جگنو پر ایک مضمون

جگنو ایک ایسا کیڑا ہے جس کو اللہ تعالی نے روشنی کے ساتھ ساتھ چمکنے کی صلاحیت سے نوازہ ہے۔ راتوں کو چمکتے جگنو ایک خوبصورت نظارہ دیتے ہیں۔ ان کی چمک سے ایسا لگتا ہے جیسے تارے زمین پر اتر آئے ہیں اور پوری زمین پر روشنی کے ساتھ بکھر گئے ہیں۔ علامہ اقبال نے جگنو کے بارے میں کیا خوب کہا ہے۔

جگنو کی روشنی ہے کاشانہ چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں

جب ایک جگنو کسی باغ میں اپنی روشنی لیے ہوئے پرواز کرتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ باغ نہیں ہے بلکہ پھولوں کی کوئی محفل سجی ہوئی ہے جہاں جگنو کی روشنی ایسے لگ رہی ہے جیسے شمع جل رہی ہو۔ یہ جگنو ہی ہے جس کی روشنی کے سبب پھولوں کی انجمن قائم ہوئی ہے۔

جگنو ایک چھوٹا سا روشن کیڑا ہے لیکن ایسا لگتا ہے جیسے آسمان پر نظر آنے والے چمکتے ستاروں میں سے کسی ستارے کا ٹکڑا ہے جو ٹوٹ کر زمین پر آ گیا ہے۔ جگنو کے چمکنے کا مقصد اپنے ساتھی کو روشنی دینا اور اپنے لئے کھانا تلاش کرنا ہوتا ہے۔ شہر میں جگنو بہت ہی کم نظر آتے ہیں لیکن گاؤں دیہات میں تو جگنؤں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔

1667ء میں سائنسدان رابٹ بائل نے جگنو جیسے چمکنے والے کیڑے کی تلاش کی تھی۔ پہلے سائنس دانوں کا ماننا تھا کہ جگنئوں کے جسم میں فاسفورس ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ چمکتے ہیں لیکن اٹلی کے سائنسدانوں نے ثابت کیا کہ جگنو کی چمک فاسفورس سے نہیں بلکہ لیو سفیرس نام والے پروٹین کے ذریعے ہوتی ہے۔ جگنو کی چمک کا رنگ کئی طرح کا ہرا، پیلا، لال ہوتا ہے۔ جگنو زیادہ تر راتوں کو ہی چمکتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ ایک دم پتلے اور دو پر والے ہوتے ہیں۔ یہ جنگل کے پیڑوں کی چھال میں انڈے دیتے ہیں۔

جگنو میں کچھ مادہ ہوتے ہیں اور کچھ نر ہوتے ہیں۔ مادہ جگنو کے پر نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ ایک ہی جگہ پر چمکتے ہیں اور نر جگنو کے پر ہوتے ہیں جس سے وہ ہر جگہ اڑ کر چمکتے ہیں۔ اسی وجہ سے جگنؤں کو آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ زیادہ چمکنے والے جگنو ویسٹنڈیز اور امریکہ میں پائے جاتے ہیں۔

دنیا کے بہت سے علاقوں میں جگنؤں کو بوتل میں اکھٹا کرکے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ ایک جگنو کی روشنی اتنی نہیں کام کرتی لیکن جگنؤں کا جھنڈ زیادہ روشنی پیدا کرتا ہے۔

جگنو کی زندگی سے ہم انسانوں کو سیکھ ملتی ہے جیسے وہ روشنی دے کر دوسروں کی زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم انسانوں کو بھی ایک دوسرے کی زندگی میں رنگ بھرنے چاہیے۔ جگنو جس طرح چمکتا ہے اور ایک ٹھنڈک کا احساس کراتا ہے اسی طرح ہمیں بھی ایک دوسرے کے لئے محبت اختیار کرنی چاہیے اور نفرت دلوں سے نکال دینی چاہیے۔

Advertisements