اخلاق

اخلاق لفظ خلق کی جمع ہے جس کے اردو معنی عادت کے ہیں۔ عادت بھی وہ جس کا تعلق فطرت سے ہو۔
اخلاق کی دو اقسام ہیں :

  • ۱) خوش اخلاقی
  • ۲) بد اخلاقی

خوش اخلاق انسان کو ہر شخص پسند کرتا ہے اور انسان کو اللہ کی جانب سے اجر بھی ملتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص جس کا اخلاق اچھا نہ ہو، اس سے کوئی بھی ملنا پسند نہیں کرتا اور ایسے انسان کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتا۔

اس بات کا ثبوت ہمیں مندرجہ ذیل حدیثِ نبویؐ سے ملتا ہے :
"فحش خوئی و فحش گوئی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور سب سے عمدہ اسلام اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے عمدہ ہو۔”
(مسند احمد ۵/۸۹ , الطبرانی الکبیر : ۲۰۷۲ بروایت جابر بن سمرۃ)

خوش اخلاقی

خوش اخلاقی اور بد اخلاقی کا تعلق اللہ اور اس کے بندوں سے ہے۔ اللہ سے حسنِ سلوک کرنے سے یہ مراد ہے کہ انسان اللہ پاک کے تمام احکامات کو دل سے تسلیم کرے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس پر عمل بھی کرے۔ اللہ کے بندوں سے حسنِ سلوک کرنے سے مراد یہ ہے کہ اُن سے بات چیت اور دیگر معاملات میں نرمی اختیار کی جائے۔ ان کی غلطیوں ، کوتاہیوں کو نظر انداز کر کے درگزر سے کام لیا جائے۔ اُن سے بالکل اسی طرح کا رویہ اختیار کیا جائے جیسا ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔ اپنے ارد گرد رہنے والوں کے لیے راحت کا باعث بننے کی کوشش کی جائے نہ کہ اُن کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں۔ کیونکہ جو شخص بد اخلاق ہوگا وہ روزِ قیامت نبی کریمؐ سے بہت دور ہوگا۔

اس لیے نبی کریمؐ نے اپنے صحابہ کرام کو خوش اخلاقی کا درس دیا اور عام مجمع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
"لوگو لوگو! فحش گوئی سے بچو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی و فحش و خوئی کو پسند نہیں فرماتا.”
یہ سن کر ایک صحابی کھڑے ہوکر پوچھنے لگے کہ :
"سب سے اچھا مسلمان کون ہے؟”
آپؐ نے فرمایا :
"جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں.”

(مسند احمد ۲/۱۵۹ , الحاکم ۱/۱۱ بروایت ابن عمرو)

خوش اخلاقی کے انفرادی و اجتماعی فوائد

خوش اخلاق ہونے کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

  • ۱) انسان اگر روز مرہ زندگی کے واقعات میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرے تو لوگ اس سے خوش ہونگے اور اُسے آخرت میں بھی اس بات کا فائدہ ہوگا۔
  • ۲) انسان کا خوش اخلاق ہونا اس کے جنت میں داخلے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

نبی کریمؐ سے سوال کیا گیا کہ :


"وہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ جنت میں جائیں گے؟”
آپؐ نے جواب دیا :
"اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور حسنِ خلق”

(سنن الترمذی : ۲۰۰۴ ابواب البر , بروایت ابوہریرہ.)

  • ۳) ہماری خوش اخلاقی سے ہمارے ارد گرد رہنے والے لوگ بھی متاثر ہو کر خوش اخلاقی کی عادت کو اپنائیں گے اور اس طرح معاشرہ بہتری کی جانب سفر طے کرے گا۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ زندگی کے معاملات میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں تاکہ اللہ پاک ہم سے خوش ہو کر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کریں۔