناچہ ہر شخص کے لیے لفظ قدرت ایک مختلف معنی و مفہوم رکھتا ہے۔

Advertisement

قدرت کی اہمیت

سوچیں اگر قدرت نہ ہو پھر بچتا ہی کیا ہے۔ اس دنیاِ فانی میں موجود ہر چیز ہر شے ہی قدرت کے مناظر کی عکاسی کررہی ہے۔ پھول بھی قدرتی شے ہے جو اپنے بنانے والے کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سمندر ، آسمان ،زمین سورج ، چاند ہر شے عقل کو دنگ کردیتی ہے۔ ہر شے بتاتی ہے کہ مجھے تخلیق کرنے والی ذات غطیم الشان ہے۔ وہ اس لائق ہے کہ اسے سب سے معتبر جانا جائے۔ قدرت کے ان ہی مناظر کی وجہ سے بہت سے لوگ دینِ اسلام کو قبول کر کے اللہ کی رحمت کے سائے میں آجاتے ہیں۔

Advertisement

قدرتی مناظر

انسان کو روزمرہ زندگی میں بہت سے قدرتی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چاہے فجر کے وقت سورج کے شفق پر ابھرنے کے بعد آسمان پر چھائی ہلکی ہلکی لالی ہو یا اونچے اونچے پہاڑ جو برف اور بادلوں میں ڈھکے ہوں۔ ایسے تمام مناظر دیکھتے ہی بےاختیار اس خالق کی تعریف کرنے کو دل چاہتا ہے اور انسان سوچتا ہے کہ وہ رب کتنی قدرت رکھتا ہوگا جس نے صرف کُن کہا اور یہ حسین مناظر بن گئے۔

Advertisement

قدرت اور انسان

سوچنے کی بات ہے کہ اگر دنیا میں قدرت رکھنے والی ذات یہ تمام چیزیں نہ بناتی اور انسان کو یوں ہی زمین پر بھیج دیتی تو کیا ہوتا۔ انسان جو اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے وہ ان تمام چیزوں کی غیر موجودگی میں کیا کرتا۔ اگر درخت اور جنگلات نہ ہوتے تو وہ گھر کیسے بناتا۔ پھل کہاں سے پاتا۔ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو برف کہاں جمتی اور پھر گرمیوں میں پانی کی قلت کو کیسے پورا کیا جاتا۔ اگر سمندر نہ ہوتے تو انسان کو بجلی کہاں سے میسر آتی۔ یعنی انسان کے زندہ رہنے کے لیے ان تمام قدرتی چیزوں کا ہونا انتہائی اہم ہے۔ انسان کی زندگی انہی چیزوں پر منحصر کرتی ہے۔

حرفِ آخر

ہمیں چاہیے کہ قدرت کی بنائی گئی ان تمام چیزوں کی حفاظت کریں اور ربِ کائنات کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں اپنی بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے۔ ہمں چاہیے کہ ان چیزوں کو اپنے مفاد کے لیے نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ دراصل آخر میں یہ ہمارا ہی نقصان ہوگا جس کی تلافی ناممکن ہوگی۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ جنگلات کی تعداد میں تیزی سے کمی ہوتی جارہی ہے جو آخر میں ہمارے لیے ہی نقصان کا باعث ہے۔ جنگلات ، درخت کی عدم موجودگی میں انسان کا زندہ رہنا بھی دشوار اور شاید ناممکن ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement