اردو زبان کی اہمیت پر مضمون

اردو زبان وہ پیاری زبان ہے جس سے محبت کی خوشبو آتی ہے۔ اردو زبان ہندوستان کا فخر ہے۔ اس ملک کو نعرۂ انقلاب دینے والی اردو زبان ہی ہے۔ اردو زبان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اردو زبان ہی ہے جو قوموں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنی ہے۔ یہ وہ اردو زبان ہے جس کی شیرینی اور پیرائے اظہار کی نزاکت ہی اس کی مقبولیت کا سب سے اہم راز ہے۔ اردو کا لہجہ جہاں پیار و محبت سے ڈھلا ہے وہیں یہ حسن و عشق کے سوز و گداز سے بھی مزین ہے۔

تقسیم ہند کے بعد اردو کو وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا جس کی وہ مستحق تھی۔ اردو صرف زبان ہی کا نام نہیں بلکہ وہ ایک چلتی پھرتی تہذیب کا نام ہے۔ اردو زبان کی بدقسمتی ہے جو اسے ہندوستان میں قومی زبان کا درجہ نہیں دیا گیا لیکن اس کے باوجود گفتگو گفت و شنید اور بول چال میں اسے قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔

ہم سب کو اپنے ذہن سے یہ بات نکال دینی چاہیے کہ ہم یا پھر ہمارے بچے اردو زبان نہیں جانتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم سب اردو جانتے ہیں۔ اردو زبان صرف مادری زبان ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی ایک کثیر آبادی آج بھی اردو بولتی اور جانتی ہے۔ لیکن یہ بھی ہماری بدبختی ہی ہے جو ہم نے اردو زبان کو صرف فطری طور پر بولنے کی حد تک ہی محدود رکھا ہے۔

ملک کے سبھی علاقوں کی بول چال کی زبان بلا لحاظ مذہب رنگ و نسل اور ذات پات آج بھی ہندوستانی ہے۔ اس ہندوستانی زبان میں آج ملک کی تقریب ڈیڑھ کروڑ عوام جو الگ الگ زبانیں بولتے ہیں سب کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھا ہے۔ تعصب اور تنگ نظری یا پھر کسی وجہ سے ہم جسے ہندوستانی کا نام دے رہے ہیں وہ ہندوستانی کیا ہے؟ ایسے متعصب ذہنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اردو دراصل اسی ہندوستانی بول چال کی معیاری شکل کا نام ہے۔

زبان کو روزمرہ کے کام تک ہی محدود رکھنا ہی کافی نہیں ہوتا۔بول چال کے علاوہ اس کا لکھنا اور پڑھنا بھی زبان والوں کے لئے بے حد ضروری ہے۔ خاص طور پر ان کے لیے جن کی یہ مادری زبان ہوتی ہے۔

جب تک کہ ہم اپنے بچوں اور گھر والوں کو اردو پڑھنے اور لکھنے کے لائق نہیں بنائیں گے تب تک اردو کے روشن مستقبل کی سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ ہمیں انفرادی طور پر اردو کے استعمال کو لازمی کرنا ہوگا۔ جب تک ہم انفرادی طور پر اردو کے استعمال کو لازمی نہیں کریں گے تب تک اردو کا تحفظ اور فروغ ممکن نہیں ہے۔

زبان کی اہمیت اس کے استعمال سے ہی قائل اور برقرار ہوتی ہے اور ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ کوئی زبان کسی بھی زبان سے بہتر نہیں ہوتی۔ دینی مدارس میں اردو کا ہی بول بالا ہے۔ اور مدرسے کے مولانا علماء بھی اردو کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہم سب کو بھی اردو کے فروغ میں حصہ لینا چاہیے۔

اردو کے استعمال کو کسر شام تصور نہ کریں۔ اردو زبان کا استعمال کریں۔ دیگر سرکاری اسکول دفتروں میں اردو زبان کا ہی استعمال کریں۔ ہماری خواہش یہی ہونی چاہیے کہ آنے والی نسلوں میں اردو زبان سے لگاؤ محبت اور الفت کو فروغ دیا جائے۔

Advertisements